زرعی شعبے کی ترقی اولین ترجیح ہے، رانا تنویر حسین

وفاقی وزیر برائے غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ فوڈ سکیورٹی انتہائی اہم شعبہ ہے

لاہور۔8اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ فوڈ سکیورٹی انتہائی اہم شعبہ ہے اور قومی سلامتی براہِ راست فوڈ سکیورٹی سے منسلک ہے، اگر ملک میں خوراک کی دستیابی یقینی نہ ہو تو قومی سلامتی کو بھی مکمل طور پر یقینی نہیں بنایا جا سکتا، زرعی شعبے کی ترقی اولین ترجیح ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو نیشنل ریسکیو چیلنج 2026 کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان زرعی ملک ہے اور اللہ تعالی کے فضل سے تقریبا 260 ملین آبادی کی غذائی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ چاول، مکئی اور آلو سمیت مختلف زرعی اجناس برآمد بھی کر رہا ہے۔ وزیراعظم محمدشہباز شریف زرعی شعبے کو خصوصی اہمیت دے رہے ہیں اور اس کی ترقی کے لیے دن رات کام کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ زراعت، لائیو اسٹاک اور دیگر متعلقہ شعبوں میں نئی ٹیکنالوجی متعارف کرائی جا رہی ہے جبکہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے بہتر اور زیادہ مزاحمت رکھنے والے بیج متعارف کرانے پر بھی کام جاری ہے۔رانا تنویر حسین نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کا پاکستان پر نمایاں اثر پڑا ہے، حالانکہ عالمی کاربن اخراج میں پاکستان کا حصہ انتہائی کم ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی اور موسمیاتی مزاحمت رکھنے والے طریقوں کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی اور بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے اثرات سب سے زیادہ پاکستان کو برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی کے باعث پاکستان کو زلزلوں، سیلاب اور دیگر قدرتی آفات جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے، جن کے اثرات آنے والے عرصے میں بھی برقرار رہنے کا خدشہ ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ عالمی برادری نے موسمیاتی تبدیلی کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے پاکستان کے ساتھ مالی معاونت کا عزم کیا تھا، تاہم اس وعدے کا خاطرخواہ حصہ تاحال پورا نہیں کیا گیا، عالمی برادری کو اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے پاکستان کی مدد کرنی چاہیے۔انہوں نے ریسکیو اداروں کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ قدرتی آفات کے دوران ریسکیو اہلکاروں نے لاکھوں افراد کو مشکل حالات سے نکالا، لوگوں کو پانی سے محفوظ مقامات پر منتقل کیا اور قیمتی جانیں بچائیں، یہ کوئی معمولی کارنامہ نہیں۔انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ریسکیو سروسز کو مزید تیار اور مضبوط بنانے کی ضرورت ہے، ریسکیو ادارے پہلے ہی اس حوالے سے بھرپور کام کر رہے ہیں اور مستقبل میں ان کی استعداد کار مزید بڑھانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ دیگر صوبوں کو پنجاب کی ایمرجنسی سروسز اکیڈمی اور ریسکیو سیٹ اپ کا ضرور مشاہدہ کرنا چاہیے اور اس ماڈل کو آگے لے کر جانا چاہیے تاکہ اپنے صوبوں میں بھی مثالی ایمرجنسی سروسز قائم کی جا سکیں۔انہوں نے کہا کہ ریسکیو سروسز کو جدید معیار کے مطابق ڈھالنے، بہترین آلات اور سہولیات فراہم کرنے پر توجہ دینا ضروری ہے۔