نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان اور بحرین نے تجارت و سرمایہ کاری، صنعتی تعاون، زراعت و غذائی تحفظ، ہنرمندی، اعلیٰ تعلیم، انفارمیشن ٹیکنالوجی، لاجسٹکس اور بحری امور سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے جبکہ دونوں ممالک نے خلیج تعاون کونسل اور پاکستان کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے کے عزم کا …
پاکستان بحرین کا تجارت و سرمایہ کاری سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق، نائب وزیراعظم اور بحرین کے وزیر خارجہ کی مشترکہ پریس کانفرنس

مزید خبریں
اسلام آباد۔8اکتوبر (اے پی پی):نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان اور بحرین نے تجارت و سرمایہ کاری، صنعتی تعاون، زراعت و غذائی تحفظ، ہنرمندی، اعلیٰ تعلیم، انفارمیشن ٹیکنالوجی، لاجسٹکس اور بحری امور سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے جبکہ دونوں ممالک نے خلیج تعاون کونسل اور پاکستان کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے کے عزم کا بھی اظہار کیا ہے ۔ بحرین کے وزیر خارجہ ڈاکٹر عبداللطیف بن راشد الزیانی نے کہا کہ پاکستان اور بحرین کے درمیان تعلقات انتہائی واضح اور مخلصانہ نوعیت کے ہیں اور اب دونوں ممالک کی توجہ اپنے مضبوط تعلقات کو مزید عملی نتائج میں تبدیل کرنے اور مستقبل میں تعاون کے مزید مواقع تلاش کرنے پر ہے۔پاکستان بحرین مشترکہ وزارتی کمیشن کے تیسرے اجلاس کے اختتام پر بحرین کے وزیر خارجہ ڈاکٹر عبداللطیف بن راشد الزیانی کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ اجلاس انتہائی دوستانہ اور تعمیری ماحول میں منعقد ہوا جس میں پاکستان اور بحرین کے درمیان دیرینہ دوستی، برادرانہ تعلقات اور باہمی اعتماد کی عکاسی ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 50ویں سالگرہ ہے اور اس موقع پر دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا ہے۔سینیٹر اسحاق ڈار نے بتایا کہ مشترکہ وزارتی کمیشن کے تیسرے اجلاس کا پروٹوکول طے پا گیا ہے جو باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط اور وسعت دینے کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اجلاس کا اہم نتیجہ متعدد مشترکہ ورکنگ گروپس کو فعال بنانا ہے، جو باقاعدہ رابطے اور مشترکہ وزارتی کمیشن کے فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے میں مدد دیں گے۔نائب وزیراعظم نے کہا کہ دونوں ممالک نے تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ، صنعتی تعاون، زراعت و غذائی تحفظ، ہنرمندی کی ترقی، اعلیٰ تعلیم، انفارمیشن ٹیکنالوجی، لاجسٹکس اور بحری امور سمیت متعدد شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔انہوں نے دونوں ممالک کی کاروباری برادریوں کے درمیان قریبی روابط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس شعبے میں مزید تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔
سینیٹر اسحاق ڈار نے بحرین میں پاکستانی کمیونٹی کی قابل قدر خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستانی برادری دونوں برادر ممالک کے درمیان ایک مضبوط پل کا کردار ادا کر رہی ہے، لیبر موبیلٹی، پیشہ ورانہ تربیت اور انسانی وسائل کی ترقی کے شعبوں میں تعاون مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا ہے تاکہ ہنرمند پاکستانی پیشہ ور افراد اور کارکنوں کے لیے نئے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔نائب وزیراعظم نے کہا کہ اجلاس میں خلیج کی بدلتی ہوئی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا اور مسلسل کشیدگی میں کمی، مذاکرات اور سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب کے ذریعے محفوظ اور آزادانہ آمدورفت یقینی بنانا ضروری ہے کیونکہ ان آبی راستوں کی علاقائی اور عالمی غذائی و توانائی سلامتی کے حوالے سے اہمیت ہے۔سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت میں تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔انہوں نے فلسطین کی سنگین صورتحال پر بھی بات چیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے فلسطینی عوام اور ان کے ناقابل تنسیخ حقوق کے لیے اپنی اصولی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ غیر قانونی بستیوں کی مسلسل توسیع اور القدس الشریف کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا جبکہ غزہ کے عوام تک بلا رکاوٹ انسانی امداد کی فوری فراہمی کی ضرورت پر زور دیا گیا۔نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے متعلقہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق منصفانہ اور دیرپا حل کے لیے اپنی حمایت کا بھی اعادہ کیا۔انہوں نے جنوبی ایشیا کی صورتحال، افغانستان اور سندھ طاس معاہدے سمیت مختلف امور پر بھی تبادلہ خیال کا ذکر کیا۔سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے اس امر کی ضرورت پر زور دیا کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو۔سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے نائب وزیراعظم نے کہا کہ بھارت کی جانب سے معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنا بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی اور مشترکہ آبی وسائل کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی خطرناک کوشش ہے، ایسا اقدام پاکستان کے 25 کروڑ عوام کی پانی، غذائی اور توانائی کی سلامتی کو خطرے میں ڈالتا ہے۔نائب وزیراعظم نے بحرین کے وزیر خارجہ اور ان کے وفد کا مشترکہ وزارتی کمیشن کے اجلاس کی کامیابی میں تعمیری شرکت اور قیمتی کردار پر شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان چوتھے مشترکہ وزارتی کمیشن کے اجلاس کی میزبانی بحرین میں ہونے کا منتظر ہے اور اس حوالے سے یہ عزم کیا گیا ہے کہ آئندہ اجلاس موجودہ اجلاس کی طرح پانچ سال کے وقفے کے بعد نہیں بلکہ 2027 میں 365 دن کے اندر منعقد کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بحرین کی دوستی مضبوط اور مستقبل پر مرکوز ہے، دونوں برادر ممالک بین الاقوامی فورمز پر ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہیں اور جہاں بھی موقع ملتا ہے باہمی رابطے جاری رکھتے ہیں۔سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا کہ دونوں ممالک مشترکہ طور پر مزید خوشحال مستقبل کی تعمیر اور تجارت و اقتصادی تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے پرعزم ہیں۔اس موقع پر بحرین کے وزیر خارجہ ڈاکٹر عبداللطیف بن راشد الزیانی نے کہا کہ پاکستان اور بحرین کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کے 55 سال مکمل ہونے جا رہے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات، اعتماد اور یکجہتی کو حالیہ اعلیٰ سطح کے دوروں سے مزید تقویت ملی ہے۔انہوں نے وزیراعظم محمد شہباز شریف کے نومبر 2025 اور صدر مملکت آصف علی زرداری کے جنوری 2026 میں بحرین کے دوروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات میں نئی رفتار پیدا ہوئی ہے۔
بحرینی وزیر خارجہ نے اسلام آباد میں کنگ حمد یونیورسٹی فار نرسنگ اینڈ الائیڈ میڈیکل سائنسز اور بحرین میں ایک لاکھ 40 ہزار سے زائد پاکستانیوں کی خدمات کو دونوں ممالک کے درمیان مضبوط روابط کی مثال قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک نے مشترکہ وزارتی کمیشن کے تیسرے اجلاس کے متفقہ منٹس پر دستخط کیے ہیں جس میں 15 سے زائد شعبوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ تجارت اور سرمایہ کاری کے حوالے سے مشترکہ ورکنگ گروپ قائم کرنے، آئندہ ماہ تیل، گیس اور معدنیات سے متعلق توانائی کے مشترکہ ورکنگ گروپ کا اجلاس منعقد کرنے اور غذائی تحفظ، انفارمیشن ٹیکنالوجی، قانون نافذ کرنے والے اداروں، میڈیا، لیبر موبیلٹی، صحت، تعلیم، ثقافت اور کھیل سمیت مختلف شعبوں میں تعاون آگے بڑھانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔بحرینی وزیر خارجہ نے کہا کہ دونوں ممالک نے جی سی سی اور پاکستان کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے کے عزم کا بھی اظہار کیا ہے اور آئندہ سال 2027 میں بحرین میں ہونے والے چوتھے مشترکہ وزارتی کمیشن کے اجلاس میں اس حوالے سے پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا۔