وفاقی وزیر داخلہ سید محسن نقوی نے خیبر پختونخوا کے 12 حساس اضلاع میں پائیدار امن کے قیام اور سماجی و اقتصادی ترقی کے عمل کو تیز کرنے کے لیے مقامی نمائندوں اور قبائلی عمائدین سے مشاورت کے ذریعے جامع ترقیاتی حکمت عملی مرتب کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے یہ بات خیبر پختونخوا کے آٹھ قبائلی اضلاع اور چار سیٹلڈ اضلاع میں ترقیاتی، مالیاتی اور ہنگامی …
خیبر پختونخوا کے 12 حساس اضلاع میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے خطیر فنڈز مختص کرنے کا فیصلہ، وزیر داخلہ محسن نقوی

مزید خبریں
پشاور۔ 12 اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر داخلہ سید محسن نقوی نے خیبر پختونخوا کے 12 حساس اضلاع میں پائیدار امن کے قیام اور سماجی و اقتصادی ترقی کے عمل کو تیز کرنے کے لیے مقامی نمائندوں اور قبائلی عمائدین سے مشاورت کے ذریعے جامع ترقیاتی حکمت عملی مرتب کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے یہ بات خیبر پختونخوا کے آٹھ قبائلی اضلاع اور چار سیٹلڈ اضلاع میں ترقیاتی، مالیاتی اور ہنگامی اقدامات کی نگرانی کے لیے قائم ایریا ڈویلپمنٹ سیکرٹریٹ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ مقامی عمائدین، منتخب نمائندوں اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کی سفارشات اور تجاویز کو ترقیاتی منصوبوں کی منصوبہ بندی اور عملدرآمد میں بھرپور اہمیت دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت دہشت گردی سے متاثرہ اضلاع میں تیز رفتار ترقی یقینی بنانا چاہتی ہے تاکہ عوام کو بہتر شہری سہولیات، روزگار کے مواقع اور دیگر بنیادی ضروریات ان کی دہلیز پر فراہم کی جا سکیں۔ محسن نقوی نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف خود خیبر پختونخوا کی صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں اور انہوں نے تمام متعلقہ اداروں کو صوبے میں امن کی بحالی اور ترقیاتی عمل تیز کرنے کے لیے بھرپور تعاون فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔ خیبر پختونخوا کی کسی بھی تقسیم سے متعلق قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے محسن نقوی نے واضح کیا کہ ہنگامی انتظامات کے تحت آنے والے 12 اضلاع صوبے کا اٹوٹ حصہ ہیں اور بدستور خیبر پختونخوا کا حصہ رہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت ان اضلاع میں سکیورٹی کے نظام کو مضبوط بنانے پر بھی بیک وقت توجہ دے گی جبکہ امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جدید آلات اور ضروری وسائل فراہم کیے جائیں گے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ متاثرہ اضلاع میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے خطیر فنڈز مختص کیے جائیں گے اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ان فنڈز کا شفاف، بروقت اور مؤثر استعمال یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس اور متعلقہ ایڈیشنل چیف سیکرٹری ایریا ڈویلپمنٹ سیکرٹریٹ کے تحت سکیورٹی، مالیاتی اور انتظامی امور کی نگرانی کریں گے جبکہ متعلقہ محکموں اور اداروں کے درمیان قریبی رابطہ اور مؤثر کوآرڈی نیشن یقینی بنایا جائے گا۔
محسن نقوی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وفاقی حکومت سکیورٹی کے نظام کو مضبوط بنانے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار بڑھانے کے لیے خیبر پختونخوا حکومت کو ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔ انہوں نے بالخصوص پولیس اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کی استعداد کار بڑھانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بدلتے ہوئے سکیورٹی چیلنجز سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے جدید تربیت، آلات، گاڑیوں اور ادارہ جاتی معاونت ناگزیر ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ نے زور دیا کہ سکیورٹی اور ترقی کا عمل بیک وقت آگے بڑھنا چاہیے کیونکہ پائیدار امن مؤثر قانون نافذ کرنے، بہتر طرز حکمرانی اور بامعنی سماجی و اقتصادی ترقی کے امتزاج ہی سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔








