وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے ائیرپورٹس پر مسافروں کو درپیش مشکلات کو ختم کرنے اور ان کے لئے سفر میں مزید سہولت پیدا کرنے کیلئے اقدامات کی منظوری دیتے ہوئے ائیرپورٹس پر فوری اسمارٹ اسکینرز نصب کرنے ،مسافروں کو بلا ضرورت پوچھ گچھ سے تنگ کرنے سے روکنے کے احکامات جاری کر دیئے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی ائیرپورٹس پر مسافروں کو درپیش مشکلات کو ختم کرنے اور ان کے لئے سفر میں مزید سہولت پیدا کرنے کیلئے اقدامات کی منظوری

مزید خبریں
اسلام آباد۔10اکتوبر (اے پی پی):وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے ائیرپورٹس پر مسافروں کو درپیش مشکلات کو ختم کرنے اور ان کے لئے سفر میں مزید سہولت پیدا کرنے کیلئے اقدامات کی منظوری دیتے ہوئے ائیرپورٹس پر فوری اسمارٹ اسکینرز نصب کرنے ،مسافروں کو بلا ضرورت پوچھ گچھ سے تنگ کرنے سے روکنے کے احکامات جاری کر دیئے۔
وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق یہ احکامات وزیر اعظم نے اپنی زیر صدارت کسٹمز کے نظام پر جائزہ اجلاس کے دوران جاری کیں جو اسلام آباد میں منعقد ہوا ۔ وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ ہوائی اڈوں پر سمارٹ اسکینرز فوری نصب کئے جائیں اور کسٹمز حکام کی بجائے اسمارٹ اسکینرز سے سامان کی جانچ کی جائے۔ وزیرِ اعظم نے کسٹمز حکام کی جانب سے مسافروں کو بلا ضرورت پوچھ گچھ سے تنگ کرنے سے روکنے کے احکامات جاری کر دیئے۔
وزیرِ اعظم نے اسمارٹ اسکینرز کو فوری طور پر فضائی راستے سے پاکستان برآمد کرکے تمام بین لاقوامی ائیر پورٹس پر نصب کرنے کی ہدایت کر دی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہوائی اڈوں پر مسافروں کے سامان کی جانچ کیلئے فرسودہ طریقہ کار ترک کرنا ہوگا۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ مسافروں کی سہولت اور آرام اولین ترجیح ہے، کسی کو بھی مسافروں کو تنگ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ مسافروں کے سامان کی جانچ کیلئے بین الاقوامی سطح پر رائج خود کار نظام لایا جائے گا، ہوائی اڈوں پر دیگر سہولیات کیلئے تعینات اسٹاف کی بھی بین الاقوامی طرز پر تربیت کی جائیگی۔ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ سروس ڈلیوری میں شائستگی اور انسانی احترام کا عنصر ٹریننگ کا کلیدی جزو بنایا جائے۔
وزیرِ اعظم نے کہا کہ کسٹمز کی جانب سے انفورسمنٹ کا نیا نظام لائق تحسین ہے، چیئرمین ایف بی آر اور انکی ٹیم کو اسکا سہرا جاتا ہے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ محصولات کی چوری روکنے کیلئے ہر ممکن اقدام کیا جائے،ٹیکس ادا کرنے والے کاروبار قابل احترام ہیں، ٹیکس چوری کرنے والوں کیلئے نو ٹالرینس پالیسی پر عمل پیرا ہوں گے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ غریب عوام کے پیسے کے امین ہیں، اسکی حفاظت کیلئے ہر ممکن کوشش کریں گے۔ وزیرِ اعظم کی زیر صدارت کسٹمز کے نظام پر جائزہ اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزیرِ اعظم کو ہوائی اڈوں اور بندرگاہوں سمیت ملک کے مختلف مقامات پر سامان کی آمدو رفت اور کسٹمز کی نگرانی پر جائزہ پیش کیا گیا۔ اجلاس کو کسٹمز کی انفورسمنٹ فورس کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی، اجلاس کو پیٹرولیم مصنوعات کی اسمگلنگ کی روک تھام کیلئے اقدامات پر بھی بریفنگ دی گئی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ کسٹمزانفورسمنٹ کے تحت ڈیجیٹل انفورسمنٹ اسٹیشنز کے قیام اور عملی فعالیت میں بھی نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ انڈس کلکٹریٹ (انفورسمنٹ) نے اپنے قیام کے ابتدائی تین ہفتوں میں 80 کارروائیوں کے دوران تقریباً 20 کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کی اشیاء ضبط کیں جبکہ 865 اہلکار تعینات کیے گئے اور 26 اہم راہداریوں کا احاطہ کیا گیا، مزید بتایا گیا کہ اسمگل شدہ کپڑے، گاڑیاں، سگریٹس، ہائی اسپیڈ ڈیزل، آٹو پارٹس اور دیگر اشیاء کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ دوسری جانب کسٹمز کے شعبے میں اصلاحات کے تحت 280 گڈز ایویلیوٹرز کی بھرتی مکمل کر لی گئی ہے، جن کی تربیت اکتوبر اور نومبر 2026 میں ہوگی۔
اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ ایف بی آر کی جانب سے اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے اصلاحاتی اقدامات کے نتیجے میں کسٹمز انفورسمنٹ کے نظام کو یکجا کرتے ہوئے ملک بھر میں ایک مربوط ادارہ قائم کیا گیا ہے۔ اجلاس میں نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، ڈاکٹر مصدق ملک، احد خان چیمہ، عطاء اللہ تارڑ، شزہ فاطمہ خواجہ، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، ارکان قومی اسمبلی عثمان اویسی، رانا ارادت شریف خان اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔








