مذاکرات کے تمام راستے بند ہونے کے بعد مشکل آئینی قدم اٹھایا گیا، وفاقی وزیر داخلہ

وفاقی وزیر داخلہ سینیٹر محسن نقوی نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت اور اس کے اتحادیوں نے خیبر پختونخوا حکومت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی قیادت کے ساتھ پارلیمانی رابطوں، براہِ راست بات چیت اور بیک چینل ڈپلومیسی سمیت ہر ممکن راستہ اختیار کیا، تاہم تمام کوششیں رائیگاں گئیں

اسلام آباد۔12اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر داخلہ سینیٹر محسن نقوی نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت اور اس کے اتحادیوں نے خیبر پختونخوا حکومت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی قیادت کے ساتھ پارلیمانی رابطوں، براہِ راست بات چیت اور بیک چینل ڈپلومیسی سمیت ہر ممکن راستہ اختیار کیا، تاہم تمام کوششیں رائیگاں گئیں۔سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر اپنے بیان میں وزیر داخلہ نے واضح کیا کہ خیبر پختونخوا نے دہشت گردی کا بھاری بوجھ برداشت کیا ہے اور وہاں سکیورٹی فورسز اور عام شہریوں نے بے مثال قربانیاں پیش کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے سنگین حالات میں محاذ آرائی کے بجائے باہمی تعاون کو ترجیح دی جانی چاہیے تھی۔ وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ موجودہ فیصلہ کوئی سیاسی فیصلہ تھا اور نہ ہی کوئی آسان عمل، بلکہ یہ زمینی حقائق کے پیش نظر ایک ناگزیر اور مشکل آئینی قدم تھا۔ انہوں نے زور دیا کہ جب باہمی تعاون کے تمام راستے ختم ہو جائیں تو آئین اور ملکی سلامتی ہی اولین ترجیح ہوتے ہیں۔ انہوں نے وطنِ عزیز کے تحفظ اور دائمی امن و استحکام کے لیے دعا کی.