سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ کرایہ داری کے معاہدے کے تحت پیشگی کرایہ ادا نہ کرنا قانونی نادہندگی ہے، جبکہ کرایہ داری کی جگہ میں ایسی تبدیلیاں کرنا جن سے عمارت کی مادی قدر یا افادیت متاثر ہونے کا خدشہ ہو، بے دخلی کی بنیاد بن سکتا ہے
کرایہ ادا نہ کرنے اور عمارت کی افادیت متاثر کرنے پر پانچ کمپنیوں کی بے دخلی برقرار، سپریم کورٹ نے درخواستیں خارج کردیں

مزید خبریں
اسلام آباد۔12اکتوبر (اے پی پی):سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ کرایہ داری کے معاہدے کے تحت پیشگی کرایہ ادا نہ کرنا قانونی نادہندگی ہے، جبکہ کرایہ داری کی جگہ میں ایسی تبدیلیاں کرنا جن سے عمارت کی مادی قدر یا افادیت متاثر ہونے کا خدشہ ہو، بے دخلی کی بنیاد بن سکتا ہے۔چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس محمد شفیع صدیقی پر مشتمل سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے کراچی میں پانچ کمپنیوں کی بے دخلی سے متعلق درخواستیں مسترد کرتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ماتحت عدالتوں کے بیک وقت فیصلوں میں مداخلت کا کوئی جواز نہیں بنتا۔درخواست گزار کمپنیوں میں یونیورسل ایکسپریس (پرائیویٹ) لمیٹڈ، الکسوہ (پرائیویٹ) لمیٹڈ، ٹاپ لائن ٹریولز (پرائیویٹ) لمیٹڈ، فضلِ ربی (پرائیویٹ) لمیٹڈ اور ایگزیکٹو ایوی ایشن (پرائیویٹ) لمیٹڈ شامل ہیں۔ ان کمپنیوں نے کراچی پراپرٹیز انویسٹمنٹ کمپنی (پرائیویٹ) لمیٹڈ اور دیگر کے خلاف سندھ ہائی کورٹ کے فیصلوں کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔جسٹس محمد شفیع صدیقی کی جانب سے تحریر کردہ فیصلے میں کہا گیا کہ سندھ رینٹڈ پریمسز آرڈیننس 1979 کے تحت کرایہ مقررہ قانونی مدت میں ادا کرنا ضروری ہے۔ اگر فریقین کے درمیان کرایہ پیشگی ادا کرنے کا معاہدہ موجود ہو تو کرایہ دار محض اس بنیاد پر قانونی مہلت کا دعویٰ نہیں کر سکتا کہ ادائیگی کی کوئی مخصوص تاریخ طے نہیں تھی۔فیصلے کے مطابق عدالت میں بے دخلی کی کارروائی زیر التوا ہونے سے کرایہ دار کی کرایہ ادا کرنے کی ذمہ داری ختم نہیں ہوتی۔ دورانِ سماعت واجب الادا ہونے والا کرایہ بھی قانونی تقاضوں کے مطابق ادا کرنا ضروری ہے۔ اگر کارروائی کے دوران کرایہ کی مزید نادہندگی ریکارڈ سے ثابت ہو اور قانونی شرائط پوری ہوں تو اسے بے دخلی کی اضافی بنیاد بنایا جا سکتا ہے۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ کرایہ داری کی جگہ میں صنعتی جنریٹرز کی تنصیب، ایئرکنڈیشننگ کے لیے عمارت کے ڈھانچے میں سوراخ کرنا، اجازت کے بغیر سیڑھیاں تعمیر کرنا اور دیگر تبدیلیاں اگر عمارت کی مادی قدر یا افادیت کو متاثر کرنے کا خدشہ پیدا کریں تو یہ بے دخلی کی بنیاد بن سکتی ہیں۔فیصلے میں واضح کیا گیا کہ عمارت کی مادی قدر یا افادیت متاثر ہونے کے خدشے کو ثابت کرنے کے لیے ہر معاملے میں معمار یا انجینئر کی شہادت لازمی نہیں۔ متعلقہ شواہد اور حالات کی بنیاد پر بھی اس نتیجے پر پہنچا جا سکتا ہے، تاہم محض ہر قسم کی تبدیلی کو نقصان تصور نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس کے اثرات شواہد سے ثابت ہونا ضروری ہیں۔عدالت نے قرار دیا کہ کرایہ کی ادائیگی، واجب الادا رقم اور عمارت میں کی گئی تبدیلیوں سے متعلق شواہد کا کرایہ کنٹرولر، اپیلیٹ کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ جائزہ لے چکے ہیں۔ درخواست گزار کمپنیاں ان فیصلوں میں ایسی قانونی غلطی یا شواہد کی غلط تفہیم ثابت نہیں کر سکیں جس کی بنیاد پر سپریم کورٹ مداخلت کرتی۔سپریم کورٹ نے پانچوں درخواستیں مسترد کرتے ہوئے اپیل کی اجازت دینے سے انکار کر دیا، جس کے نتیجے میں سندھ ہائی کورٹ کے بے دخلی کے فیصلے برقرار رہے۔ ہائی کورٹ نے متعلقہ کمپنیوں کو 45 روز کے اندر کرایہ داری کی جگہیں خالی کرنے کی ہدایت کی تھی، جس پر اس مدت کا کرایہ جمع کرانے کی شرط بھی عائد کی گئی تھی۔








