وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی زیر صدارت وفاقی کمیٹی برائے زراعت کے ربیع سیزن کا 27واں اجلاس

وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ زراعت ملکی معیشت اور غذائی تحفظ کی بنیاد ہے، زرعی پیداوار میں اضافہ، پیداواری لاگت میں کمی، پانی اور زرعی مداخل کے موثر استعمال، معیاری اور موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ بیجوں کا فروغ، جدید ٹیکنالوجی اور منڈیوں سے روابط کو مضبوط بنانا حکومت کی اولین ترجیحات ہیں، ربیع سیزن 2026-27 کی فصلوں کے اہداف …

اسلام آباد۔7اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ زراعت ملکی معیشت اور غذائی تحفظ کی بنیاد ہے، زرعی پیداوار میں اضافہ، پیداواری لاگت میں کمی، پانی اور زرعی مداخل کے موثر استعمال، معیاری اور موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ بیجوں کا فروغ، جدید ٹیکنالوجی اور منڈیوں سے روابط کو مضبوط بنانا حکومت کی اولین ترجیحات ہیں، ربیع سیزن 2026-27 کی فصلوں کے اہداف گندم کی مجوزہ قیمت کے اعلان کے بعد حتمی کیے جائیں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے وفاقی کمیٹی برائے زراعت کے ربیع سیزن کے 27ویں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں ربیع سیزن کی فصلوں کے اہداف اور خریف سیزن کی فصلوں کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں صوبائی محکمہ ہائے زراعت، سٹیٹ بینک آف پاکستان، زرعی ترقیاتی بینک لمیٹڈ، محکمہ موسمیات پاکستان، انڈس ریور سسٹم اتھارٹی، وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے اعلیٰ افسران، پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل کے چیئرمین، وفاقی محکمہ تصدیق و رجسٹریشن بیج، پاکستان آئل سیڈ ڈیپارٹمنٹ اور دیگر اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ وفاقی وزیر نے اجلاس کے شرکا کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کسانوں کو درپیش بڑھتی ہوئی زرعی مداخل، توانائی اور نقل و حمل کی لاگت کے چیلنجز سے آگاہ ہے اور سستی زرعی مداخل اور کسانوں کو مناسب معاوضہ دینے والی قیمتوں کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے جن میں گندم کی مناسب مجوزہ قیمت کا تعین بھی شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ قومی بیج پالیسی، قومی زرعی بایوٹیکنالوجی پالیسی اور قومی زیتون پالیسی کی منظوری دی جا چکی ہے جبکہ معیار، غذائی تحفظ اور برآمدی مسابقت کو مضبوط بنانے کے لیے نیشنل ایگری ٹریڈ اینڈ فوڈ سیفٹی اتھارٹی قائم کی گئی ہے۔

رانا تنویر حسین نے کہا کہ حکومت انسانی وسائل کی ترقی میں بھی سرمایہ کاری کر رہی ہے اور زرعی گریجویٹس کو بین الاقوامی تربیت کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں جن میں زیتون کی ویلیو چین کے شعبے میں 100 گریجویٹس جبکہ چین میں ایک ہزار گریجویٹس کو تربیت فراہم کرنا شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ زراعت کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے وفاقی و صوبائی حکومتوں، تحقیقی اداروں، جامعات، نجی شعبے اور کسانوں کی مربوط کوششیں ضروری ہیں۔انہوں نے تمام متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ وہ ایسے عملی، جدید اور نتیجہ خیز اقدامات پر توجہ دیں جن سے پیداوار میں اضافہ، پیداواری لاگت میں کمی، کسانوں کی آمدن میں بہتری اور قومی غذائی تحفظ کو مضبوط بنایا جا سکے۔

وفاقی وزیر نے صوبوں کی زرعی توسیعی اور مشاورتی خدمات کو مزید مضبوط اور بہتر بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ جدید ٹیکنالوجی اور بہترین زرعی طریقہ ہائے کار کسانوں تک بروقت پہنچائے جا سکیں۔اجلاس میں خریف فصلوں کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ سات میں سے پانچ فصلوں، گنے، چاول، مکئی، مونگ اور مرچ کی پیداوار گزشتہ سال کے مقابلے میں بڑھی ہے۔ کمیٹی نے خریف فصلوں 2025-26 کی کارکردگی، ربیع فصلوں 2026-27 کے پیداواری منصوبے اور ربیع فصلوں کے لیے زرعی مداخل کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ 2025-26 کے دوران گنے کی پیداوار عارضی طور پر 9 کروڑ 72 لاکھ 93 ہزار 100 ٹن رہنے کا تخمینہ ہے جو 13 لاکھ 58 ہزار 620 ہیکٹر رقبے سے حاصل ہوئی۔

