وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان کو 1 ٹریلین ڈالر کی معیشت کا ہدف حاصل کرنے کے لیے معیشت کے ہر شعبے کو فعال کرنا ہوگا۔برآمدات میں نمایاں اور پائیدار اضافے کے بغیر پائیدار معاشی ترقی کا حصول ممکن نہیں۔ ان خیالات کاا ظہار انہوں نے اپنی زیر صدارت ’’اڑان پاکستان‘‘ فریم ورک کے تحت آٹھویں قومی اقتصادی مشن کے …
پاکستان کو 1 ٹریلین ڈالر کی معیشت کا ہدف حاصل کرنے کے لیے معیشت کے ہر شعبے کو فعال کرنا ہوگا،وفاقی وزیر احسن اقبال

مزید خبریں
اسلام آباد۔7اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان کو 1 ٹریلین ڈالر کی معیشت کا ہدف حاصل کرنے کے لیے معیشت کے ہر شعبے کو فعال کرنا ہوگا۔برآمدات میں نمایاں اور پائیدار اضافے کے بغیر پائیدار معاشی ترقی کا حصول ممکن نہیں۔ ان خیالات کاا ظہار انہوں نے اپنی زیر صدارت ’’اڑان پاکستان‘‘ فریم ورک کے تحت آٹھویں قومی اقتصادی مشن کے ایک اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، اجلاس میں ہائوسنگ، تعمیرات اور رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کے فروغ اور بحالی کے مشن پر غور کیا گیا ۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کو اپنی برآمدی صلاحیت اور پیداواری شعبوں کی استعداد کار بڑھانا ہوگی۔ مزید برآں معاشی خود انحصاری کے حصول کے لیے 2035ء تک برآمدات کو 100 ارب ڈالر تک لے جانا ناگزیر ہے۔احسن اقبال نے کہا کہ رئیل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے کسی بھی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، کیونکہ یہ شعبے متعدد صنعتوں سے جڑے ہوئے ہیں اور روزگار کے وسیع مواقع پیدا کرتے ہیں۔ بریفنگ میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی کہ تعمیراتی شعبہ 72 متعلقہ صنعتوں کو سہارا دیتا ہے اور ملکی روزگار میں اس کا حصہ تقریباً 9.5 فیصد ہے۔
وفاقی وزیر نے نشاندہی کی کہ پاکستان کو ہائوسنگ کے سنگین بحران کا سامنا ہے، آبادی میں اضافے کے باعث رہائش کی مانگ بڑھ رہی ہے جبکہ آبادی کا ایک بڑا حصہ اب بھی مناسب رہائشی سہولیات سے محروم ہے۔ پاکستان کی شہری آبادی 2017ء میں تقریباً 7 کروڑ 60 لاکھ (76 ملین) تھی جو 2023ء میں بڑھ کر 9 کروڑ 40 لاکھ (94 ملین) ہو گئی۔ ملک میں رہائش کی سالانہ طلب 7 لاکھ یونٹس ہے جبکہ رسد صرف 2 لاکھ 50 ہزار یونٹس ہے جس کے باعث ہر سال تقریباً 4 لاکھ 50 ہزار مکانات کی کمی کا سامنا ہے۔
وفاقی وزیر نے عمودی تعمیرات (ورٹیکل ڈویلپمنٹ) کو فروغ دینے، محدود اراضی کے بہتر استعمال اور زرعی زمینوں کو بے ہنگم پھیلائو سے بچانے کی ضرورت پر زور دیا۔ اجلاس میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق 2005ء سے 2022ء کے دوران تعمیر شدہ رقبے میں اسلام آباد میں 104 فیصد، لاہور میں 59 فیصد، کراچی میں 43 فیصد، پشاور میں 44 فیصد اور کوئٹہ میں 72 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو جدید ٹیکنالوجی، جدت اور زیادہ موثر تعمیراتی طریقہ کار اپنا کر شعبہ تعمیرات کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہوگا۔انہوں نے پاکستان کے ہنر مند اور تکنیکی افرادی قوت کے وسیع ذخیرے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی مزدوروں اور پیشہ ور افراد نے مشرق وسطیٰ میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے تاہم انہوں نے زور دیا کہ پاکستانی تعمیراتی کمپنیوں کو بھی عالمی سطح پر اپنی موثر موجودگی قائم کرنی چاہیے اور بین الاقوامی مارکیٹ میں مقابلہ کرنا چاہیے۔
وفاقی وزیر احسن اقبال نے اس بات پر زور دیا کہ ایک مستحکم معیشت کے قیام کے لیے سرکاری اور نجی شعبے کو باہم مل کر کام کرنا ہوگا جبکہ پائیدار معاشی ترقی کے لیے پالیسیوں کا تسلسل اور سیاسی استحکام بنیادی شرائط ہیں۔انہوں نے کہا کہ نجی شعبے کو معاشی ترقی کا انجن بننا چاہیے، پاکستان معیاری تعمیراتی مواد تیار کر رہا ہے اور اب توجہ ایسے منصوبوں پر مرکوز ہونی چاہیے جو برآمدات اور زرمبادلہ پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ تعمیراتی شعبے کو صرف ملکی ضروریات پوری کرنے تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اسے برآمدات، سرمایہ کاری اور زرمبادلہ کے حصول کا ایک ذریعہ بنایا جانا چاہیے۔
اجلاس میں ممبر پلاننگ کمیشن وقاص انور نے ہائوسنگ، تعمیرات اور رئیل اسٹیٹ سے متعلق مجوزہ اصلاحاتی فریم ورک پر بریفنگ دی۔ پریزنٹیشن میں تجویز کردہ اہداف کے تحت ’’ہائوس اونرشپ پلان فار ایوری ون‘‘ کے تحت سالانہ 3 لاکھ سے 4 لاکھ رہائشی یونٹس کی فراہمی اور 2035ء تک رہائشی قرضوں (مارگیج فنانس) کو جی ڈی پی کے 0.5 فیصد سے کم سے بڑھا کر 5 فیصد تک لے جانے کا خاکہ پیش کیا گیا۔ اصلاحات کے تحت مالی سال 2029ء تک اراضی کے ریکارڈ، اجازت ناموں، قیمتوں کے تعین اور جائیداد کی منتقلی کو ڈیجیٹائز کرنے کا ہدف بھی مقرر کیا گیا ہے جس کے ساتھ تعمیراتی منظوریوں کے لیے ون ونڈو سہولت، کام کی تصدیق کے مراحل سے مشروط مراعات اور رئیل اسٹیٹ لین دین کے لیے محفوظ ایسکرو پیمنٹس کا نظام شامل ہے۔








