وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ سیاسی استحکام، پالیسیوں کا تسلسل اور مشترکہ قومی عزم پاکستان کی پائیدار ترقی کے لیے ناگزیر ہیں، فساد اور انتشار کی سیاست ملکی معیشت، سرمایہ کاری،روزگار اور عام آدمی کی زندگی کو متاثر کرتی ہے، سیاسی اختلاف جمہوریت کا بنیادی حق ہے، تاہم تشدد، نفرت اور املاک کی تباہی جمہوری اقدار کو کمزور کرتی …
سیاسی استحکام،پالیسیوں کا تسلسل وقومی یکجہتی پاکستان کی ترقی کیلئے ناگزیر ہیں،شاہ جہاں کے عہد کا فن تعمیر انجینئرنگ کا نمایاں نمونہ ہے،احسن اقبال

مزید خبریں
لاہور۔10اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ سیاسی استحکام، پالیسیوں کا تسلسل اور مشترکہ قومی عزم پاکستان کی پائیدار ترقی کے لیے ناگزیر ہیں، فساد اور انتشار کی سیاست ملکی معیشت، سرمایہ کاری،روزگار اور عام آدمی کی زندگی کو متاثر کرتی ہے، سیاسی اختلاف جمہوریت کا بنیادی حق ہے، تاہم تشدد، نفرت اور املاک کی تباہی جمہوری اقدار کو کمزور کرتی ہے،قومی مفاد کو ذاتی اور جماعتی مفادات پر ترجیح دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کے روز لاہور میں کتاب شاہ جہاں کا شاہی شہر- لاہور کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے کیا-
وفاقی وزیر نے کتاب کے مصنف حافظ بختیار احمد کو ان کی علمی و تحقیقی کاوش پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایسی تصانیف نہ صرف ہمارے تاریخی ورثے کو محفوظ کرتی ہیں بلکہ نئی نسل کو اپنی تہذیبی شناخت، فن تعمیر اور ماضی کے تاریخی سفر کو سمجھنے کا موقع بھی فراہم کرتی ہیں۔پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ لاہور محض ایک شہر نہیں بلکہ ایک تہذیبی احساس اور تاریخی شناخت کا نام ہے،اس کی گلیوں، باغات، مساجد اور تاریخی دروازوں میں صدیوں کی تاریخ، فن، عقیدت اور انسانی تخلیقی صلاحیتوں کے آثار موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہر صرف اینٹ اور پتھر سے نہیں بنتے بلکہ انسانوں کے خواب، محنت، علم اور جمالیاتی ذوق انہیں حقیقی شناخت عطا کرتے ہیں،مصنف نے اپنے شہر سے محبت کو تحقیق اور تحریر کی صورت دے کر قابل تحسین مثال قائم کی ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ کتاب کی رونمائی ایک اہم تاریخی مناسبت بھی رکھتی ہے، کیونکہ 2026 مغل سلطنت کے قیام کے پانچ سو سال مکمل ہونے کا سال ہے، 1526 میں ظہیر الدین بابر کی فتح پانی پت کے بعد برصغیر کی تاریخ میں ایک نئے دور کا آغاز ہوا، جس کے اثرات آج بھی خطے کے فن تعمیر، زبان، ادب، مصوری، باغبانی، دست کاری اور شہری زندگی میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تاریخ کا مطالعہ محض ماضی کے واقعات یاد کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ اپنی کامیابیوں کو سمجھنے، کوتاہیوں کا جائزہ لینے اور مستقبل کے لیے رہنمائی حاصل کرنے کا ذریعہ ہے، مغل تاریخ ہمیں عظمت کے اسباب کے ساتھ زوال کے عوامل کو بھی سمجھنے کا موقع فراہم کرتی ہے، داخلی کشمکش، اقتدار کی لڑائیاں، انتظامی کمزوریاں اور بدلتے ہوئے حالات کا بروقت مقابلہ نہ کرنا کسی بھی ریاست کی قوت کو متاثر کر سکتا ہے۔
احسن اقبال نے کہا کہ تاریخ کا ایک اہم سبق یہ ہے کہ جب اجتماعی مفاد پر ذاتی مفاد غالب آ جائے، قومی توانائیاں تعمیر کے بجائے باہمی تصادم میں صرف ہونے لگیں اور مستقبل کی تیاری کو نظر انداز کر دیا جائے تو بڑی سے بڑی طاقت بھی کمزور پڑ سکتی ہے، یہ سبق آج کے پاکستان کے لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سیاسی استحکام ترقی کی بنیادی شرط ہے، صنعت کار سرمایہ کاری کے لیے قابل اعتماد ماحول چاہتا ہے، طالب علم اپنی تعلیم کے تسلسل کے لیے امن کا خواہاں ہوتا ہے، تاجر کاروبار کے تحفظ اور مزدور روزگار کے تسلسل کا متمنی ہوتا