راولپنڈی ،کمشنر کی ڈینگی کے خلاف موثر اقدامات جاری رکھنے کی ہدایت

کمشنر راولپنڈی ڈویژن سلمان غنی کی زیر صدارت انسداد ڈینگی اقدامات کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں انسداد ڈینگی اقدامات، ویکٹر سرویلنس، لاروا کیسز، فیلڈ رسپانس، فوگنگ، صفائی ستھرائی اور عوامی آگاہی سرگرمیوں کا جائزہ لیا گیا

راولپنڈی۔ 13 اکتوبر (اے پی پی):کمشنر راولپنڈی ڈویژن سلمان غنی کی زیر صدارت انسداد ڈینگی اقدامات کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں انسداد ڈینگی اقدامات، ویکٹر سرویلنس، لاروا کیسز، فیلڈ رسپانس، فوگنگ، صفائی ستھرائی اور عوامی آگاہی سرگرمیوں کا جائزہ لیا گیا۔

کمشنر آفس راولپنڈی میں منعقدہ اس اجلاس میں ڈائریکٹر ہیلتھ و دیگر متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔کمشنر راولپنڈی نے انسداد ڈینگی اجلاس کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ رواں سال ضلع راولپنڈی میں ڈینگی کی صورتحال گزشتہ سال کی نسبت بہتر رہی ہے تاہم ہمیں انسداد ڈینگی سرگرمیاں اسی رفتار سے جاری رکھنی ہیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ حساس یونین کونسلز میں ڈینگی سرویلنس، لاروا رسپانس اور صفائی ستھرائی کی سرگرمیوں کو مزید موثر بنایا جائے اور فیلڈ ٹیموں کی کارکردگی کی مسلسل نگرانی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈینگی کے خاتمے کے لیے تمام متعلقہ محکمے مربوط انداز میں کام جاری رکھیں اور ہاٹ سپاٹس پر خصوصی توجہ دی جائے۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ گھروں اور اردگرد کے ماحول میں پانی کھڑا نہ ہونے دیں اور ڈینگی لاروا کی افزائش کے ممکنہ مقامات کی فوری نشاندہی کریں۔

اجلاس میں محکمہ صحت کی جانب سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ یکم جنوری2026 سے اب تک 54 کنفرم ڈینگی مریض رپورٹ ہوئے جن میں سے 48 کامیاب علاج معلاجے کے بعد ڈسچارج اور اس وقت محض 06 مریض ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ اس سال ان ڈور اور آؤٹ ڈور ویکٹر سرویلنس کا دائرہ کار وسیع کیا گیا ہے جبکہ حساس علاقوں میں گھروں اور ہاٹ سپاٹس کی باقاعدگی سے چیکنگ، لاروا کی نشاندہی اور فوری رسپانس جاری ہے۔ان ڈور دیکٹر سرویلئنس میں اس سال اب تک 5426300 گھروں کو چیک کیا گیا جس کے دوران 192854 گھر پازیٹو نکلے ۔ اسی طرح آؤٹ ویکٹر سرویلئنس میں 1875723 ہاٹ سپاٹس چیک کیے گئے جن میں سے 26056 سپاٹس پازیٹو نکلے جہاں مطلوبہ کاروائی عمل میں لائی گئی۔ ڈینگی ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف اقدامات میں 2798 ایف آئی آرز، 686 عمارتیں سیل، 2331 چالان اور 31,56,000 روپے کا جرمانہ عائد کیا گیا۔