ایشیا پیسفک خطے میں پائیدار ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے اسلام آباد میں سہ روزہ بین الاقوامی سمپوزیم کا باقاعدہ آغاز،14 ممالک کی شرکت

ایشیا پیسفک خطے میں پائیدار ڈیجیٹل معیشت کے فروغ اور غیر مربوط آبادیوں کو جدید مواصلاتی نظام سے جوڑنے کے لیے اسلام آباد میں سہ روزہ بین الاقوامی سمپوزیم کا باقاعدہ آغاز ہو گیا

اسلام آباد۔13اکتوبر (اے پی پی):ایشیا پیسفک خطے میں پائیدار ڈیجیٹل معیشت کے فروغ اور غیر مربوط آبادیوں کو جدید مواصلاتی نظام سے جوڑنے کے لیے اسلام آباد میں سہ روزہ بین الاقوامی سمپوزیم کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ۔ منگل کو ایشیا پیسفک ٹیلی کمیونٹی (اے پی ٹی) اور وزارت آئی ٹی کے ادارے یونیورسل سروس فنڈ (یو ایس ایف) کے اشتراک سے منعقدہ سمپوزیم کا بنیادی مقصد ’’ٹوکیو اعلامیہ 2025‘‘کے علاقائی اہداف کو عملی حکمت عملی میں تبدیل کرنا ہے۔کانفرنس میں ایشیا پیسفک خطے کے 14 رکن ممالک کے سرکاری وفود، پالیسی ساز، بین الاقوامی ٹیلی کام ریگولیٹرز اور صنعتی ماہرین شریک ہیں جو آئندہ تین روز کے دوران ڈیجیٹل تقسیم کے خاتمے، جدید فنڈنگ ماڈلز اور مصنوعی ذہانت کے دور میں دور دراز علاقوں تک تیز رفتار براڈبینڈ کی فراہمی کے روڈ میپ پر غور کریں گے۔ سمپوزیم کے افتتاحی اجلاس میں وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ، چیئرمین پی ٹی اے میجر جنرل (ر) حفیظ الرحمٰن، سیکرٹری جنرل اے پی ٹی مسانوری کونڈو اور سی ای او یو ایس ایف چوہدری مدثر نوید سمیت اہم شخصیات نے شرکت کی۔ایشیا پیسفک ٹیلی کمیونٹی کے سیکرٹری جنرل مسانوری کونڈو نے سمپوزیم سے کلیدی خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے اعلیٰ انتظامات اور روایتی میزبانی کو سراہا۔ انہوں نے زور دیا کہ یونیورسل سروس فنڈز کا روایتی دائرہ کار، جو صرف غیر تجارتی علاقوں میں بنیادی ٹاورز یا کیبلز بچھانے تک محدود تھا، اب بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے سے مطابقت نہیں رکھتا۔انہوں نے کہا کہ اب اصل چیلنج یہ ہے کہ یونیورسل سروس فنڈ (یو ایس ایف )کس طرح جدید ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کا محرک بنے، پسماندہ طبقات تک ہائی سپیڈ براڈبینڈ تیزی سے پہنچائے اور سیٹلائٹ انٹرنیٹ سمیت جدید ٹیکنالوجیز کو اپنائے۔ انہوں نے فنڈز کے شفاف اور پائیدار انتظام پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور جدید نیٹ ورکس کے دور میں خطے کے ممالک کا باہمی عملی تجربات کا تبادلہ اور نئی شراکت داریاں ناگزیر ہو چکی ہیں۔سی ای او یونیورسل سروس فنڈ چوہدری مدثر نوید نے شرکا کا خیرمقدم کرتے ہوئے واضح کیا کہ فزیکل انفراسٹرکچر یا ٹاور لگانا محض شروعات ہے، اصل ڈیجیٹل تبدیلی کنیکٹیویٹی کے معیار، لاگت اور شہریوں کی ڈیجیٹل مہارتوں سے ممکن ہوتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم کے ’’ڈیجیٹل پاکستان‘‘ویژن کے تحت یو ایس ایف اب تک 169 ارب روپے کی سبسڈی کے ذریعے 185 میں سے 158 منصوبے مکمل کر چکا ہے، جن سے 3 کروڑ 84 لاکھ افراد مستفید ہوئے اور یہ ملک کے کل ٹیلی کام انفراسٹرکچر کا 9 فیصد بنتا ہے۔انہوں نے مظفر گڑھ کے دیہات ’’جھگی والا‘‘ کے منصوبے کو ماڈل قرار دیا جہاں تیز رفتار انٹرنیٹ کے ساتھ مقامی خواتین کو ڈیجیٹل ایمبیسیڈرز بنا کر روزگار کے قابل بنایا گیا۔ چوہدری مدثر نوید نے سمپوزیم کے 5 بنیادی تھیمز اور 10 سیشنز کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ بحث کا مرکز پالیسی ہم آہنگی، یو ایس ایف کا نیا مینڈیٹ، صنفی ڈیجیٹل خلا کا خاتمہ، گلوبل گورننس اور مصنوعی ذہانت، ڈیٹا سینٹرز و ایج کمپیوٹنگ جیسے جدید تقاضے ہوں گے جس کا حتمی نتیجہ ایشیا پیسفک ممالک کے لیے ایک مشترکہ روڈ میپ اور ایکشن رپورٹ کی صورت میں نکلے گا۔