برطانیہ نے مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے خطرات سے تحفظ کے لیے سائبر سکیورٹی کو مضبوط بنانے، قانونی تحفظات میں اضافے اور خودکار اے آئی نظاموں سے متعلق سنگین واقعات سے نمٹنے کی تیاری کے لیے متعدد اقدامات کا اعلان کیا ہے
برطانیہ کا اے آئی کے بڑھتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے قومی دفاعی نظام مضبوط بنانے کا فیصلہ

مزید خبریں
لندن ۔13اکتوبر (اے پی پی):برطانیہ نے مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے خطرات سے تحفظ کے لیے سائبر سکیورٹی کو مضبوط بنانے، قانونی تحفظات میں اضافے اور خودکار اے آئی نظاموں سے متعلق سنگین واقعات سے نمٹنے کی تیاری کے لیے متعدد اقدامات کا اعلان کیا ہے۔اماراتی نیوز ایجنسی وام کے مطابق حکومت فوری طور پر جدید ترین اے آئی ٹیکنالوجی کو سائبر دفاع کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے استعمال کرے گی۔اعلان کردہ ان اقدامات کی بنیاد دو آزمائشی منصوبوں پر ہے، جن کے ذریعے حکومتی نظاموں میں سائبر سکیورٹی کی ایک ہزار سےزیادہ ممکنہ خامیوں کی نشاندہی اور انہیں دور کرنے میں مدد ملی، جبکہ ممکنہ سائبر خطرات کا بھی پتا لگایا گیا۔اس پروگرام کو وسعت دینے سے عوام کو روزمرہ دستیاب سرکاری خدمات کو درپیش خطرات کم کرنے میں مدد ملے گی، جبکہ سرکاری شعبے میں طویل المدتی بنیادوں پر اے آئی کے استعمال کو بھی فروغ حاصل ہوگا۔امپیریل کالج لندن کے سائنس و ٹیکنالوجی انکیوبیٹر ’’بیس ون‘‘ میں خطاب کرتے ہوئے اے آئی کے وزیر کنشکا نارائن نے ابھرتے ہوئے اے آئی خطرات سے نمٹنے کے لیے معاشرے کے تمام شعبوں پر مشتمل مشترکہ حکمت عملی کی ضرورت پر زور دیا، تاکہ یہ ٹیکنالوجی برطانوی عوام کے مفادات کے تحفظ، خوشحالی میں اضافے اور سلامتی کو مضبوط بنانے میں اپنا کردار ادا کرتی رہے۔وزیر نے خبردار کیا کہ جیسے جیسے جدید ترین اے آئی نظام زیادہ طاقتور اور خودمختار طور پر کام کرنے کے قابل ہو رہے ہیں، ان کی ناکامی یا بدنیتی پر مبنی استعمال کے ممکنہ نتائج کہیں زیادہ سنگین ہو سکتے ہیں۔ وہ اس موقف پر زور دیں گے کہ برطانیہ کو اپنے دفاعی نظام کو مضبوط بنانے اور مستقبل میں پیش آنے والے سنگین واقعات سے نمٹنے کی تیاری کے لیے ابھی اقدامات کرنے چاہئیں۔وزیر نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ برطانیہ کے اے آئی سکیورٹی انسٹی ٹیوٹ کے سائنس دان جدید ترین اے آئی ماڈلز کی سخت جانچ کر رہے ہیں۔ یہ پیش رفت اے آئی ٹیکنالوجی تیار کرنے والے بڑے اداروں اور امریکی حکومت کے ساتھ کام کے بعد سامنے آئی ہے۔








