وزیراعظم محمد شہباز شریف سے یورپی یونین کیلئے کمشنر برائے داخلی امور اور مائیگریشن میگنس برونر کی ملاقات، پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان ہجرت مائیگریشن اور موبلٹی کے شعبوں میں تعاون کو مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال
وزیراعظم محمد شہباز شریف سے یورپی یونین کیلئے کمشنر برائے داخلی امور اور مائیگریشن میگنس برونر کی ملاقات، پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان ہجرت مائیگریشن اور موبلٹی کے شعبوں میں تعاون کو مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال

مزید خبریں
اسلام آباد۔13اکتوبر (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے غیر قانونی ہجرت کی روک تھام اور انسانی سمگلنگ کے خاتمے کے لیے قانون سازی کی اصلاحات، ادارہ جاتی استحکام، موثر کارروائی اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے پاکستان کی مسلسل کوششوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی ہنر مند کارکنوں اور پیشہ ور افراد کے لیے قانونی راستے کھولنے سے جہاں یورپی ممالک کی لیبر مارکیٹ کی ضروریات پوری ہوں گی، وہاں غیر قانونی طریقوں اور سمگلنگ کے جال میں پھنسنے کے خطرات میں بھی کمی آئے گی۔

منگل کو وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق یورپی یونین کے لیے کمشنر برائے داخلی امور اور مائیگریشن میگنس برونر نے وزیراعظم محمد شہباز شریف سے ملاقات کی۔ملاقات میں پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان ہجرت (مائیگریشن) اور نقل و حرکت (موبلٹی) کے شعبوں میں تعاون کو مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا جو کہ پاکستان-یورپی یونین سٹریٹجک انگیجمنٹ پلان 2019 کے آٹھ اہم ستونوں میں سے ایک ہے۔کمشنر برونر کو ان کے پہلے دورہ پاکستان پر خوش آمدید کہتے ہوئے وزیراعظم نے یورپی یونین کے ساتھ پاکستان کی شراکت داری کی اہمیت کو اجاگر کیا۔انہوں نے پاکستان-یورپی یونین سٹریٹجک انگیجمنٹ پلان کے تمام شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔
وزیراعظم نے غیر قانونی ہجرت کی روک تھام اور انسانی سمگلنگ کے خاتمے کے لیے قانون سازی کی اصلاحات، ادارہ جاتی استحکام، موثر کارروائی اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے پاکستان کی مسلسل کوششوں کا ذکر کیا۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ غیر قانونی نقل مکانی کو روکنے کی کوششوں کے ساتھ ساتھ محفوظ، منظم اور قانونی ہجرت کے عملی مواقع فراہم کیے جانے چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی ہنر مند کارکنوں اور پیشہ ور افراد کے لیے قانونی راستے کھولنے سے جہاں یورپی ممالک کی لیبر مارکیٹ کی ضروریات پوری ہوں گی، وہاں غیر قانونی طریقوں اور سمگلنگ کے جال میں پھنسنے کے خطرات میں بھی کمی آئے گی۔کمشنر برونر نے حکومت پاکستان کے اقدامات اور فراہم کردہ تعاون کو سراہا۔انہوں نے اعتماد کا اظہار کیا کہ یہ کوششیں قانونی ہجرت کے راستے کھولنے اور پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان باہمی مفاد پر مبنی لیبر موبلٹی (ملازمت کے لیے نقل مکانی) کے فروغ میں مثبت کردار ادا کریں گی۔








