خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف عدم تعاون اور آئینی مشینری کی ناکامی، صدر مملکت نے ایمرجنسی نافذ کر دی، وزیر اعلیٰ و کابینہ فارغ، انتظامی کنٹرول گورنر کے حوالے، مقررہ وقت کے اندر توثیق قومی اسمبلی و سینیٹ سے ہو گی، وفاقی وزراء

وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے سنگین خطرات، صوبائی حکومت کی عدم دلچسپی اور آئینی مشینری کی ناکامی کے بعد آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت صوبے میں فوری طور پر ایمرجنسی نافذ کر کے صوبائی حکومت کو غیر فعال کر دیا ہے اور تمام تر انتظامی اختیارات گورنر خیبر پختونخوا کے سپرد کر دیے ہیں۔

اسلام آباد۔11اکتوبر (اے پی پی):وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے سنگین خطرات، صوبائی حکومت کی عدم دلچسپی اور آئینی مشینری کی ناکامی کے بعد آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت صوبے میں فوری طور پر ایمرجنسی نافذ کر کے صوبائی حکومت کو غیر فعال کر دیا ہے اور تمام تر انتظامی اختیارات گورنر خیبر پختونخوا کے سپرد کر دیے ہیں۔

دو گھنٹے سے زائد طویل وفاقی کابینہ کے تفصیلی اجلاس میں گورنر خیبر پختونخوا کی تشویشناک رپورٹ اور سکیورٹی اداروں کے مواد کا جائزہ لینے کے بعد وزیراعظم نے صدرِ مملکت کو ایمرجنسی کے نفاذ کی ایڈوائس بھیجی، جس کی قانونی ضروریات پوری ہونے کے بعد وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ، وزیر مملکت داخلہ سینیٹر طلال چوہدری اور ثمر بلور کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس میں باضابطہ اعلان کیا۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے صورتحال کا تفصیلی پس منظر بتاتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ کوئی آسان اقدام نہیں تھا بلکہ وفاقی حکومت ایک ماہ سے زائد عرصے تک مسلسل کوشش کرتی رہی کہ خیبر پختونخوا حکومت کو ساتھ ملا کر دہشت گردی کے خلاف متحد ہو کر لڑا جائے اور وہ خود ذاتی طور پر پس پردہ رابطوں میں رہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ سے پہلے ہی ان کے تمام مطالبات، چاہے وہ ملاقاتیں ہوں یا علاج، پورے کیے جا رہے تھے اور وزیراعظم کے دورہ نیویارک سے قبل بھی اپوزیشن لیڈروں سے بات چیت طے تھی مگر وہاں سے حتمی جواب نہ ملا۔

بعد ازاں صدر اور وزیراعظم کی بنائی گئی کمیٹی کے تحت پی ٹی آئی رہنماؤں سے مذاکرات ہوئے، جہاں اسد قیصر نے دہشت گردی کے خلاف مل کر لڑنے کا عزم ظاہر کیا تاہم کے پی حکومت کو ان بورڈ کرنے کے معاملے پر ڈیڈ لاک رہا۔ مذاکرات میں تین سے چار بار ڈرافٹ فائنل ہوا اور ان کی تجاویز شامل کی گئیں، مگر ہر بار صوبائی حکومت کی طرف سے نیا مؤقف سامنے لا کر معاملے کو سبوتاژ کیا گیا۔ رات پونے 12 بجے تک حتمی رابطے کیے گئے تاکہ کوئی درمیانی راہ نکل سکے مگر کے پی قیادت کی جانب سے کوئی مثبت جواب نہ آیا۔