یہ وفاقی کمیٹی برائے زراعت کی جانب سے مقررہ اہداف کے مقابلے میں رقبے میں 18.5 فیصد اور پیداوار میں 21.1 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔چاول کی پیداوار 2025-26 کے دوران 39 لاکھ 2 ہزار 900 ہیکٹر رقبے سے ایک کروڑ 18 لاکھ 26 ہزار ٹن رہنے کا تخمینہ ہے جو وفاقی کمیٹی برائے زراعت کے مقررہ اہداف کے مقابلے میں رقبے میں 28.4 فیصد اور پیداوار میں 11 فیصد اضافہ ہے۔مکئی کی پیداوار 2025-26 کے دوران 18 لاکھ 32 ہزار 210 ہیکٹر رقبے سے 99 لاکھ 77 ہزار 70 ٹن رہنے کا تخمینہ ہے جو مقررہ ہدف کے مقابلے میں رقبے میں 21 فیصد اور پیداوار میں 3.2 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔مونگ کی پیداوار 2025-26 کے دوران 2 لاکھ 25 ہزار 700 ہیکٹر رقبے سے ایک لاکھ 71 ہزار 20 ٹن رہنے کا تخمینہ ہے جو مقررہ ہدف کے مقابلے میں رقبے میں 32.3 فیصد اور پیداوار میں 14.8 فیصد اضافہ ہے۔ مرچ کی فصل کے رقبے، پیداوار اور فی ہیکٹر پیداوار میں بھی گزشتہ سال کے مقابلے میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ربیع سیزن 2026-27 کی فصلوں کے اہداف گندم کی مجوزہ قیمت کے اعلان کے بعد حتمی کیے جائیں گے۔اجلاس میں ربیع فصلوں کے لیے بیج کی دستیابی کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ڈائریکٹر جنرل وفاقی محکمہ تصدیق و رجسٹریشن بیج نے اجلاس کو بتایا کہ ربیع سیزن 2026-27 کے لیے تصدیق شدہ بیج کی دستیابی تسلی بخش رہے گی۔ارسا کی مشاورتی کمیٹی نے تمام متعلقہ فریقوں کے اتفاق رائے سے دریائی رم سٹیشنز پر پانی کی 21.268 ملین ایکڑ فٹ متوقع آمد کی بنیاد پر ربیع سیزن 2026-27 کے لیے پانی کی صورتحال کا جائزہ لیا ،جس کے مطابق پنجاب اور سندھ میں 22 فیصد پانی کی کمی متوقع ہے جبکہ صوبوں کے لیے مجموعی طور پر 29.18 ملین ایکڑ فٹ پانی مختص کیا گیا ہے۔

محکمہ موسمیات نے اجلاس کو بتایا کہ گزشتہ تین ماہ بشمول مون سون سیزن، معمول سے کم بارشوں اور ستمبر میں بھی معمول سے کم بارشوں کے باعث ستمبر سے نومبر کے دوران زمین میں نمی کی کمی کا دبائو متوقع ہے تاہم اکتوبر اور نومبر میں زیادہ تر معمول سے زیادہ بارشوں کی توقع کے باعث صورتحال میں بہتری آنے کا امکان ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق ملک کے شمال مغربی علاقوں میں بعض مقامات پر بارش، ژالہ باری اور تیز ہوائیں کھڑی خریف فصلوں کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ پیش گوئی کی مدت کے دوران بالخصوص ملک کے بالائی نصف حصے میں آبپاشی کے لیے خاطر خواہ مقدار میں پانی دستیاب ہوگا تاہم ملک کے زیریں نصف حصے میں آئندہ ربیع فصلوں کے لیے دستیاب پانی کے ذخائر کے دانشمندانہ استعمال کی سفارش کی گئی ہے۔

