کراچی انتظامیہ کاشہر میں غیر قانونی بل بورڈز کے خلاف کریک ڈائون کا فیصلہ

کراچی انتظامیہ نے شہر میں غیر قانونی بل بورڈز کے خلاف کریک ڈائون کرنے کا فیصلہ کرلیاہے۔جاری اعلامیہ کے مطابق یہ فیصلہ کمشنر کراچی سید حسن نقوی کی زیر صدارت ان کے دفتر میں ڈپٹی کمشنر ز، میونسپل کمشنر ز ،نمائندہ ایڈور ٹائزر ایسوسی ایشن کے عہدیداروں کے ساتھ اجلاس میں کیا گیا۔کمشنر کراچی سید حسن نقوی نے تمام ٹائون میونسپل ایڈمنسٹریشز ز

کراچی۔ 12 اکتوبر (اے پی پی):کراچی انتظامیہ نے شہر میں غیر قانونی بل بورڈز کے خلاف کریک ڈائون کرنے کا فیصلہ کرلیاہے۔جاری اعلامیہ کے مطابق یہ فیصلہ کمشنر کراچی سید حسن نقوی کی زیر صدارت ان کے دفتر میں ڈپٹی کمشنر ز، میونسپل کمشنر ز ،نمائندہ ایڈور ٹائزر ایسوسی ایشن کے عہدیداروں کے ساتھ اجلاس میں کیا گیا۔کمشنر کراچی سید حسن نقوی نے تمام ٹائون میونسپل ایڈمنسٹریشز ز، بلدیہ عظمی کراچی،کنٹونمنٹ بورڈ ز ودیگر ترقیاتی اداروں اور ایڈور ٹائز ز کو تنبیہ کی ہے کہ وہ بل بورڈز کے مطلوبہ قوانین کی پابندی کریں جو بورڈز قانون کے خلاف ہیں انہیں قانون کے دائرہ میں لائیں یا ہٹا دیا جائیں۔ کمشنر کراچی نے ایڈ ورٹائزرز کو اس کے لئے پندرہ روز کی مہلت دی ہے اور کہا ہے کہ وہ فوری اقدامات کریں ۔ اجلاس میں ایڈ یشنل کمشنر کراچی ون غلام مہدی شاہ ،اسسٹنٹ کمشنر جنرل وقاص عباسی اورتمام ڈپٹی کمشنر ز ( بزریعہ ویڈیو,لنک )تمام ٹائون میونسپل کمشنر ز، کنٹونمنٹ بورڈ ز کے افسران اور بلدیہ عظمی کے میونسپل کمشنر سمیت متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اسسٹنٹ کمشنر جنرل وقاص عباسی نے غیر قانونی بل بورڈز کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔انہوں نے کہا کہ کمشنر کراچی کی ہدایت پر کمشنر آفس نے شہر میں غیر قانونی بل بورڈز کی روک تھام انہیں قانون کے دائرہ میں لانے اور اس کے مستقل لائحہ عمل تیار کرنے کے لیے سروے مکمل کر لیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ابتدائی سروے میں کراچی کے مختلف اضلاع میں 224غیر قانونی بل بورڈز اور ہورڈنگز کی نشاندہی کی گی ہے تفصیلات کے مطابق ضلع شرقی میں 80،ضلع وسطی میں 81،ضلع جنوبی میں 47اور ضلع عربی میں 16غیر قانونی آویزاں بل بورڈز شامل ہیں ۔

کمشنرکراچی نے کہا کہ کمشنر آفس نے شہر بھر میں قائم غیر قانونی، قواعد کے برعکس اور سڑکوں و پبلک پراپرٹی پر نصب بل بورڈز اور ہورڈنگز کو ہٹانے کے لیے جامع منصوبہ بندی اور حکمت عملی مرتب کر لی ہے۔انہوں نے کہا کہ عدالتِ عالیہ اور عدالتِ عظمی کے فیصلوں پر من و عن عمل درآمد کیا جائے گا اور متعلقہ قانون کے تمام تقاضے پورے کئے جائیں گے۔ اجلاس میں تمام 224بورڈز کے غیر قانونی پہلوں کی نشاندہی کی گی ۔کمشنر کراچی نے تصاویر کے ذریعے نشاندہی کی گئی ایک ایک بل بورڈ کے غیر قانونی پہلو کی وضاحت کی بعض معمولی خامیوں کے حامل بل بورڈز کو قانون کے دائرے میں لانے کے لئے انہیں درست کر نے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں وضاحت کی گئی کہ پبلک پراپرٹی پر کسی بھی قسم کا بل بورڈ یا ہورڈنگ لگانے کی اجازت نہیں ہے۔ پبلک پراپرٹی کے زمرے میں شامل تمام مقامات سڑکیں، فٹ پاتھ، روڈ آئی لینڈز/میڈیئنز، گرین بیلٹس/ڈیوائیڈرز، رائونڈ اباٹس، پیدل چلنے کے راستے ماسوائے پیڈسٹرین برج اوور انڈر پاسز، نالے اور نالوں کے کنارے و دیگر عوامی مقامات شامل ہیں۔ پبلک مقامات پر الیکٹرانک بل بورڈز ،گرائونڈ پر نصب بل بورڈز سمیت بل بورڈز شامل ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ پبلک یا پرائیویٹ پراپرٹی پر تمام خطرناک اور قوانین سے متصادم ساختوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی نافذ کی گئی ہے۔

اجلاس میں ڈپٹی کمشنر شرقی نصر اللہ عباسی ،ڈپٹی کمشنر جنوبی جاوید نبی کھوسو، ڈپٹی کمشنر عربی ذوالفقار میمن اورڈپٹی کمشنر وسطی طحہ سلیم نے اپنے اپنے ضلع میں غیر قانونی بل بورڈز کے خلاف اقدامات کے بارے میں بریفنگ دی۔ ا جلاس کو بتایا گیا کہ ضلع جنوبی اور ضلع شرقی میں تمام غیر قانونی بل بورڈز کو فوری ہٹایا جائے گا اور خلاف ورزی کرنے والی ایڈورٹائزنگ ایجنسیوں کے سی ای اوز کے ساتھ ساتھ اجازت نامہ جاری کرنے والے افسران کے خلاف سندھ پبلک پراپرٹی (ریموول آف انکروچمنٹ) ایکٹ کے تحت ایف آئی آرز درج کی جائیں گی۔اجلاس میں کے ایم سی اور تمام 25 ٹائون میونسپل کارپوریشنز میں اعلی تعلیم یافتہ اور نامور آرکیٹیکچرل انجینئرز پر مشتمل ویجیلنس کمیٹیوں کے قیام کا جائزہ لیا گیااور بتایا گیا کہ اب تک 14ٹی ایم سیز سے نوٹیفکیشن موصول ہو چکے ہیں جبکہ باقی 11 ٹی ایم سیز کو فوری عمل درآمد کے لئے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ اجلاس میں چھتوں اور پرائیویٹ املاک پر لگے اشتہارات کے لیے طے شدہ سائز کی سخت پابندی پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کا فیصلہ کیاگیا ۔