ہے، جبکہ ہر خاندان اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے پرامید رہنا چاہتا ہے، جب ملک مسلسل بے یقینی، تصادم اور انتشار کا شکار ہو تو ان تمام طبقات کی امیدیں متاثر ہوتی ہیں، سرمایہ کاری رکتی ہے، روزگار کے مواقع کم ہوتے اور قومی وسائل ترقیاتی منصوبوں کے بجائے بحرانوں سے نمٹنے پر صرف ہونے لگتے ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ فساد اور انتشار کی سیاست کی سب سے بھاری قیمت عام آدمی ادا کرتا ہے، جب کسی دکان کا شٹر بند ہوتا ہے، کسی مزدور کی دیہاڑی ختم ہوتی ہے، کسی طالب علم کا امتحان موخر ہوتا ہے یا کسی مریض کو ہسپتال پہنچنے میں دشواری پیش آتی ہے تو سیاسی تصادم براہ راست عوامی زندگی کو متاثر کرتا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ سیاسی اختلاف، تنقید، احتساب اور پرامن احتجاج جمہوری معاشرے کا حصہ ہیں، تاہم تشدد، نفرت اور سرکاری و نجی املاک کی تباہی جمہوریت کو کمزور کرتی ہے، سیاسی پختگی کا تقاضا ہے کہ مخالف کی دلیل کا جواب دلیل سے دیا جائے اور اختلافات کے باوجود قومی مفاد کے معاملات پر مل بیٹھ کر مسائل کا حل تلاش کیا جائے۔
پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ حکومت اور سیاسی قیادت پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مکالمے کے دروازے کھلے رکھیں، عوامی مسائل سنیں، آئینی طریقہ کار کو مضبوط بنائیں اور اپنے طرز عمل سے اعتماد پیدا کریں، پائیدار استحکام انصاف، قانون کی حکمرانی، جواب دہی اور ریاستی اداروں پر عوامی اعتماد کے ذریعے ہی ممکن ہے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کا مستقبل سیاسی جماعتوں اور انفرادی مفادات سے کہیں بڑا ہے، اس لیے تعلیم، معیشت، قومی سلامتی اور ترقی کے بنیادی اہداف پر مشترکہ قومی سوچ پیدا کرنا ہوگی۔مغل دور کے تہذیبی ورثے کا ذکر کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ اس عہد کا فن تعمیر مختلف تہذیبی اور فنی روایتوں کے امتزاج سے وجود میں آیا، مقامی ہنرمندوں کی مہارت، وسط ایشیائی و ایرانی اثرات اور برصغیر کے اپنے جمالیاتی ذوق نے مل کر ایک ایسی تخلیقی دنیا تشکیل دی جس کے آثار آج بھی دیکھنے والوں کو حیرت میں ڈال دیتے ہیں، لاہور اس تہذیبی سفر کا ایک نمایاں مرکز رہا ہے، جبکہ شاہ جہاں کے عہد میں فن تعمیر اور حسن ترتیب کو خصوصی اہمیت حاصل ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ شالامار باغ کی ترتیب، پانی کے بہائو کا نظام، فوارے اور سرسبز ماحول اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ حسن تخلیق کرنے کے لیے محض تخیل کافی نہیں ہوتا بلکہ اس کے ساتھ منصوبہ بندی، انجینئرنگ اور فنی مہارت بھی ضروری ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ تاریخی عمارتوں کو دیکھتے ہوئے عموما بادشاہوں اور حکمرانوں کے نام یاد رکھے جاتے ہیں، تاہم ان عمارتوں میں معماروں کی ذہانت، کاریگروں کے ہنر، خطاطوں کے فن، انجینئروں کی مہارت اور مزدوروں کی محنت بھی محفوظ ہوتی ہے، ہمیں ان گمنام ہنرمندوں کو بھی خراج تحسین پیش کرنا چاہیے جنہوں نے پتھر کو حسن بخشا اور ایسی عمارتیں تخلیق کیں جو صدیوں بعد بھی ہماری تہذیبی شناخت کا حصہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی معاشرے کی اصل طاقت اس کے شہریوں کی تخلیقی صلاحیت ہوتی ہے، جو معاشرہ علم، ہنر اور تخلیق کو عزت دیتا اور لوگوں کو آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرتا ہے، وہ عالمی سطح پر اپنا مقام بنانے میں کامیاب ہوتا ہے۔
