خیبر پختونخوا میں گورنر کی سربراہی میں 11 رکنی ایڈوائزری کونسل تشکیل دے دی گئی، پی ٹی آئی کالعدم ٹی ٹی پی اور ٹی ٹی اے کی حمایت پر مبنی پالیسیوں کے باعث صوبے میں ہزاروں شہریوں کی ہلاکت کی ذمہ دار ہے، عطاء اللہ تارڑ

خیبر پختونخوا میں گورنر کی سربراہی میں 11 رکنی ایڈوائزری کونسل تشکیل دے دی گئی ہے۔ مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی نامور شخصیات ایڈوائزری کونسل میں شامل کی گئی ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے اتوار کو وفاقی وزراء محسن نقوی، اعظم نذیر تارڑ، طلال چوہدری اور رکن قومی اسمبلی ثمر ہارون بلور کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران ایڈوائزری کونسل کی تفصیلات سے آگاہ …

اسلام آباد۔11اکتوبر (اے پی پی):خیبر پختونخوا میں گورنر کی سربراہی میں 11 رکنی ایڈوائزری کونسل تشکیل دے دی گئی ہے۔ مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی نامور شخصیات ایڈوائزری کونسل میں شامل کی گئی ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے اتوار کو وفاقی وزراء محسن نقوی، اعظم نذیر تارڑ، طلال چوہدری اور رکن قومی اسمبلی ثمر ہارون بلور کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران ایڈوائزری کونسل کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ گورنر خیبر پختونخوا کی زیر قیادت ایڈوائزری کونسل میں اہل اور ایماندار افسران کو ذمہ داریاں تفویض کی گئی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ کفایت اللہ خان کو مشیر داخلہ، طارق محمود پاشا کو مشیر فنانس، سابق ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا عامر جاوید کو مشیر قانون، ڈاکٹر سید عامر عبداللہ کو مشیر تعلیم، پاکستان کی پہلی خاتون لیفٹیننٹ جنرل (ر) نگار جوہر خان کو مشیر صحت، سابق ایڈوائزر پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈاکٹر سرفراز علی شاہ کو مشیر مائنز اینڈ منرلز، ڈاکٹر محمد ارشاد کو مشیر انڈسٹریز اینڈ کامرس، آصف رفیق آفریدی کو مشیر برائے کمیونیکیشن اینڈ ورکس، خطیب اعلیٰ مولانا محمد طیب قریشی کو مذہبی امور کا مشیر، عثمان سیف اللہ خان کو مشیر برائے انرجی اور ایم این اے ثمر ہارون بلور کو مشیر برائے اطلاعات و نشریات مقرر کیا گیا ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پی ٹی آئی کے تانے بانے دہشت گردوں سے جا ملتے ہیں، پی ٹی آئی دہشت گردی کے خاتمے کے لئے بالکل غیر سنجیدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت کا دہشت گردوں کے ساتھ گہرا گٹھ جوڑ ہے جس کی وجہ سے صوبے کے انتظامی حالات تباہی کے دھانے پر پہنچ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انٹیلی جنس بیورو اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی رپورٹس میں صوبے کی صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پی ٹی آئی کے سوا تمام سیاسی جماعتوں پر خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے حملے ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں اور پی ٹی آئی کے درمیان پاور شیئرنگ تک بات پہنچ چکی تھی۔ دہشت گردوں کو صوبے میں محفوظ رسائی حاصل تھی اور انہیں مالی وسائل بھی فراہم کئے جاتے رہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت کی آئینی ذمہ داری تھی کہ وہ عام شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بناتی۔ سوال یہ ہے کہ کیا صوبائی حکومت اپنی یہ آئینی ذمہ داری ادا نہیں کر سکتی؟ کیا اس میں اہلیت اور صلاحیت کا فقدان ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن عناصر نے صوبے کا امن تباہ کیا، شہریوں کو شہید کیا اور ہسپتالوں، مساجد، تھانوں اور افواج کے اہلکاروں کو دہشت گردی کے حملوں کا نشانہ بنایا، خیبر پختونخوا حکومت نے انہی عناصر کو بااختیار بنایا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ دہشت گردوں اور خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کے درمیان اختیارات کی تقسیم کا ایک فارمولا تشکیل پا رہا تھا جس کا آغاز جنوبی اضلاع سے ہوا اور جو بتدریج پورے صوبے میں پھیلتا جا رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ کوہاٹ کے ہسپتال میں موجود تھے جہاں زخمیوں نے ان سے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت سے جان چھڑائیں، یہ ہمیں تباہ و برباد کر دیں گے، ہم دہشت گردوں کے خلاف لڑنا چاہتے ہیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ سمجھ نہیں آتی کہ صوبے میں دہشت گردوں کو فری ہینڈ کیوں دیا گیا۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ امن و امان، تحفظ اور سلامتی کو یقینی بنانا صوبائی حکومت کی ذمہ داری تھی۔ پی ٹی آئی کی حکومت نے نہ صرف دہشت گردوں کی سہولت کاری کی بلکہ انہیں صوبائی انتظامیہ میں شراکت دار بھی بنایا۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ دہشت گردوں اور خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کے درمیان گٹھ جوڑ کے نتیجے میں متعدد اضلاع دہشت گردوں کے حوالے کر دیئے گئے تھے جہاں وہ شہریوں اور مساجد کو نشانہ بناتے اور ہسپتالوں پر بمباری کرتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ طالبان بیرونی طاقتوں کے فنڈز سے چلنے والے عناصر ہیں جو پاکستان کو تباہی کے دھانے پر لے جانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی بیرونی فنڈنگ حاصل کر کے ہمارے شہریوں کو شہید کرے، ان کی جان و مال کو نقصان پہنچائے اور کوئی صوبائی حکومت اس کے ساتھ بیٹھ کر اسے سہولت فراہم کرے اور حکومتی معاملات میں شراکت دار بنانے میں شریک ہو تو اس سے بڑا آئینی بحران اور کیا ہو سکتا ہے؟

