مہنگائی میں اضافہ کے دوران صارفین کیلئے سبسڈیز کی بجائے ہدف پر مبنی تعاون سے عوام کاتحفظ ممکن ہے، آئی ایم ایف

گزشتہ پانچ سال کے دوران روزمرہ کی ضروری اشیاء بشمول راشن اور بجلی سے لے کر ایندھن کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، اس کی بڑی وجہ اجناس کی عالمی منڈیوں میں پیدا ہونے والا خلل ہے، جس کا آغاز 2022 میں یوکرین ، روس تنازعہ کے آغاز سے ہوا اور یہ سلسلہ مشرقِ وسطیٰ کے جاری تنازعہ تک پھیل چکا ہے۔

اسلام آباد۔8اکتوبر (اے پی پی):گزشتہ پانچ سال کے دوران روزمرہ کی ضروری اشیاء بشمول راشن اور بجلی سے لے کر ایندھن کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، اس کی بڑی وجہ اجناس کی عالمی منڈیوں میں پیدا ہونے والا خلل ہے، جس کا آغاز 2022 میں یوکرین ، روس تنازعہ کے آغاز سے ہوا اور یہ سلسلہ مشرقِ وسطیٰ کے جاری تنازعہ تک پھیل چکا ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے اپنے ایک بلاگ میں کہا ہے کہ زندگی گزارنے کیلئے روز مرہ کے اخراجات میں اضافہ کے بحرانوں کے دوران خوراک اور توانائی جیسی بنیادی ضروریات کی قیمتوں میں نمایا ں اضافہ ہوجاتا ہے جو دیگر مختلف اشیاء کی قیمتوں اور اجرتوں میں اضافہ کی شرح سے کہیں زیادہ ہوتا ہے۔ عوام کے لیے بنیادی ضروریات میں کمی لانا یا ان کا متبادل تلاش کرنا مشکل ہوتا ہے جس کے باعث قیمتوں میں عارضی اضافہ بھی شدید مشکلات کا باعث بن سکتا ہے اور اس کے اثرات محض چند ماہ کی بلند مہنگائی کی شرح تک ہی محدود نہیں رہتے۔ورلڈ اکنامک آؤٹ لک کی ایک تازہ ترین تجزیاتی رپورٹ کے مطابق اس طرح کے بحران مجموعی معاشی استحکام کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ کسی بھی بحرانی دور کے آغاز کے بعد ایک سال سے زائد عرصہ تک دیگر اشیاء کے مقابلے میں بنیادی ضروریات کی قیمتوں میں اضافہ جاری رہتا ہے اور وہ مسلسل بلند سطح پر برقرار رہتی ہیں۔

جس کے نتیجہ میں لوگوں کو نہ صرف خوراک اور توانائی کے اخراجات میں اضافہ کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ دیگر اشیاء کے مقابلے میں بنیادی ضروریات کی تکمیل میں بھی طویل عرصہ کیلئے کمی واقع ہوتی ہے۔مزید برآں خوراک اور توانائی کی قیمتوں میں ابتدائی اضافہ کے طویل عرصے بعد بھی مہنگائی کی سطح بلند رہتی ہے جو کسی بھی بحران سے قبل کی سطح سے بلند رہتی ہیں اور اس طرح کے حالات مرکزی بینکوں کی جانب سے مہنگائی پر قابو پانے کی کوششوں کو پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ قوتِ خرید بھی کمزور پڑ جاتی ہے کیونکہ حقیقی اجرتوں میں کمی آتی ہے اور وہ طویل عرصے تک اپنی سابقہ ​​سطح سے نیچے رہتی ہیں۔ غریب خاندان اس غیر متناسب بوجھ سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں کیونکہ کم آمدنی والے خاندانوں کے مجموعی اخراجات میں خوراک اور توانائی کا حصہ زیادہ ہوتا ہے، اس لیے زندگی گزارنے کے اخراجات میں اضافے کے بحرانوں کے دوران انہیں امیر گھرانوں کی نسبت کہیں زیادہ مہنگائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ اس طرح کے بحران اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اس سے معیار زندگی میں کمی اور عدم مساوات میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔

