دسویں سالانہ مائیکروفنانس کانفرنس اختتام پذیر ہوگئی، مالی شمولیت کو معاشی ترقی میں بدلنے پر زور

پاکستان مائیکروفنانس نیٹ ورک کے زیراہتمام دسویں سالانہ مائیکروفنانس کانفرنس کراچی میں اختتام پذیر ہوگئی۔ کانفرنس میں حکومت، ریگولیٹرز، مالی اداروں، ترقیاتی اداروں اورماہرین نے شرکت کی اور پاکستان میں مالی شمولیت کے اگلے مرحلے کی تشکیل پر گفتگو کی

کراچی ۔9اکتوبر (اے پی پی):پاکستان مائیکروفنانس نیٹ ورک کے زیراہتمام دسویں سالانہ مائیکروفنانس کانفرنس کراچی میں اختتام پذیر ہوگئی۔ کانفرنس میں حکومت، ریگولیٹرز، مالی اداروں، ترقیاتی اداروں اورماہرین نے شرکت کی اور پاکستان میں مالی شمولیت کے اگلے مرحلے کی تشکیل پر گفتگو کی۔ اقوام متحدہ کے ادارے براے صنعتی ترقی ( UNIDO) اور سندھ کے دیہی علاقوں میں غربت کے خاتمے اور جامع ترقی (PAIDAR) کے اشتراک سے دو روزہ کانفرنس AMC کے پالیسی ڈائیلاگ، شراکت داری اور صنعتی اشتراک کی حیثیت سے قومی پلیٹ فارم کے دس سالہ سفرکا مظہر تھا۔جامع ترقی کی راہیں: باہمی تعاون کا فروغ کے عنوان سے ہونے والی کانفرنس میں بلخصوص خواتین، کسانوں، مائیکرو انٹرپرائز اور پسماندہ دیہی طبقات کیلئے مالی رسائی تک فراہمی کے علاوہ صارف کی ترقی، استحکام، قابل پیمائش معاشی اثرات پر بحث کی گئی۔وفاقی وزیر خزانہ ومحصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کانفرنس سے ورچوئل خطاب کرتے ہوئے میکرواکنامک استحکام سے پائیدار ترقی کے سفرکیلئے مالی شمولیت کو اہم قراردیا۔دسویں سالانہ مائیکروفنانس کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے عامر خان، چیئرمین پی ایم این اور صدر و سی ای او ایچ بی ایل مائیکروفنانس بینک نے وسیع تر مالی نظام میں مائیکروفنانس کی شمولیت پرزور دیا۔انہوں نے کہا کہ ہر چیزکے پیچھے بنیادی اصول مائیکروفنانس کو متوازی ٹریک کی بجائے مالی ایکوسسٹم کا حصہ بنانا ہے۔عامر خان نے زور دیا کہ اس شعبے کی آئندہ دہائی کی کامیابی کو صرف اس بات سے نہیں جانچنا چاہیے کہ کتنے لوگوں کو مالی رسائی دی گئی بلکہ یہ بھی دیکھناچاہیے کہ آیا صارفین اپنے کاروبار کو ترقی دینے، اثاثے بنانے اور مالی طور پر خودمختار ہونے کے قابل ہو رہے ہیں یا نہیں۔کانفرنس کے دوسرے روز یورپی یونین کے مشن برائے پاکستان تعاون کے سربراہ، جیرون ولیمز نے کانفرنس سے ورچوئلی خطاب کیا۔انہوں نے مہمان خصوصی وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا خیرمقدم کیا اور سندھ کے ترقی کے سفر میں مسلسل اشتراک کی یقین دہانی کرائی۔ اپنے خطاب میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اس بات پر زور دیا کہ مالی شمولیت کو رسائی سے معیار اور مطابقت کی طرف لے جانا چاہئے جہاں مالی مصنوعات کو صارفین کی آمدنیوں، موسمیاتی حالات اور خطرات کے مطابق تیار کیاجانا چاہئے۔ انہوں نے غربت کے خاتمے اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے لیے زیادہ موثر اقدامات کرنے کی غرض سے حکومت، قرض فراہم کرنے والے اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں کو ابتدائی مرحلے ہی میں ایک ساتھ لانے کی اہمیت پر زور دیا۔وزیراعلیٰ سندھ نے پائیدار انوویشن لیبز کے اجرا کا خیرمقدم کیا جو اقدام مالیاتی اداروں اور دیہی کاروباری اداروں کو ایک ساتھ لائے گا تاکہ وہ سندھ کے ان علاقوں میں جہاں مالیاتی سہولیات کی کمی ہے، مقامی ضروریات کے مطابق مالیاتی مصنوعات تیار کرنے اور انہیں آزمانے کے لیے مل کر کام کر سکیں۔یہ اقدام دیہی کاروباروں کی ترقی، خطرات میں شراکت داری اور مالی وسائل تک رسائی کے فروغ کے لیے پائیدار کی وسیع تر کوششوں کا تسلسل ہے۔کانفرنس کا ایک بڑا نتیجہ نیشنل کریڈٹ گارنٹی کمپنی لمیٹڈ ( این سی جی سی ایل) کے ساتھ پائیدار کی ضمانت پر مبنی مالی سہولت کی توسیع ہے۔فیز II کے تحت مالی معاونت کا حجم 20 کروڑ روپے سے بڑھا کر 4 ارب 20 کروڑ روپے کیا جائے گا جبکہ اس پروگرام میں حصہ لینے والے مالیاتی اداروں کی تعداد تین سے بڑھا کر آٹھ کر دی جائے گی۔پروگرام کے ذریعے لاڑکانہ، بدین، ٹھٹھہ، سجوال اور تھرپارکر میں قرض خواہوں تک رسائی کی جائے گی جس میں مختص فنانسنگ کا 50فیصد خواتین کیلئے ہوگا۔ این سی جی سی ایل براہِ راست چھوٹے کاروبار کو قرض دینے کے لیے مالی خطرات میں شراکت داری کے ساتھ ساتھ مائیکرو فنانس اداروں کو کمرشل بینکوں اور ترقیاتی مالیاتی اداروں سے قرضوں کی سہولت دلانے کے لیے ضمانتیں بھی فراہم کرے گا۔اس پروگرام کے تحت مستحق افراد کی نشاندہی، تکنیکی معاونت اور مارک اپ کی ادائیگی میں مدد کے لیے یورپی یونین کے مالی تعاون سے چلنے والے یونیڈو پائیدار پروگرام کے ذریعے 20 لاکھ یورو کی گرانٹ فراہم کی جائے گی۔کانفرنس کے دوران پاکستان مائیکروفنانس انویسٹمنٹ کمپنی ( پی ایم آئی سی ) اور نیشنل رورل سپورٹ پروگرام ( این آر ایس پی) کے درمیان پی ایم آئی سی۔ کے ایف ڈبلیو کے مائیکروفنانس کے ذریعے قابلِ تجدید توانائی کے فروغ کے اقدام (پرائم) پروگرام کے تحت ایک بلین روپے کی فنانسنگ سہولت کی فراہمی کے دستخط کئے گئے۔ کانفرنس کے سیشنز میں مائیکروفنانس، مالیات تک خواتین کی رسائی، ریگولیشنز، مصنوعی ذہانت، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کی صلاحیت، اسلامی مائیکروفنانس، ڈیجیٹل پلیٹ فارم، لیکویڈیٹی اور 2035تک شعبہ کے مستقبل کے حوالے سے ابھرتے ہوئے رجحانات کا جائزہ لیا گیا ا ور اس بات پر زور دیا گیا کہ مالیاتی شمولیت کا اندازہ صرف اس بنیاد پر نہیں لگانا چاہیے کہ کتنے افراد تک مالیاتی سہولیات پہنچائی گئیں یا کتنے اکائو نٹس کھولے گئے بلکہ یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ ان سہولیات کو حقیقت میں کتنا استعمال کیا جا رہا ہے، صارفین کی معاشی حالت میں کتنی بہتری آ رہی ہے اور ان کی زندگیوں پر کیا مثبت اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ایک خصوصی نشست میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ڈپٹی گورنر سلیم اللہ نے بھی صارفین کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے نئی سہولیات متعارف کرانے، ان کی مالی پائیداری یقینی بنانے اور مالیاتی سہولیات تک رسائی کے اعداد و شمار سے آگے بڑھ کر حقیقی مالیاتی شمولیت پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔

