قائم مقام چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر نے 8 اکتوبر 2005ء کے تباہ کن زلزلے کے نتیجے میں جاں بحق افراد کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ 8اکتوبر کا زلزلہ قومی تاریخ میں ایک ایسا دردناک سانحہ ہے جس کے اثرات آج بھی متاثرہ خاندانوں اور علاقوں کی یادوں میں موجود ہیں
قائم مقام چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر کا 8 اکتوبر 2005ء کے زلزلے کے شہداء کو خراجِ عقیدت

مزید خبریں
اسلام آباد۔8اکتوبر (اے پی پی):قائم مقام چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر نے 8 اکتوبر 2005ء کے تباہ کن زلزلے کے نتیجے میں جاں بحق افراد کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ 8اکتوبر کا زلزلہ قومی تاریخ میں ایک ایسا دردناک سانحہ ہے جس کے اثرات آج بھی متاثرہ خاندانوں اور علاقوں کی یادوں میں موجود ہیں،اس قدرتی آفت نے بڑے پیمانے پر انسانی نقصان کے ساتھ ساتھ بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید متاثر کیا تاہم پوری قوم نے دکھ کی اس گھڑی میں متاثرین کو تنہا نہیں چھوڑا اور ہر ممکن تعاون کے لئے آگے بڑھی۔سینیٹ سیکرٹریٹ کے مطابق قائم مقام چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ بڑے پیمانے پر آنے والی قدرتی آفات سے نمٹنے کے لئے صرف حادثے کے بعد امدادی کارروائیاں کافی نہیں بلکہ پیشگی منصوبہ بندی، ادارہ جاتی استعداد اور فوری فیصلہ سازی کو بھی ترجیح دینا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ موسمی اور قدرتی خطرات کے تناظر میں جدید سائنسی معلومات، پیشگی اطلاع کے نظام، مؤثر ریسکیو میکنزم اور ہنگامی طبی سہولیات کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں کسی بھی ناگہانی صورتحال کے دوران قیمتی انسانی جانوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے۔
سیدال خان ناصر نے کہا کہ 2005ء کے زلزلے کے بعد جس جذبۂ انسانیت اور باہمی تعاون کا مظاہرہ کیا گیا وہ قومی یکجہتی کی ایک روشن مثال ہے، پاک فوج، ریسکیو ٹیموں، سرکاری اداروں، فلاحی تنظیموں، امدادی کارکنوں، رضاکاروں اور عام شہریوں نے مشکل ترین حالات میں متاثرین تک امداد پہنچانے کے لیے قابلِ قدر کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان تمام افراد کی خدمات قومی تاریخ کا قابلِ فخر حصہ ہیں اور ان کی قربانیوں کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔قائم مقام چیئرمین سینیٹ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ قدرتی آفات کے خطرات کو کم کرنے، متاثرہ آبادی کی بروقت مدد اور ہنگامی صورتحال سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لئے قومی اداروں کے درمیان مربوط تعاون کو مزید فروغ دیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ انسانی جان کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے اور اس مقصد کے لئے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ڈیزاسٹر مینجمنٹ نظام ناگزیر ہے۔ انہوں نے زلزلے میں جاں بحق ہونے والے افراد کے درجات کی بلندی اور ان کے اہلِ خانہ کے لئے صبر و استقامت کی دعا بھی کی۔








