وزیر مملکت و چیئرمین پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی(پی وی اے آر اے) بلال بن ثاقب نے عالمی مالیاتی نظام کی نیکسٹ جنریشن کی تشکیل میں پاکستان کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے 15 ماہ میں ورچوئل اثاثوں کا جامع ریگولیٹری فریم ورک قائم کر لیا ہے جبکہ ملکی معیشت کو براہ راست فائدہ پہنچانے کیلئے ہمارا آئندہ چیلنج اپنی ریگولیٹری پیش رفت کو سرمایہ …
پاکستان نے 15 ماہ میں ورچوئل اثاثوں کا جامع ریگولیٹری فریم ورک قائم کر لیاہے، چیئرمین پی وی اے آر اے بلال بن ثاقب

مزید خبریں
اسلام آباد۔12اکتوبر (اے پی پی):وزیر مملکت و چیئرمین پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی(پی وی اے آر اے) بلال بن ثاقب نے عالمی مالیاتی نظام کی نیکسٹ جنریشن کی تشکیل میں پاکستان کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے 15 ماہ میں ورچوئل اثاثوں کا جامع ریگولیٹری فریم ورک قائم کر لیا ہے جبکہ ملکی معیشت کو براہ راست فائدہ پہنچانے کیلئے ہمارا آئندہ چیلنج اپنی ریگولیٹری پیش رفت کو سرمایہ کاری، روزگار، مہارت اور مالیاتی جدت میں بدلنا ہے۔پی وی اے آر اے کی جانب سے جاری بیان کے مطابق انہوں نے یہ بات گزشتہ روز وزیراعظم محمد شہباز شریف اور وفاقی کابینہ کو ورچوئل اثاثوں کے جامع ریگولیٹری فریم ورک کے قیام میں پاکستان کی پیشرفت اور عالمی مالیاتی نظام میں آنے والی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والے مواقع کے بارے میں بریفنگ میں کہی ۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ بلاک چین، سٹیبل کوائنز اور ٹوکنائزیشن تیزی سے عالمی ادائیگیوں، سرمایہ کاری اور کیپٹل مارکیٹس کا حصہ بن رہے ہیں، دنیا کے بڑے مالیاتی ادارے اور حکومتیں ان ٹیکنالوجیز پر مبنی نیا بنیادی ڈھانچہ تشکیل دے رہی ہیں۔ چیئرمین نے کہاکہ 1944 میں جب بریٹن ووڈز میں جدید عالمی مالیاتی نظام کی بنیاد رکھی گئی اس وقت پاکستان معرض وجود میں نہیں آیا تھا، آج جب پیسہ پروگرام ایبل ہو رہا ہے، پاکستان کے پاس عالمی مالیاتی نظام کی اگلی جنریشن کی تشکیل میں کردار ادا کرنے کا موقع ہے اور ہمیں اپنا مالیاتی مستقبل کرائے پر نہیں لینا، بلکہ اس کی تعمیر میں خود شریک ہونا ہے۔ وزیرمملکت نے بتایا کہ جولائی 2025 میں اپنے قیام کے بعد سے پی وی اے آر اے نے بڑے بین الاقوامی ایکسچینجز کے لئے ابتدائی ریگولیٹری گیٹ ویز متعارف کرائے ہیں، اتھارٹی نے ریگولیٹری سینڈ باکس قائم کر کے فعال کیا اور لائسنسنگ کا جامع فریم ورک تیار کیا۔
ورچوئل ایسٹس ایکٹ 2026 کی منظوری کے تقریبا پانچ ماہ بعد، 21 اگست 2026 کو لائسنسنگ ریگولیشنز کے دو سیٹ نوٹیفائی کئے گئے، یہ تمام اہداف اتھارٹی کے مجموعی بجٹ کے 8 فیصد سے بھی کم میں حاصل کئے گئے، اسی دوران سٹیٹ بینک آف پاکستان نے اپریل 2026 میں 2018 کی پابندیوں کی جگہ پی وی اے آر اے سے لائسنس یافتہ ورچوئل اثاثہ کاروباروں کے لئے مشروط بینکنگ فریم ورک متعارف کرایا۔انہوں نے بتایاکہ اے آئی اتھارٹی کے کام کا بنیادی حصہ ہے۔