آئی ایم ایف نے تجویز پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں قیمتوں میں کمی کیلئے زیادہ تر خوراک اور توانائی کی مصنوعات پر ویلیو ایڈڈ یا ایکسائز ٹیکسوں میں کمی کی جاتی جو صارفین کے لیے قیمتوں میں اضا فہ کو محدود کرتی ہیں۔ اس کے برعکس ابھرتی ہوئی منڈیوں اور کم آمدنی والے ممالک میں سپلائی چینز میں لاگت کے دباؤ کو دور کرنے کی پالیسیاں اختیار کی جاتی ہیں جن میں پروڈیوسر ز کیلئے سبسڈی، کسٹم ڈیوٹی میں کمی یا قیمتوں پر کنٹرول کے اقدامات غیر رسمی خوردہ منڈیوں کے پھیلاؤ میں اضافہ کی عکاسی کرتے ہیں۔اسی طرح بعض ممالک براہ راست آمدنی میں بھی مددفراہم کرتے ہیں جب کہ ترقی یافتہ معیشتوں میں بڑی حد تک ٹارگٹڈ مراعات پر انحصار، اجرتوں اور پنشن میں اضافہ بھی کیا جاتا ہے۔بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے کہا ہے کہ اس طرح کی حکومتی مداخلتیں فوری طور پر ریلیف فراہم کر سکتی ہیں لیکن ان میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اس طرح کے اقدامات کمزور گھرانوں کی کس حد تک مؤثر طریقے سے حفاظت اور عوامی مالیات پر کتنا بوجھ ڈالتے ہیں۔آئی ایم ایف نے تجویز پیش کی ہے کہ مہنگائی پر قابو پانے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے ٹارگٹڈ سبسڈیز غریب گھرانوں کی حفاظت کے لیے سب سے زیادہ موثر اور کفایتی طریقہ ہے جس سے براہ راست ان لوگوں کی مدد کی جا سکتی ہے جنہیں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔

ٹارگٹڈ سبسڈیز قلیل مالیاتی وسائل کو محفوظ رکھنے کے ساتھ ساتھ صارفین کی حوصلہ افزائی کرتی ہے تاکہ اگر ممکن ہو تو وہ کھپت کو کم کریں۔ قیمتوں پر قابو پانے کے اقدامات بہت کم موثر ہیں کیونکہ اس سے مہنگائی اور افراط زر کی توقعات پر قابو پا کر مختصر مدت کیلئے مانیٹری پالیسی ٹریڈ آف کو تو آسان بنا یا جا سکتا ہے لیکن اس پر نمایاں طور پر زیادہ مالی اخراجات پر بھی آتے ہیں۔آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ صارفین کی سبسڈی کے ذریعے کم آمدنی والے خاندانوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ٹارگٹڈ سبسڈیز کے مقابلہ میں تین سے چھ گنا زیادہ مالی وسائل درکار ہوتے ہیں۔ قیمتوں پر قابو پانے کے اقدامات ٹارگٹڈ سبسڈیز کے مقابلے میں مالی اخراجات میں نمایاں اضافہ کر سکتے ہیں کیونکہ زیادہ تر معاونت ایسے افراد تک نہیں پہنچ پاتی جنہیں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ یورپ میں 23-2022 کے توانائی بحران سے واضح ہوتا ہے کہ بجلی، قدرتی گیس اور پٹرول کی قیمتوں میں کمی کیلئے خرچ کیے جانے والے ہر یورو میں سے صرف 20 سینٹ سے بھی کم رقم غریب ترین گھرانوں کے پانچویں حصے تک ہی پہنچ سکی تھی ۔بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے خبردار کیا ہے کہ اس طرح کی پالیسیاں مالیاتی بوجھ بھی پیدا کرسکتی ہیں۔ آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ زندگی گزارنے کے اخراجات میں اضافہ کا بحران معاشی اور سماجی اخراجات کے مسائل کا بھی باعث بنتا ہےاور خاص طور پر کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے مسائل نمایاں حد تک بڑھ جاتے ہیں ۔

آئی ایم ایف نے تجویز پیش کی کہ اس طرح کے بحران میں ضرورت کے وقت عارضی اور ہدف پر مبنی معاونت ہی فراہم کی جانی چاہیے تاکہ حقیقی ضرورت مند افراد کی مالی پریشانیوں کو کم کرنے میں مدد فراہم کیا جا سکے ۔ جس کیلئے سماجی تحفظ کے موجودہ نظاموں سے استفادہ کیا جا سکتاہے جن میں بوقت ضرورت تیزی سے اضافہ بھی کیا جا سکتا ہے۔

 

مزید خبریں