مولانا فضل الرحمٰن کی وزیراعظم اور پی ٹی آئی سے ملاقاتیں بھی بے نتیجہ رہیں۔ محسن نقوی نے واضح کیا کہ وفاق کو دھرنے یا لانگ مارچ سے کوئی مسئلہ نہیں تھا، اصل معاملہ دہشت گردی کا تھا جس پر کے پی قیادت نے تعاون نہیں کیا۔وزیر داخلہ نے بتایا کہ صوبے کے 12 اضلاع میں صورتحال اس حد تک خراب ہے کہ شام کے بعد شہری گھروں سے نہیں نکل سکتے، الیکشن کمیشن کے سینیئر افسر کو شہید کیا گیا، پولیس کی مسلسل ٹارگٹ کلنگ ہو رہی ہے، کسٹمز اور فورسز کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے کے پی حکومت کے ساتھ مل کر پہلے 5 اضلاع میں پولیس کو مضبوط کرنے، ایف سی اور فوج کو بتدریج نکالنے اور تمام درکار فنڈز فراہم کرنے کا منصوبہ بنایا مگر چار ماہ گزرنے کے باوجود اس پر صوبائی سطح پر کوئی پیش رفت نہ ہو سکی۔ وفاق اور صوبے کی خارجہ پالیسی مختلف نہیں ہو سکتی اور طالبان سے تعلقات بھی کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ پچھلے ڈیڑھ سال میں دہشت گردی کے واقعات میں 195 فیصد اور شہادتوں میں 113 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ پولیس کو دیئے گئے 20 ارب کے بجٹ پر احسان جتایا جاتا ہے اور دہشت گرد کی تعریف پر بحث کی جاتی ہے۔

محسن نقوی نے کہا کہ اگر روزانہ جوانوں کی شہادتیں ہی کروانی تھیں اور صوبائی حکومت نے اونرشپ نہیں لینی تھی تو وفاق کے پاس ریاست کو بچانے کے لیے اس فیصلے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں بچا تھا۔ وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے قانونی پہلوؤں پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ قانونی تقاضے پورے ہونے کے بعد میڈیا کو آگاہ کیا جا رہا ہے۔ کابینہ کے دو گھنٹے طویل اجلاس میں گورنر خیبر پختونخوا کی جانب سے موصولہ خط پر غور کیا گیا، جس میں آئین کے آرٹیکل 234 کے تحت واضح کیا گیا تھا کہ صوبے میں آئینی بریک ڈاؤن ہو چکا ہے اور حکومت کی رٹ غائب ہے۔ رپورٹڈ واقعات کے مطابق دہشت گردی میں 196 فیصد اضافہ ہوا اور سڈنی کی عالمی تنظیم نے پاکستان کو دہشت گردی سے بدترین متاثرہ ممالک میں سرِ فہرست رکھ دیا ہے، جس سے معیشت اور سرمایہ کاری کو شدید دھچکا لگ رہا تھا۔

انہوں نے واضح کیا کہ آئین کا آرٹیکل 149(4) وفاق کو امن و امان سے متعلق صوبوں کو احکامات دینے کا اختیار دیتا ہے جبکہ آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت سنگین اندرونی اور بیرونی خطرات کے پیشِ نظر صدرِ مملکت نے ہنگامی اختیارات استعمال کیے۔ اعظم نذیر تارڑ نے احکامات کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ صدارتی پروکلیمیشن کے تحت خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت غیر فعال ہو گئی ہے اور وزیر اعلیٰ، صوبائی وزراء، مشیران، معاونینِ خصوصی اور ایڈوکیٹ جنرل کے اختیارات ختم کر کے تمام اختیارات گورنر کے پی کے سپرد کر دیے گئے ہیں جن کی معاونت کے لیے 11 رکنی مشاورتی کونسل تشکیل دی جائے گی۔

شدید متاثرہ 12 اضلاع کے لیے گورنر اور چیف سیکرٹری کے تحت ایک علیحدہ خصوصی سیکرٹریٹ اور ری کنسٹرکشن اینڈ ڈویلپمنٹ کونسل (ARDC) قائم کر دی گئی ہے جس کا ایڈمنسٹریٹر ایڈیشنل چیف سیکرٹری رینک کا افسر ہوگا۔ اس کے علاوہ آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت سکیورٹی فورسز کی ازسرنو مؤثر تعیناتی کا فریش حکم نامہ بھی جاری کر دیا گیا ہے تاکہ امن و امان کی بحالی کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ آنے والے دنوں میں قومی اسمبلی اور سینیٹ کا مشترکہ اجلاس بلا کر اس صدارتی فیصلے کی آئینی توثیق کروائی جائے گی۔