، لائسنسنگ درخواستوں کی ٹریکنگ، دستاویزات میں خامیوں کی نشاندہی اور ریگولیٹری جائزوں میں معاونت کے لیے اے آئی پر مبنی ورک فلوز پہلے ہی استعمال ہو رہے ہیں۔ اے آئی سے چلنے والے شکایات مینجمنٹ سسٹم کی بیٹا ٹیسٹنگ بھی جاری ہے۔ پی وی اے آر اے "پی وی اے آر اے برین” کے نام سے ایک اے آئی نیٹو ریگولیٹری پلیٹ فارم بھی تیار کر رہی ہے، اس کے ابتدائی پروف آف کانسیپٹ میں 11 ادارہ جاتی شعبوں میں 74 اے آئی ایجنٹس شامل ہیں۔
چیئرمین نے اس بات پر زور دیا کہ یہ نظام انسانی نگرانی، شفافیت اور جوابدہی کی بنیاد پر تیار کیا جا رہا ہے اور ریگولیٹری فیصلوں کا اختیار بدستور نامزد افسران کے پاس رہے گا۔انہوں نے بتایا کہ ملکی فریم ورک کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر بھی پاکستان کا کردار بڑھ رہا ہے۔ ستمبر 2026 میں پی وی اے آر اے نے نیویارک میں یو این ڈیجیٹل کوآپریشن ڈے کے موقع پر "بلاک چین اور ٹوکنائزڈ مستقبل” کے عنوان سے اعلی سطحی مکالمے کا انعقاد کیا، یہ مکالمہ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن اور اقوام متحدہ کے دفتر برائے ڈیجیٹل و ابھرتی ٹیکنالوجیز کے اشتراک سے منعقد ہوا۔ پاکستان کا ریگولیٹری فریم ورک یو این ڈی پی، انکٹاڈ اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے خصوصی ایلچی برائے ٹیکنالوجی کے دفتر کے سامنے بھی پیش کیا گیا۔ وہاں اسے ترقی پذیر ممالک کے لئے ایک ممکنہ ماڈل کے طور پر پیش کیا گیا۔ پی وی اے آر اے نے سرحد پار نگرانی میں تعاون مضبوط بنانے کے لیے قازقستان اور کرغزستان کے ساتھ ریگولیٹری مفاہمتی یادداشتوں پر بھی دستخط کئے ہیں۔
آئندہ مرحلے کے لئے چیئرمین نے پی وی اے آر اے کی چار ترجیحات بیان کیں۔ ان میں ادارہ جاتی استعداد میں اضافہ، سپرویژن اور انفورسمنٹ کو فعال بنانا، موجودہ مالیاتی ریگولیٹرز کے ساتھ رابطہ کاری کو مزید مضبوط کرنا، اور سرحد پار ادائیگیوں اور خودمختار اثاثوں کی ٹوکنائزیشن کے لئے منظم پائلٹ تجاویز کی تیاری شامل ہیں۔ وزیرمملکت نے بتایا کہ خودمختار قرضوں کی ٹوکنائزیشن پر وزارت خزانہ اور متعلقہ مالیاتی اداروں کے ساتھ ابتدائی کام جاری ہے،اس میں مجوزہ ڈیجیٹل یورو بانڈز کا اجرا اور نیا پاکستان سرٹیفکیٹس کی ممکنہ ٹوکنائزیشن شامل ہے، تاہم ان پر عملدرآمد ضروری ریگولیٹری اور حکومتی منظوریوں سے مشروط ہوگا۔ لائسنس سے متعلق حتمی فیصلے ریگولیٹری جائزے، ڈیو ڈیلیجنس اور پاکستانی قانون کے تحت درکار حفاظتی اقدامات سے مشروط رہیں گے۔
چیئرمین نے کہاکہ ہمارا مقصد محض اعلانات کے لئے لائسنس جاری کرنا نہیں، بلکہ ایک ایسا ریگولیٹر تشکیل دینا ہے جس کے لائسنس معتبر ہوں، جس کی نگرانی پاکستانیوں کو تحفظ فراہم کرے، اور جس کا فریم ورک ذمہ دارانہ سرمایہ کاری اور جدت کی راہ ہموار کرے۔ وزیرمملکت وچئیرمین نے کہا کہ پاکستان کا اگلا چیلنج اپنی ریگولیٹری پیش رفت کو سرمایہ کاری، روزگار، مہارت اور مالیاتی جدت میں بدلنا ہے، تاکہ اس کا براہ راست فائدہ ملکی معیشت کو پہنچے۔