بطور وزیر منصوبہ بندی ملکی ترقی کے ویژن کا ذکر کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ ترقی کا تصور صرف عمارتوں، سڑکوں اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ انسانی صلاحیتوں کا فروغ بھی اس کا بنیادی جزو ہے، قوم کی اصل کامیابی اس وقت ممکن ہوگی جب نوجوان سوال پوچھیں گے، تحقیق کریں گے، نئی مصنوعات تیار کریں گے، نئی منڈیوں تک رسائی حاصل کریں گے اور اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے ذریعے پاکستان کا نام روشن کریں گے۔انہوں نے کہا کہ اڑان پاکستان پروگرام کے ذریعے برآمدات میں اضافے، ڈیجیٹل ترقی، ماحولیات، توانائی، بنیادی ڈھانچے، سماجی انصاف اور بااختیار بنانے کے شعبوں کو قومی ترقی کے سفر میں یکجا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، اس سفر کو کامیابی سے آگے بڑھانے کے لیے امن، پالیسیوں کا تسلسل اور مشترکہ قومی عزم بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
وفاقی وزیر نے تاریخی ورثے کے تحفظ کو ملکی ترقی اور معاشی مواقع سے منسلک کرتے ہوئے کہا کہ لاہور کا تاریخی ورثہ ثقافتی سیاحت، تحقیق، دست کاری، اشاعت، فلم، ڈیزائن اور دیگر تخلیقی شعبوں میں مقامی کاروبار اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کر سکتا ہے، اس مقصد کے لیے تاریخی مقامات کی مستند بحالی، ان کے گردونواح کے ماحول کی بہتری، تربیت یافتہ سیاحتی رہنمائوں کی دستیابی، معیاری تاریخی معلومات اور ڈیجیٹل دستاویزات کی تیاری پر توجہ دینا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ تاریخی مقامات کا تحفظ محض پرانی عمارتوں کو برقرار رکھنے کا عمل نہیں بلکہ اپنی تہذیبی شناخت اور تاریخی صداقت کو محفوظ رکھنے کی ذمہ داری بھی ہے، تاکہ آنے والی نسلیں اپنے ماضی کو سمجھ سکیں اور اس سے رہنمائی حاصل کر سکیں، مصنفین، جامعات، ماہرین آثار قدیمہ اور متعلقہ اداروں کو باہمی تعاون کے ذریعے تاریخی ورثے کی تحقیق اور اس کی موثر تشہیر کے لیے کام کرنا چاہیے۔
نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ انہیں اپنی تاریخ کا مطالعہ سوال اٹھانے، تحقیق کرنے اور حقائق کو سمجھنے کے جذبے کے ساتھ کرنا چاہیے، نوجوانوں کو یہ جاننا چاہیے کہ ان کے اسلاف نے کیا تخلیق کیا، کن طریقوں سے کامیابیاں حاصل کیں اور کن کمزوریوں سے سبق سیکھا جا سکتا ہے، اپنی شناخت پر اعتماد کے ساتھ دنیا کے علم اور جدید تحقیق سے استفادہ کرنا وقت کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل کی اصل پہچان ان تحقیقات، ایجادات، کتابوں، اداروں اور انسانی خدمات سے بنے گی جو وہ معاشرے کے لیے چھوڑ کر جائے گی، اس کتاب کے مصنف نے بھی نوجوانوں کے لیے ایک پیغام دیا ہے کہ وہ اپنے مشاہدات کو علم میں تبدیل کریں، علم کو تحریر کی صورت دیں اور اپنی صلاحیتوں کو معاشرے کی خدمت کے لیے بروئے کار لائیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ کسی بھی حکومت کی مدت محدود ہوتی ہے، لیکن قوم کے مستقبل کی ذمہ داری نسلوں تک پھیلی ہوتی ہے، ہمیں ایسی پالیسیاں اور ادارے مضبوط بنانے چاہئیں جو طویل المدتی ترقی، انسانی وسائل کی بہتری اور قومی خوشحالی کی بنیاد بن سکیں۔تقریب کے اختتام پر پروفیسر احسن اقبال نے حافظ بختیار احمد کو ایک مرتبہ پھر مبارکباد پیش کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ان کا قلم آئندہ بھی پاکستان کی تاریخ اور تہذیب کے روشن پہلوئوں کو اجاگر کرتا رہے گا اور ان کی کتاب قارئین میں لاہور کو جاننے، سمجھنے اور اس کے تاریخی ورثے کی حفاظت کا جذبہ پیدا کرے گی۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ماضی کے تجربات سے سبق سیکھتے ہوئے علم کو فروغ دینے، تخلیقی صلاحیتوں کی قدر کرنے، تاریخی ورثے کی حفاظت کرنے اور سیاسی اختلافات کو قومی دشمنی میں تبدیل ہونے سے روکنے کی اجتماعی کوششیں جاری رکھنا ہوں گی، تاکہ آنے والی نسلوں کو ایسا پاکستان منتقل کیا جا سکے جو علم میں آگے، معیشت میں مضبوط، اپنی تہذیبی شناخت پراعتماد اور اپنے شہریوں کے لیے پرامن ہو۔








