امریکی حملوں میں 111 پیٹروکیمیکل اور فارماسیوٹیکل مراکز کو نقصان پہنچا، ایران

ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی حملوں کے نتیجے میں ملک بھر میں 111 پیٹروکیمیکل اور فارماسیوٹیکل تنصیبات کو نقصان پہنچا جس سے صنعتی سپلائی چینز اور کیمیائی ہتھیاروں کے خلاف بین الاقوامی معاہدے پر عمل درآمد بھی متاثر ہوا

تہران۔7اکتوبر (اے پی پی):ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی حملوں کے نتیجے میں ملک بھر میں 111 پیٹروکیمیکل اور فارماسیوٹیکل تنصیبات کو نقصان پہنچا جس سے صنعتی سپلائی چینز اور کیمیائی ہتھیاروں کے خلاف بین الاقوامی معاہدے پر عمل درآمد بھی متاثر ہوا ۔ بی بی سی کے مطابق ایران کے نمائندے ہادی فرج وند نے آرگنائزیشن فار دی پروہبیشن آف کیمکل ویپنز (او پی سی ڈبلیو)سے خطاب میں کہا کہ ایران کی کیمیائی صنعتوں کے خلاف امریکی فوجی کارروائی نے سپلائی چینز کو متاثر کیا اور کیمیکل ویپنز کنونشن پر عمل درآمد میں رکاوٹیں پیدا کی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی حملوں سے متاثر ہونے والی تنصیبات میں پیٹروکیمیکل اور دوا ساز صنعتوں کے مراکز شامل ہیں۔ایران اس سے قبل بھی او پی سی ڈبلیو میں اپنی صنعتی اور کیمیائی تنصیبات پر حملوں کے حوالے سے تشویش کا اظہار کر چکا ہے۔ حکام کا مؤقف ہے کہ ایسی تنصیبات کو نشانہ بنانے سے خطرناک کیمیائی مادوں کے اخراج کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے جو عوامی صحت اور ماحولیات کے لیے سنگین خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔ایران نے خبردار کیا ہے کہ کیمیائی اور صنعتی ڈھانچے پر حملے نہ صرف ملکی پیداوار اور سپلائی چینز کو متاثر کرتے ہیں بلکہ ان کے ممکنہ ماحولیاتی اثرات خطے کے دیگر ممالک تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