وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے اطلاعات اختیار ولی خان نے خیبرپختونخوا میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دہشت گردی کے خاتمے، نیشنل ایکشن پلان پر مؤثر عملدرآمد اور گورننس میں بہتری پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں دیرپا امن کے قیام کے لیے مربوط حکمت عملی اپنانے اور عوامی مسائل کے حل کو ترجیح دینے کی ضرورت ہے۔
خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال پر تشویش، نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد ناگزیر ہے، اختیار ولی خان

مزید خبریں
اسلام آباد۔10اکتوبر (اے پی پی):وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے اطلاعات اختیار ولی خان نے خیبرپختونخوا میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دہشت گردی کے خاتمے، نیشنل ایکشن پلان پر مؤثر عملدرآمد اور گورننس میں بہتری پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں دیرپا امن کے قیام کے لیے مربوط حکمت عملی اپنانے اور عوامی مسائل کے حل کو ترجیح دینے کی ضرورت ہے۔
اختیار ولی خان نے ہفتہ کو ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کی قیادت میں قائم خیبرپختونخوا حکومت کی کارکردگی اور صوبے میں امن و امان کی صورتحال پر سوالات اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی، بدامنی، منشیات کی اسمگلنگ اور انتظامی مسائل سے نمٹنا ناگزیر ہے، صوبے میں امن کی بحالی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ سیاسی اختلافات کو جمہوری اور آئینی طریقوں سے حل کیا جانا چاہیے جبکہ سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے متحد اور عملی حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے صوبائی حکومت کی جانب سے امن و امان کی صورتحال، عوامی مسائل اور سرکاری اداروں کے انتظامی امور سے نمٹنے کے طریقہ کار پر سوالات اٹھائے۔
اختیار ولی خان نے کہا کہ دیرپا استحکام کے لیےدہشت گردی کے خلاف مربوط اقدامات، گورننس میں بہتری اور عوامی خدمات کے شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھانا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبے کے عوام امن، معیاری تعلیم، صحت کی سہولیات، روزگار کے مواقع اور خوف و بدامنی سے پاک ماحول کے مستحق ہیں۔وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر نے نیشنل ایکشن پلان (این اے پی) پر عملدرآمد کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد سے انکار کر رہی ہے اور دہشت گردی کے خلاف واضح پالیسی اپنانے میں ناکام رہی ہے۔






