گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ لانگ مارچ اٹک سے آگے جا ہی نہیں سکتا، ان میں اتنی صلاحیت نہیں ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ جب دنیا میں پاکستان کا سافٹ امیج سامنے آتا ہے یہ ملک دشمنی کرتے ہیں۔ گورنر نے کہا کہ ان کے سابق وزیراعلیٰ نے کہا میں بھی بھتہ دیتا ہوں، وزیراعلیٰ کاصوبے …
پی ٹی آئی کے پاس لوگ نہیں، لانگ مارچ اٹک سے آگے نہیں جا سکتا، گورنر خیبرپختونخوا

مزید خبریں
پشاور۔ 06 اکتوبر (اے پی پی):گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ لانگ مارچ اٹک سے آگے جا ہی نہیں سکتا، ان میں اتنی صلاحیت نہیں ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ جب دنیا میں پاکستان کا سافٹ امیج سامنے آتا ہے یہ ملک دشمنی کرتے ہیں۔ گورنر نے کہا کہ ان کے سابق وزیراعلیٰ نے کہا میں بھی بھتہ دیتا ہوں، وزیراعلیٰ کاصوبے پر کنٹرول نہیں ۔ گورنر نے واضح کیا ہے کہ پارٹی کے لانگ مارچ کو اٹک سے آگے بڑھنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی ۔
گورنر نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ صوبہ خیبر پختونخوا اس وقت دہشت گردی کے عذاب سے گزر رہا ہے، لیکن اس کے باوجود یہ لوگ دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے بجائے اسلام آباد پر چڑھائی کرنے میں مصروف ہیں۔وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی سے اپنی حالیہ ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے گورنر فیصل کریم کنڈی نے بتایا کہ دونوں رہنماؤں کی سکیورٹی کی صورتحال اور پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات اور لانگ مارچ کے حوالے سے اکثر گفتگو ہوتی رہتی ہے۔
انہوں نے سکیورٹی کے حوالے سے تحفظات ظاہر کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر لانگ مارچ کے دوران کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آتا ہے، خاص طور پر جنوب کے علاقے سے کوئی شخص اسلام آباد میں سازش کے تحت داخل ہونا چاہے، تو پی ٹی آئی کے پاس اسے روکنے کا کیا نظام موجود ہے؟گورنر نے کے پی حکومت پر دہشتگردی کے واقعات پر پراسرار خاموشی اختیار کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ جب بھی وفاق ان سے عسکریت پسندی کے خلاف تعاون مانگتا ہے تو ان کا جواب ہوتا ہے کہ فوج کو صوبے سے نکال دیا جائے اور افغانستان کے ساتھ مذاکرات کیے جائیں۔انہوں نے عمران خان پر ماضی میں عسکریت پسندوں کو خیبر پختونخوا میں بسانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اسی وجہ سے انہیں طالبان خان کہا جاتا تھا۔
گورنر نے واضح کیا کہ گورنر راج ہمیشہ آخری حد اور آخری آپشن ہوتا ہے، سرجری ہمیشہ آخری حل ہوتی ہے، پہلے مریض کو ادویات پر رکھا جاتا ہے، کوئی بھی گورنر راج نہیں چاہتا، ہم چاہتے ہیں کہ معاملات معمول کے مطابق چلتے رہیں، اگر صدر و وزیراعظم فیصلہ کریں گے تو اس کا نفاذ کیا جائے گا۔








