وفاقی آ ئینی عدالت نے پی ایچ ڈی مقالہ جمع کرانے کی مدت میں توسیع کی درخواست مسترد کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا
وفاقی آ ئینی عدالت نے پی ایچ ڈی مقالہ جمع کرانے کی مدت میں توسیع کی درخواست مسترد کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا

مزید خبریں
اسلام آباد۔12اکتوبر (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت نے انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کی پی ایچ ڈی قانون کی طالبہ کی جانب سے مقالہ جمع کرانے کے لئے مدت میں توسیع کی درخواست مسترد کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے معاملہ دوبارہ متعلقہ حکام کو بھجوا دیا ہے۔ عدالت نے تفصیلی تحریری فیصلہ میں قرار دیا ہے کہ پی ایچ ڈی کی مقررہ مدت گزر جانے کی بنیاد پر طالبہ کی درخواست مسترد کرنا کافی نہیں بلکہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کی 2023ء کی گریجویٹ ایجوکیشن پالیسی کے تحت تاخیر کی وجوہات کا جائزہ لینا ضروری ہے خصوصاً جب تاخیر طالبہ کے اختیار سے باہر حالات یا یونیورسٹی کے انتظامی و تعلیمی امور کے باعث ہوئی ہو۔
جسٹس سید حسن اظہر رضوی اور جسٹس محمد کریم خان آغا پر مشتمل وفاقی آئینی عدالت کے دو رکنی بنچ نے یکم اکتوبر 2026ء کو شہلا خالق کی اپیل پر فیصلہ جاری کیا۔ عدالت نے اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ اور یونیورسٹی کی جانب سے 6 مئی 2025ء کو جاری کیا گیا انکار کا خط کالعدم قرار دے دیا۔تفصیلی تحریری فیصلے کے مطابق طالبہ نے 2015ء میں پی ایچ ڈی قانون کے پروگرام میں داخلہ لیا تھا اور اپنا مقالہ مکمل کرنے کے بعد 29 اگست 2024ء کو یونیورسٹی سے اسے جمع کرانے کی اجازت طلب کی تھی۔ یونیورسٹی نے مقررہ مدت گزرنے کی بنیاد پر ان کی درخواست مسترد کر دی تھی۔طالبہ کے وکیل کا مؤقف تھا کہ جامعہ میں جامع امتحان کے انعقاد اور نتائج کے اعلان میں تاخیر، تحقیقی خاکے کی منظوری کے مراحل، شادی کے بعد دور دراز علاقے میں منتقلی، انٹرنیٹ اور بجلی کی محدود سہولیات، دو بچوں کی دیکھ بھال اور کورونا وائرس کی عالمگیر وبا کے باعث تحقیقی کام متاثر ہوا۔
ان حالات کے باوجود مقالہ مکمل کیا گیا تھا۔ عدالت نے قرار دیا کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کی 2023ء کی پالیسی کے تحت غیر معمولی حالات میں پی ایچ ڈی مکمل کرنے کی مدت میں توسیع کی درخواست پر غور کیا جا سکتا ہے تاہم اس پالیسی کے تحت توسیع طالبہ کا خودکار حق نہیں بلکہ مجاز اتھارٹی کو تاخیر کی وجوہات کا جائزہ لے کر وجوہات پر مبنی فیصلہ کرنا ہوگا۔فیصلے میں مزید کہا گیا کہ تعلیمی اداروں کو اپنے تعلیمی معاملات میں خودمختاری حاصل ہے لیکن یہ خودمختاری قانون کے دائرے سے بالاتر نہیں۔ عدالتیں تعلیمی قابلیت یا تحقیقی مقالے کے معیار کا خود جائزہ لینے کی بجائے یہ دیکھ سکتی ہیں کہ متعلقہ حکام نے قانونی اور ضابطہ جاتی تقاضوں کے مطابق فیصلہ کیا یا نہیں۔
عدالت نے اس امر پر بھی زور دیا کہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والی خواتین کو شادی، نقل مکانی اور بچوں کی دیکھ بھال جیسی ذمہ داریوں کے باعث پیش آنے والی مشکلات کا متعلقہ قانونی و پالیسی فریم ورک کے تحت ہمدردانہ اور مناسب جائزہ لیا جانا چاہئے۔وفاقی آئینی عدالت نے یونیورسٹی کی مجاز اتھارٹی کو ہدایت کی ہے کہ طالبہ کو سماعت کا مناسب موقع دے کر تاخیر کی وجوہات اور متعلقہ ریکارڈ کا جائزہ لیا جائے اور فیصلے کی مصدقہ نقل موصول ہونے کے بعد ترجیحاً 30 دن کے اندر قانون اور متعلقہ پالیسی کے مطابق وجوہات پر مبنی نیا فیصلہ کیا جائے۔








