سپریم کورٹ نے اپنے پانچ سالہ بچے کو قتل کرنے کے الزام میں گرفتار ملزمہ انیقہ کو عدم شواہد پر بری کردیا۔ جسٹس ملک شہزاد احمد خان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے جمعرات کو کیس کی سماعت کی۔
سپریم کورٹ نے پانچ سالہ بچے کے قتل کے الزام میں ماں کو عدم شواہد پر بری کردیا

مزید خبریں
اسلام آباد۔8اکتوبر (اے پی پی):سپریم کورٹ نے اپنے پانچ سالہ بچے کو قتل کرنے کے الزام میں گرفتار ملزمہ انیقہ کو عدم شواہد پر بری کردیا۔
جسٹس ملک شہزاد احمد خان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے جمعرات کو کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت ملزمہ کے وکیل پرنس ریحان نے مؤقف اپنایا کہ ملزمہ پر بچے کو جلا کر قتل کرنے کا الزام ہے تاہم اس کے خلاف کوئی ٹھوس شواہد موجود نہیں۔وکیل نے کہا کہ ملزمہ کے خلاف نہ پٹرول اور نہ ہی کوئی دوسری چیز برآمد ہوئی جبکہ کوئی براہ راست گواہ بھی موجود نہیں ہے۔سرکاری وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزمہ کا اپنا ویڈیو بیان موجود ہے اور اس نے ایک ٹی وی پروگرام میں بچے کو قتل کرنے کا اعتراف بھی کیا تھا۔
جسٹس شکیل احمد نے ریمارکس دیے کہ صرف ٹی وی پروگرام قابل قبول شواہد نہیں، ٹی وی پروگرام کے ساتھ دیگر شواہد بھی ہونے چاہئیں۔جسٹس شکیل احمد نے کہا کہ تفتیشی افسر نے مقدمے میں اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی، جبکہ جسٹس ملک شہزاد نے ریمارکس دیے کہ گواہوں اور میڈیکل رپورٹ میں تضاد موجود ہے۔ملزمہ انیقہ پر اپنے پانچ سالہ بچے کو قتل کرنے کا الزام تھا، جس کے خلاف اسلام آباد کے تھانہ سہالہ میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ نے شواہد ناکافی ہونے کی بنیاد پر ملزمہ کو بری کردیا۔








