ثمر ہارون بلور نے مشیر برائے اطلاعات و تعلقاتِ عامہ خیبر پختونخوا کا چارج سنبھال لیا، لاہوری گیٹ دفتر آمد پر کارکنوں کا والہانہ استقبال

گورنر خیبر پختونخوا کی مشیر برائے اطلاعات و تعلقاتِ عامہ ثمر ہارون بلور نے اپنی ذمہ داریاں سنبھال لیں۔محکمہ اطلاعات خیبرپختونخوا تر جمان کے مطابق چارج سنبھالنے کے بعد وہ لاہوری گیٹ میں واقع اپنے دفتر پہنچیں، جہاں کارکنوں نے ان کا والہانہ استقبال کیا۔ اس موقع پر انہوں نے میڈیا نمائندوں سے گفتگو بھی کی۔

پشاور۔ 12 اکتوبر (اے پی پی):گورنر خیبر پختونخوا کی مشیر برائے اطلاعات و تعلقاتِ عامہ ثمر ہارون بلور نے اپنی ذمہ داریاں سنبھال لیں۔محکمہ اطلاعات خیبرپختونخوا تر جمان کے مطابق چارج سنبھالنے کے بعد وہ لاہوری گیٹ میں واقع اپنے دفتر پہنچیں، جہاں کارکنوں نے ان کا والہانہ استقبال کیا۔ اس موقع پر انہوں نے میڈیا نمائندوں سے گفتگو بھی کی۔

ثمر ہارون بلور نے کہا کہ وہ گورنر خیبر پختونخوا کے اعتماد پر پورا اترنے اور عوام کی خدمت کے لیے بھرپور کردار ادا کریں گی۔ خیبر پختونخوا کے عوام کی خدمت کرنا ان کے لیے اعزاز ہے اور عوامی خدمت کی روایت کو آگے بڑھانا ان کا عزم ہے۔انہوں نے کہا کہ بلور خاندان نے ہمیشہ اپنی سرزمین اور وطن کے لیے قربانیاں دی ہیں۔ اپنے عوام کو خوشحال اور آباد دیکھنا ان کا خواب ہے اور وہ اس مقصد کے حصول کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائیں گی۔

گورنر راج سے متعلق سوال پر ثمر ہارون بلور نے کہا کہ گورنر راج کی مدت کا تاحال کوئی تعین نہیں کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ پشاور اور خیبر پختونخوا کو گزشتہ 13 سال سے ایسی حکومت کا سامنا رہا جس نے سیاست کو گالی گلوچ تک محدود کر دیا اور پشاور کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا۔ ان کے مطابق صوبے میں وسائل کی کوئی کمی نہیں، ضرورت صرف مؤثر حکمت عملی اور مضبوط عزم کی ہے تاکہ خیبر پختونخوا کو دوسرے صوبوں کے برابر لایا جا سکے۔ثمر ہارون بلور نے کہا کہ ذمہ داریاں سنبھالنے کے پہلے ہی روز گورنر خیبر پختونخوا نے اپیکس کمیٹی کا اجلاس طلب کیا۔ صوبے میں امن و امان کا قیام اور عوام کی خوشحالی اہم ترجیحات میں شامل ہیں۔

پائیدار امن کے ذریعے ہی ترقی اور خوشحالی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے، جبکہ عوام کی جان و مال کا تحفظ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔انہوں نے امن کے قیام کے لیے سکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق 232 شہادتیں پاک فوج کے جوانوں کی ہوئیں۔ شہدائ کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھنا اور ان کے اہلِ خانہ کی خبرگیری کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومتی پالیسی عوامی مشاورت کی بنیاد پر تشکیل دی جائے گی اور آپریشنز صرف انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کیے جائیں گے۔

صحت اور تعلیم کے شعبوں میں بہتری لائی جائے گی، جبکہ حکومت پولیس اور سکیورٹی فورسز کو مکمل تعاون فراہم کرے گی۔ثمر ہارون بلور نے شہدائ کے اہلِ خانہ کی خبرگیری اور ان کے ساتھ کھڑے ہونے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام امن، ترقی اور خوشحالی کےمستحق ہیں۔ عوام کے تحفظ، بنیادی سہولیات کی بہتری اور صوبے کی ترقی کے لیے مؤثر اقدامات کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بلور خاندان کی عوامی خدمت کی روایت کو جاری رکھتے ہوئے خیبر پختونخوا کے عوام کی خدمت اور صوبے کی ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم اس عزم کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں کہ ہمارے پاس ناکام ہونے کا کوئی آپشن نہیں۔