وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات، سینیٹر محمد اورنگزیب، عالمی بینک گروپ اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے سالانہ اجلاسوں 2026 میں پاکستان کے وفد کی قیادت کرنے کے لیے تھائی لینڈ کےدارالحکومت بنکاک روانہ ہو گئے ہیں۔ یہ اجلاس 12 سے 18 اکتوبر 2026 تک منعقد ہوں گے۔ہفتہ کو وزارت خزانہ سے جاری بیان کے مطابق دورے کے دوران وزیرِ خزانہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم …
وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب عالمی بینک گروپ اور آئی ایم ایف کے سالانہ اجلاسوں 2026 میں شرکت کے لیے بنکاک روانہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔10اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات، سینیٹر محمد اورنگزیب، عالمی بینک گروپ اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے سالانہ اجلاسوں 2026 میں پاکستان کے وفد کی قیادت کرنے کے لیے تھائی لینڈ کےدارالحکومت بنکاک روانہ ہو گئے ہیں۔ یہ اجلاس 12 سے 18 اکتوبر 2026 تک منعقد ہوں گے۔ہفتہ کو وزارت خزانہ سے جاری بیان کے مطابق دورے کے دوران وزیرِ خزانہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور عالمی بینک گروپ کے اہم اجلاسوں اور سرگرمیوں میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔
ان کا دورہ بنکاک ایک جامع پروگرام پر مشتمل ہے جس کے تحت بین الاقوامی مالیاتی اداروں، وزرائے خزانہ، پالیسی سازوں، ترقیاتی شراکت داروں، عالمی سرمایہ کاروں، بینکوں، کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں، تھنک ٹینکس اور بین الاقوامی میڈیا کے نمائندوں کے ساتھ 60 سے زائد اعلیٰ سطحی ملاقاتیں اور دیگر اہم روابط شامل ہیں۔یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان معاشی استحکام کی بحالی کے بعد پائیدار، سرمایہ کاری اور برآمدات پر مبنی ترقی کی جانب پیش رفت کر رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت ساختی اصلاحات کو آگے بڑھانے اور بین الاقوامی سرمایہ منڈیوں اور ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ روابط کو مزید مضبوط بنانے کے لیے بھی کوشاں ہے۔وزیرِ خزانہ آئی ایم ایف اور عالمی بینک گروپ کی قیادت کے ساتھ اعلیٰ سطحی ملاقاتیں کریں گےجن میں انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (IFC) اور ملٹی لیٹرل انویسٹمنٹ گارنٹی ایجنسی (MIGA) کی قیادت کے ساتھ ملاقاتیں بھی شامل ہیں۔ ان ملاقاتوں میں پاکستان کے معاشی منظرنامے، اصلاحاتی اقدامات پر پیش رفت، نجی شعبے کی ترقی اور مستقبل میں تعاون کے امکانات پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔
وہ آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان (MENAP) خطے کے وزرائے خزانہ، مرکزی بینکوں کے گورنرز اور علاقائی مالیاتی اداروں کے سربراہان کے ساتھ منعقدہ اجلاس میں بھی شرکت کریں گے۔وزیرِ خزانہ اہم کثیرالجہتی اور ترقیاتی مالیاتی اداروں کی قیادت سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔ ان اداروں میں ایشیائی انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک (AIIB)، اوپیک فنڈ برائے بین الاقوامی ترقی، سعودی فنڈ برائے ترقی (SFD)، انٹرنیشنل اسلامک ٹریڈ فنانس کارپوریشن (ITFC)، جاپان انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی (JICA)، ایکو ٹریڈ اینڈ ڈویلپمنٹ بینک، اقوامِ متحدہ کا اقتصادی و سماجی کمیشن برائے ایشیا و بحرالکاہل (ESCAP) اور انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن (IOM) شامل ہیں۔دوطرفہ روابط کے ضمن میں سینیٹر محمد اورنگزیب سعودی عرب، چین، ترکیہ، ایران، برطانیہ اور میزبان ملک تھائی لینڈ کے ہم منصبوں سے اعلیٰ سطحی ملاقاتیں کریں گے۔ ان ملاقاتوں کا مقصد اقتصادی، سرمایہ کاری، تجارتی اور ترقیاتی شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینا ہے۔ وہ امریکی محکمۂ خزانہ کے حکام سے بھی ملاقات کریں گے، جس میں دوطرفہ اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانے اور پاکستان کے اصلاحاتی و سرمایہ کاری کے ایجنڈے پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔دورے کا ایک اہم محور بین الاقوامی سرمایہ کاروں اور عالمی سرمایہ منڈیوں کے ساتھ روابط کو فروغ دینا ہوگا۔