انہوں نے جاری علاقائی بحران کے دوران پاکستان کے اصولی مؤقف کو سراہتے ہوئے سلامتی کونسل کی قرارداد 2817 کے لیے پاکستان کی حمایت اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ مل کر امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات اور کشیدگی میں کمی کے لیے پاکستان کی کوششوں، بشمول اسلام آباد مذاکرات کی میزبانی، کو سراہا۔
بحرینی وزیر خارجہ نے 6 اور 7 اکتوبر کو ابہا انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر دہشت گرد حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان حملوں میں شہری اور مقامی افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے۔انہوں نے سعودی عرب میں حوثی ملیشیا کی جانب سے شہریوں اور شہری تنصیبات پر حملوں اور مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ جیسے مقدس ترین مقامات پر حملوں کی بھی مذمت کی۔انہوں نے کہا کہ ہوائی اڈوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔بحرینی وزیر خارجہ نے آبنائے ہرمز اور باب المندب میں تجارتی بحری جہازوں کو درپیش حملوں کا ذکر کرتے ہوئے آزادانہ اور محفوظ بحری آمدورفت اور بین الاقوامی قانون کے احترام کی اہمیت پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کے غیر مستقل ارکان کی حیثیت سے پاکستان اور بحرین نیویارک میں اپنی مستقل مشنز کے درمیان قریبی رابطہ کاری جاری رکھیں گے۔انہوں نے بتایا کہ وہ اپنے دورہ پاکستان کے دوران صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم محمد شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز و چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات کریں گے اور بحرین کی قیادت کی جانب سے تہنیتی پیغامات پہنچانے کے علاوہ دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کریں گے۔
بحرینی وزیر خارجہ نے کہا کہ ان کا دورہ پاکستان دونوں ممالک کے تعلقات کی اسٹریٹجک نوعیت کی توثیق کرتا ہے اور دونوں ممالک آج کے اجلاس کے نتائج کو آگے بڑھانے، اپنے ممالک، خطے اور اس سے باہر امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے مل کر کام کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ایک سوال کے جواب میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ دونوں ممالک بین الاقوامی فورمز پر ایک دوسرے کے ساتھ رابطے میں رہتے، مشاورت کرتے اور اپنے خیالات و امور کا تبادلہ کرتے ہیں۔نائب وزیراعظم نے کہا کہ بحرین کے وزیر خارجہ نے 2025 کی پاک بھارت جنگ اور پاکستان کی جانب سے امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کے دوران مسلسل رابطہ رکھا، پیش رفت کے بارے میں دریافت کیا اور اپنے خیالات کا اظہار کیا، جس پر وہ ان کے شکر گزار ہیں۔ایک سوال پر ڈاکٹر عبداللطیف بن راشد الزیانی نے کہا کہ پاکستان اور بحرین کے درمیان تعلقات انتہائی واضح اور مخلصانہ نوعیت کے ہیں، دونوں ممالک ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں اور یہی دو ریاستوں کے درمیان تعلقات کی بنیادی خصوصیت ہے۔انہوں نے کہا کہ بحرین میں ایک لاکھ 40 ہزار سے زائد پاکستانی مقیم ہیں جو بحرینی شہریوں کے ساتھ مل کر ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں اور بحرین ان کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
بحرینی وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اور بحرین کے تعلقات مسلسل مضبوط اور مستحکم ہوئے ہیں، اب دونوں ممالک کی توجہ اپنے مضبوط تعلقات کو مزید عملی نتائج میں تبدیل کرنے اور مستقبل میں تعاون کے مزید مواقع تلاش کرنے پر ہے۔