اس موقع پر مزید بتایا گیا کہ حکومت کے زرعی شعبے کے فروغ کے ایجنڈے کے تحت زرعی شعبے میں قرضوں کے بہائو میں اضافے کے لیے سٹیٹ بینک آف پاکستان نے مالی سال 2026ء کے لیے زرعی قرضوں کی تقسیم کا 3,062 ارب روپے کا اشارتی ہدف مقرر کیا تھا جو گزشتہ سال کے 2,573 ارب روپے کے قرضوں کی تقسیم کے مقابلے میں 19 فیصد زیادہ ہے۔اس وقت متعدد مالیاتی ادارے کسانوں کو زرعی قرضے فراہم کر رہے ہیں جن میں پانچ بڑے کمرشل بینک، 12 درمیانے اور چھوٹے ملکی نجی بینک، چھ اسلامی بینک، دو خصوصی بینک جن میں زرعی ترقیاتی بینک لمیٹڈ اور پنجاب پراونشل کوآپریٹو بینک لمیٹڈ شامل ہیں، 11 مائیکروفنانس بینک اور 11 مائیکروفنانس ادارے/دیہی معاونتی پروگرام شامل ہیں۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ مالی سال 2025-26 کے دوران زرعی قرضہ فراہم کرنے والے اداروں نے 3,231.6 ارب روپے کے قرضے فراہم کیے۔ربیع سیزن 2026-27 کے لیے یوریا کی مجموعی دستیابی کا تخمینہ 39 لاکھ 50 ہزار ٹن لگایا گیا ہے جس میں 7 لاکھ 65 ہزار ٹن ابتدائی ذخیرہ اور 31 لاکھ 85 ہزار ٹن ملکی پیداوار شامل ہے۔

یوریا کی متوقع کھپت تقریباً 35 لاکھ 96 ہزار ٹن رہنے کا امکان ہے۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ ڈی اے پی کھاد کی مجموعی دستیابی 7 لاکھ 66 ہزار ٹن جبکہ متوقع کھپت 8 لاکھ 38 ہزار ٹن ہوگی۔ ڈی اے پی کی طلب اور رسد کے درمیان فرق نجی شعبے کے ذریعے درآمدات سے پورا کیا جائے گا۔اجلاس میں خریف فصلوں 2026-27 کے اہداف اور حاصل کردہ پیداوار کا بھی جائزہ لیا گیا۔ کپاس کا زیر کاشت رقبہ 17 لاکھ 59 ہزار 140 ہیکٹر رہا جو 21 لاکھ 60 ہزار 300 ہیکٹر کے ہدف سے 18.6 فیصد کم ہے جبکہ پیداوار 67 لاکھ 14 ہزار 210 گانٹھیں رہی جو 96 لاکھ 42 ہزار 930 گانٹھوں کے ہدف سے 30.4 فیصد کم ہے۔گنے کا زیر کاشت رقبہ 13 لاکھ 58 ہزار 620 ہیکٹر رہا جو 11 لاکھ 46 ہزار 700 ہیکٹر کے ہدف سے 18.5 فیصد زیادہ ہے جبکہ پیداوار 9 کروڑ 72 لاکھ 93 ہزار 100 ٹن رہی جو 8 کروڑ 3 لاکھ 20 ہزار ٹن کے ہدف سے 21.1 فیصد زیادہ ہے۔

چاول کا زیر کاشت رقبہ 39 لاکھ 2 ہزار 800 ہیکٹر رہا جو 30 لاکھ 39 ہزار 400 ہیکٹر کے ہدف سے 28.4 فیصد زیادہ ہے جبکہ پیداوار ایک کروڑ 18 لاکھ 25 ہزار ٹن رہی جو 91 لاکھ 70 ہزار ٹن کے ہدف سے 11 فیصد زیادہ ہے۔مکئی کا زیر کاشت رقبہ 18 لاکھ 32 ہزار 310 ہیکٹر رہا جو 15 لاکھ 14 ہزار ہیکٹر کے ہدف سے 21 فیصد زیادہ ہے جبکہ پیداوار 99 لاکھ 77 ہزار 70 ٹن رہی جو 96 لاکھ 65 ہزار 600 ٹن کے ہدف سے 3.2 فیصد زیادہ ہے۔مونگ کا زیر کاشت رقبہ 2 لاکھ 25 ہزار 700 ہیکٹر رہا جو ایک لاکھ 70 ہزار 620 ہیکٹر کے ہدف سے 32.3 فیصد زیادہ ہے جبکہ پیداوار ایک لاکھ 71 ہزار 20 ٹن رہی جو ایک لاکھ 48 ہزار 980 ٹن کے ہدف سے 14.8 فیصد زیادہ ہے۔

ماش کا زیر کاشت رقبہ 6 ہزار 410 ہیکٹر رہا جو 10 ہزار ہیکٹر کے ہدف سے 36 فیصد کم ہے جبکہ پیداوار 4 ہزار 910 ٹن رہی جو 8 ہزار 200 ٹن کے ہدف سے 40.1 فیصد کم ہے۔مرچ کا زیر کاشت رقبہ 51 ہزار 10 ہیکٹر رہا جو 54 ہزار 400 ہیکٹر کے ہدف سے 6.2 فیصد کم ہے جبکہ پیداوار ایک لاکھ 19 ہزار 490 ٹن رہی جو ایک لاکھ 46 ہزار 360 ٹن کے ہدف سے 18.4 فیصد کم ہے۔