روشنہ ظفر ، منیجنگ ڈائریکٹر، کشف فائونڈیشن نے صنعت کو درپیش دو بڑے خطرات کو نمایاں کیا جس میں مشن سے انحراف اور موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرات سے دوچار ہونے کی صورتِ حال نیز ان سے نمٹنے کے لیے مجوزہ اقدامات شامل ہیں۔خواتین کی مالیات تک رسائی کے حوالے سے سیشنز میں ایجنسی، کنٹرول اور مالی آزادی پر بہت زیادہ توجہ دینے پر زور دیا گیا جبکہ مائیکروفنانس کے مستقبل پر ہونے والی گفتگو میں آئندہ دہائی کے لیے ان ترجیحات کو اہم قرار دیا گیا۔

کانفرنس نے پاکستان مائیکروفنانس ایوارڈز 2026 کے ذریعے نمایاں اداروں کو بھی سراہا اور ان شخصیات کو اعزازات سے نوازا جن کی قیادت نے پاکستان میں مالیاتی شمولیت کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔

ایچ بی ایل مائیکروفنانس بینک کو بہتر مائیکروفنانس بینک جبکہ نیشنل رورل سپورٹ پروگرام ( این آر ایس پی) کو نان بینکنگ مائیکروفنانس کمپنی ( این بی ایم ایف سی) کی کیٹگری میں بہترین نان بینکنگ ایوارڈ دیا گیا۔

ڈاکٹر محمد امجد ثاقب کو اخوت کے باوقار اور بلاسود مالیاتی شمولیت کے ماڈل کو متعارف کرانے اور وسیع پیمانے پر فروغ دینے پر سراہا گیا۔

مزید خبریں