اس سلسلے میں وزیرِ خزانہ جے پی مورگن، سٹی، ڈوئچے بینک، اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک، MUFG، مشرق بینک، دبئی اسلامک بینک، ابوظہبی کمرشل بینک، عجمان بینک، بارکلیز، بینک آف امریکہ، جیفریز انٹرنیشنل، الواریز اینڈ مارسل اور MSCI سمیت ممتاز بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے نمائندوں سے ملاقاتیں کریں گے اور سرمایہ کاری سیمینارز، سرمایہ کار فورمز اور گول میز مباحثوں میں شرکت کریں گے۔ ان روابط کے ذریعے پاکستان کے بہتر ہوتے ہوئے بنیادی معاشی اشاریوں، ساختی اصلاحات کے ایجنڈے، بین الاقوامی سرمایہ منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے امکانات کو اجاگر کیا جائے گا۔وزیرِ خزانہ پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت، ای کامرس اور سرمایہ کاری کے مواقع سے متعلق امور پر تبادلۂ خیال کے لیے علی بابا انٹرنیشنل ڈیجیٹل کامرس (AIDC) کے نمائندوں سے بھی ملاقات کریں گے۔
سینیٹر محمد اورنگزیب متعدد اہم کثیرالجہتی فورمز میں شرکت کریں گے، جن میں جی-24 وزرائے خزانہ اور مرکزی بینکوں کے گورنرز کا اجلاس، 17واں وی 20 وزارتی مکالمہ، موسمیاتی اقدامات کے لیے وزرائے خزانہ کے اتحاد کا 16واں وزارتی اجلاس، زیادہ اور بہتر روزگار کے مواقع کے لیے عمل درآمد تیز کرنے سے متعلق وزارتی مکالمہ، قرض لینے والے ممالک کے فورم کی گورننگ کونسل کا پہلا اجلاس اور سالانہ اجلاسوں کا عمومی اجلاس شامل ہیں۔وہ اعلیٰ سطحی پالیسی مباحثوں میں بھی حصہ لیں گے، جن میں ’’سرمایہ منڈیوں تک رسائی رکھنے والے ممالک میں خودمختار مالیاتی خطرات کو کم کرنا‘‘ کے موضوع پر اجلاس اور عالمی بینک گروپ کا ’’آبادیاتی تبدیلی کو انسانی سرمائے میں اضافے اور روزگار کے مواقع میں تبدیل کرنا‘‘ کے موضوع پر اجلاس شامل ہیں۔
پاکستان کے بین الاقوامی سرمایہ منڈیوں سے روابط کے سلسلے میں وزیرِ خزانہ عالمی سطح پر معروف تینوں خودمختار کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں، فچ ریٹنگز، موڈیز اور ایس اینڈ پی گلوبل، کے نمائندوں سے ملاقاتیں کریں گے۔ ان ملاقاتوں میں وہ بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے سامنے پاکستان کی معاشی پیش رفت اور اصلاحاتی اقدامات کا جائزہ پیش کریں گے۔وزیرِ خزانہ رائٹرز، بلومبرگ، نکی ایشیا، چینل نیوز ایشیا، وال اسٹریٹ جرنل اور اے ایف پی سمیت ممتاز بین الاقوامی میڈیا اداروں کے نمائندوں سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔ اس کے علاوہ وہ اٹلانٹک کونسل اور یوریشیا گروپ کے ساتھ پالیسی سطح کے تبادلۂ خیال میں حصہ لیں گے، جن میں پاکستان کے معاشی منظرنامے، معاشی استحکام کی بحالی، ساختی اصلاحات کی ترجیحات اور سرمایہ کاری کے امکانات کو اجاگر کیا جائے گا۔ان ملاقاتوں اور سرگرمیوں کے دوران وزیرِ خزانہ معاشی استحکام کی بحالی، مالیاتی و بیرونی شعبے کے بفرز کو مضبوط بنانے، ساختی اصلاحات پر پیش رفت اور بین الاقوامی سرمایہ منڈیوں میں دوبارہ رسائی حاصل کرنے کے حوالے سے پاکستان کی پیش رفت کو اجاگر کریں گے۔
وہ سرمایہ کاری، برآمدات، نجی شعبے کی قیادت میں ترقی، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور مالیاتی شمولیت کو فروغ دینے سے متعلق حکومت کی ترجیحات بھی پیش کریں گے۔یہ دورہ عالمی اقتصادی اور مالیاتی برادری کے ساتھ پاکستان کے فعال روابط کی عکاسی کرتا ہے اور حکومت کے اس عزم کا اعادہ کرتا ہے کہ بحال شدہ معاشی استحکام کو سرمایہ کاری، پیداواری صلاحیت میں اضافے، برآمدات کے فروغ، روزگار کے مواقع اور پائیدار و جامع اقتصادی ترقی میں تبدیل کیا جائے گا۔