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ صوبائی حکومت کا مینڈیٹ عوام کے تحفظ، سلامتی اور امن و امان کو یقینی بنانا تھا لیکن اس کے برعکس اس نے پولیس سے متعلق ایک متنازعہ بل بھی پیش کیا جس کے ذریعے دہشت گرد گروہوں سے وابستہ افراد کو پولیس میں بھرتی کرنے کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کی گئی۔ سوال یہ ہے کہ براہِ راست ڈی ایس پی کی تعیناتی کیوں کی جا رہی تھی؟ مقصد دہشت گردوں اور ان کے حامیوں کو پولیس فورس میں بھی جگہ دینا تھا۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کو بتدریج تباہی کی طرف دھکیلا جا رہا تھا اور اس حوالے سے ناقابلِ تردید شواہد اور ثبوت موجود ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے خیبر پختونخوا کابینہ کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ پوری کابینہ کی کارکردگی کا جائزہ لے لیں، یہ شاید ٹاک شوز میں نظر آتے ہوں لیکن وزیراعلیٰ نے کیا کیا؟

انہوں نے گورننس پر کتنے گھنٹے صرف کیے؟ کیا انہیں گورننس کے تقاضوں کا علم ہے اور کیا وہ جانتے ہیں کہ حکومت کیسے چلائی جاتی ہے اور صوبے کے عوام کو خوشحالی کی طرف کیسے لے جایا جاتا ہے؟ وفاقی وزیر نے کہا کہ آج اس گروہ سے نجات حاصل ہوئی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کو آئینی طریقے سے ہٹایا گیا، پی ٹی آئی کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور کالعدم تحریک طالبان افغانستان (ٹی ٹی اے) کی حمایت پر مبنی پالیسیوں کی وجہ سے خیبر پختونخوا میں ہزاروں شہریوں کی ہلاکت کی ذمہ دار ہے۔ طالبان کی خواتین سے متعلق پالیسیوں کی جھلک خیبر پختونخو میں پی ٹی آئی کی حکومت کے طرز عمل میں بھی نظر آتی رہی جہاں خواتین کے حقوق پامال کئے جاتے رہے۔