پاکستان کی پرتپاک مہمان نوازی انمول جوہر ہے، پاکستان اور آسیان کے درمیان مضبوط پل موجود ہے، فلپائنی سفیر

پاکستان میں فلپائن کے سفیر ڈاکٹر ایمانوئل آر فرنانڈیز نے پرتپاک مہمان نوازی کو پاکستان کا ایک انمول جوہر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور آسیان ممالک کے درمیان باہمی احترام، دلکش قدرتی مناظر اور ناقابلِ فراموش مہمان نوازی پر مبنی ایک ’’حقیقی پل ‘‘ انتہائی مضبوط بنیادوں پر استوار ہے۔ انہوں نے یہ بات اے پی پی کے زیر اہتمام ایک ٹاک شو میں گفتگو کرتے ہوئے …

اسلام آباد۔11اکتوبر (اے پی پی):پاکستان میں فلپائن کے سفیر ڈاکٹر ایمانوئل آر فرنانڈیز نے پرتپاک مہمان نوازی کو پاکستان کا ایک انمول جوہر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور آسیان ممالک کے درمیان باہمی احترام، دلکش قدرتی مناظر اور ناقابلِ فراموش مہمان نوازی پر مبنی ایک ’’حقیقی پل ‘‘ انتہائی مضبوط بنیادوں پر استوار ہے۔ انہوں نے یہ بات اے پی پی کے زیر اہتمام ایک ٹاک شو میں گفتگو کرتے ہوئے کہی ۔پاکستان میں فرائض کی انجام دہی کے حوالے سے ذاتی تاثرات کے بارے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جب سے انہوں نے اس ملک میں قدم رکھا ہے، وہ یہاں کی منفرد گرم جوشی اور مہمان نوازی کو محسوس کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام کی مہمان نوازی سے بہت متاثر ہوئے ہیں ۔ انہوں نے ایک یاد تازہ کرتے ہوئے بتایاکہ مجھے یاد ہے کہ میں اور میری اہلیہ ایک مقامی شاپنگ مال میں گھوم رہے تھے۔ اچانک بچوں کا ایک گروپ ہمارے پاس آیا۔ انہوں نے شائستگی سے ہمارے نام پوچھے اور ہمارے ساتھ تصویر بنوانا چاہی۔ سفیر نے کہا کہ بعد ازاں ہم نیشنل مونومنٹ (قومی یادگار) گئے اور وہاں بھی اسی طرح لوگوں نے کھلے دل سے ہمارا استقبال کیا۔ انہوں نے کہا کہ آپ کو بہت سے دوسرے ممالک میں ایسا دیکھنے کو نہیں ملتا۔ یہ گرمجوشی اور پرتپاک انداز میں مہمان نوازی بالخصوص پاکستان میں نظر آتی ہے۔ میرا پختہ یقین ہے کہ یہ پاکستان کا ایک انمول جوہر ہے۔ڈاکٹرایمانوئل آر فرنانڈیز ،جو اسلام آباد میں آسیان کمیٹی کے چیئرمین بھی ہیں، نے کہا کہ دوسری نمایاں خوبی، پاکستان کی متنوع خوبصورتی ہے۔

میں ہمیشہ کہتا ہوںکہ پاکستان ایک بہت وسیع و عریض اور حسین ملک ہے۔ یہاں ہر چیز موجود ہے۔ یہاں برف پوش پہاڑ ہیں، صحرا ہیں، میدان ہیں، گہما گہمی والے شہر ہیں اور پرسکون دیہی علاقے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تنوع محض جغرافیے تک ہی محدود نہیں ہے۔ ثقافتی اور لسانی اعتبار سے نیز دیگر کئی پہلوؤں سے پاکستان غیر معمولی تنوع کا حامل ملک ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرا ماننا ہے کہ یہ ایک ایسا خوشگوار تجربہ ہے جو دیگر ممالک کو بھی حاصل کرنا چاہیے اور خاص طور پر آسیان کو اسے نہ صرف بطور تجربہ اپنانا چاہیے بلکہ اسے ایک محرک قوت کے طور پر بروئے کار لاتے ہوئے پاکستان کے ساتھ زیادہ وسیع اور گہرے تعاون کی جانب پیش قدمی کرنی چاہیے۔

انہوں نے پر یقین لہجے میں اس امر اظہار کیا کہ پاکستان اور آسیان ممالک کے درمیان باہمی احترام، دلکش قدرتی مناظر اور ناقابلِ فراموش و لازوال مہمان نوازی پر مبنی ایک حقیقی پل پہلے ہی انتہائی مضبوط بنیاد پر استوار ہے جس سے پاکستان اور آسیان ممالک کے مابین روابط کو مزید تقویت ملے گی۔