برطانوی عدالت نے نوعمر لڑکی کے ساتھ اجتماعی زیادتی کرنے پر تین افغان باشندوں کو قید کی سزا سنادی
برطانوی عدالت نے نوعمر لڑکی کے ساتھ اجتماعی زیادتی کرنے پر تین افغان باشندوں کو قید کی سزا سنادی

مزید خبریں
اسلام آباد/لندن ۔8اکتوبر (اے پی پی):برطانیہ کے شہر برسٹل کی ایک عدالت نے 17 سالہ لڑکی کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے جرم میں تین افغان باشندوں کو قید کی سزا سنائی ہے، یہ ملزمان جرم کا ارتکاب کرنے کے بعد ملک چھوڑ کر فرانس فرار ہو گئے تھے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق برسٹل کراؤن کورٹ میں یہ بات سامنے آئی کہ 21 سالہ مہراب صافی، 19 سالہ سلمان حبیب خیل، 19 سالہ اول احمد زئی اور ایک 17 سالہ لڑکے (جس کا نام قانونی وجوہات کی بنا پر ظاہر نہیں کیا جا سکتا) نے گزشتہ سال نومبر میں برسٹل کے ایک مکان میں لڑکی پر حملہ کیا۔متاثرہ لڑکی کو اس مکان میں لایا گیا اور شراب پلائی گئی، جس کے بعد کئی گھنٹوں تک اس کے ساتھ جنسی زیادتی اور عصمت دری کی گئی۔عدالت نے پایا کہ اس لڑکی کو جنسی جرم کے ارتکاب کے مقصد سے اسمگل کیا گیا تھا۔
صافی، احمد زئی اور حبیب خیل دسمبر 2025 میں ایک لاری (ٹرک) کے پچھلے حصے میں چھپ کر برطانیہ سے فرار ہو گئے تھے۔انہوں نے اپنے فرار کا "جشن” مناتے ہوئے اپنی ویڈیو بھی بنائی، جس کے بعد فرانسیسی حکام نے انہیں کیلے (Calais) کے مقام پر گرفتار کر کے برطانیہ واپس بھیج دیا۔صافی کو زیادتی کے دو اور انسانی اسمگلنگ کے ایک جرم میں 15 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ حبیب خیل کو زیادتی اور انسانی اسمگلنگ پر نو سال قید کی سزا ملی، جبکہ احمد زئی کو زیادتی اور جنسی حملے کے جرم میں نو سال قید کی سزا سنائی گئی۔17 سالہ ملزم کو زیادتی کے جرم میں تین سال حراست (detention)کی سزا دی گئی۔
جج مائیکل کلم نے کہا کہ متاثرہ لڑکی واضح طور پر کمزور اور غیر محفوظ حالت میں تھی اور ملزمان نے اس کی اسی کمزوری کا فائدہ اٹھایا۔ایک تجزیہ کار کے مطابق، مختلف ممالک میں غیر قانونی افغان پناہ گزینوں کو بارہا متعدد جرائم میں ملوث پایا گیا ہے، جن میں قتل، زیادتی، جنسی حملے، ہراسانی، منشیات کی اسمگلنگ، ڈکیتی، چوری، جسمانی تشدد، اغوا، غیر قانونی آبادکاری، بھتہ خوری اور منظم مجرمانہ سرگرمیاں شامل ہیں۔تجزیہ کار نے کہا کہ اس صورتحال نے عوام میں شدید غصے اور بڑھتی ہوئی سماجی ناراضگی کو ہوا دی ہے، اور لوگ اپنی متعلقہ یورپی حکومتوں سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کریں اور اس مسئلے کا مستقل حل تلاش کریں۔








