اسلام آباد۔11اکتوبر (اے پی پی):خیبر پختونخوا کی مشاورتی کونسل میں رکن برائے اطلاعات و نشریات ثمر ہارون بلور نے کہا ہے کہ صوبے میں بدامنی اور دہشت گردی کے باعث تعلیمی و سماجی ڈھانچہ شدید متاثر ہو چکا ہے جبکہ موجودہ صوبائی قیادت عوامی تکالیف اور شہداء کے خاندانوں کی داد رسی کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔ وفاقی وزراء کے ہمراہ اسلام آباد میں اہم پریس کانفرنس …
خیبر پختونخوا میں بدامنی کا راج، صوبائی حکومت شہداء اور عوام کی قربانیوں سے لاپرواہ ہے، ثمر ہارون بلور

مزید خبریں
اسلام آباد۔11اکتوبر (اے پی پی):خیبر پختونخوا کی مشاورتی کونسل میں رکن برائے اطلاعات و نشریات ثمر ہارون بلور نے کہا ہے کہ صوبے میں بدامنی اور دہشت گردی کے باعث تعلیمی و سماجی ڈھانچہ شدید متاثر ہو چکا ہے جبکہ موجودہ صوبائی قیادت عوامی تکالیف اور شہداء کے خاندانوں کی داد رسی کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔ وفاقی وزراء کے ہمراہ اسلام آباد میں اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ثمر بلور نے کہا کہ خیبر پختونخوا کی ماؤں، بہنوں اور خاندانوں نے طویل عرصے تک دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نقل مکانی اور بے پناہ مشکلات برداشت کیں۔
ان بے مثال قربانیوں کے باوجود بدقسمتی سے صوبے پر ایسی حکومت مسلط رہی جسے نہ عوام کی قربانیوں کی کوئی پرواہ ہے اور نہ ہی ان کی تکالیف کا احساس۔ثمر بلور نے جنوبی خیبر پختونخوا بالخصوص لکی مروت، بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان کی بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ راستوں کے غیر محفوظ ہونے اور دہشت گردوں کے اثر و رسوخ کے باعث گزشتہ پانچ چھ ماہ کے دوران بنوں یونیورسٹی سے لگ بھگ 700 سے زائد طالبات اپنی عزت و جان بچانے کی خاطر تعلیم چھوڑ کر گھر بیٹھنے پر مجبور ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ علاقے سے روزانہ خوف اور پریشانی کے پیغامات مل رہے ہیں اور بچے تعلیمی اداروں تک پہنچنے سے قاصر ہیں۔انہوں نے پختون روایات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پختون کلچر میں دشمن کے گھر بھی تعزیت اور دکھ میں شریک ہوا جاتا ہے لیکن موجودہ حکمران شہداء کے جنازوں میں شریک ہونے کے بجائے سوشل میڈیا پر تضحیک آمیز مہم چلاتے ہیں۔
ثمر بلور نے واضح کیا کہ ہماری سرزمین پر شہید ہونے والا خواہ پاک فوج، پولیس یا کسٹمز کا جوان ہو، وہ ہمارا شہید ہے۔ اس نے ہماری حفاظت کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔ ریاست اور حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کے پسماندگان، بیواؤں اور یتیم بچوں کی کفالت کرے لیکن صوبائی سطح پر اس فرض کو یکسر بھلا دیا گیا ہے۔تعلیمی جمود اور پسماندگی کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں ایک دہائی سے ترقی کا پہیہ جام ہے، حتیٰ کہ تعلیمی اداروں میں 2013 کا فرسودہ نصاب پڑھایا جا رہا ہے۔ بدامنی کے عروج پر ہونے کے سبب نہ معاشی خوشحالی آ سکی اور نہ ہی بنیادی سہولیات میسر آئیں۔
ثمر بلور نے واضح کیا کہ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کی قیادت میں مشاورتی کونسل کا پلیٹ فارم کسی ذاتی عہدے، تنخواہ یا مراعات کے لیے نہیں بلکہ خالصتاً خدمت کے جذبے کے تحت سنبھالا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب خیبر پختونخوا کے عوام کو یہ احساس ہونے لگا تھا کہ وہ اکیلے اس جنگ میں جل رہے ہیں، ایسے میں وفاق کی جانب سے خیر سگالی اور تعاون کا ہاتھ بڑھانا ایک اہم پیش رفت ہے۔انہوں نے عزم کا اظہار کیا کہ وہ کمزور اور لاچار طبقات، شہداء کے خاندانوں اور خواتین کے سر پر دستِ شفقت رکھیں گے، ان کے حقوق کی جنگ لڑیں گے اور ان کی آواز کو ہر فورم پر بلند کریں گے تاکہ صوبے میں پائیدار امن قائم ہو اور خیبر پختونخوا بھی باقی ملک کی رفتار سے ترقی کر سکے۔








