ایس ایس ڈی او نے بچوں کے تحفظ اور ان کے لئے محفوظ تعلیمی ماحول کی فراہمی کے حوالے سے آگاہی مہم کا آغاز کر دیا

سسٹین ایبل سوشل ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن (ایس ایس ڈی او ) نے بچوں کے تحفظ اور ان کے لیے محفوظ تعلیمی ماحول کی فراہمی کے حوالے سے آگاہی مہم ’’بچوں کا تحفظ ہم سب کی ذمہ داری ہے‘‘ کا آغاز کر دیا۔ اس سلسلے میں منگل کو فاطمہ جناح ویمن یونیورسٹی راولپنڈی میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے نمائندوں کے ساتھ ایک مشاورتی اجلاس منعقد ہوا جس میں …

اسلام آباد۔13اکتوبر (اے پی پی):سسٹین ایبل سوشل ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن (ایس ایس ڈی او ) نے بچوں کے تحفظ اور ان کے لیے محفوظ تعلیمی ماحول کی فراہمی کے حوالے سے آگاہی مہم ’’بچوں کا تحفظ ہم سب کی ذمہ داری ہے‘‘ کا آغاز کر دیا۔ اس سلسلے میں منگل کو فاطمہ جناح ویمن یونیورسٹی راولپنڈی میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے نمائندوں کے ساتھ ایک مشاورتی اجلاس منعقد ہوا جس میں بچوں کے تحفظ کے نظام کو مؤثر بنانے، تعلیمی اداروں میں حفاظتی اقدامات کے فروغ اور بچوں کے ساتھ بدسلوکی، تشدد اور استحصال کی روک تھام پر تبادلہ خیال کیا گیا۔مہم کے تحت راولپنڈی کے سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں میں زیرِ تعلیم بچوں اور ان کے والدین سمیت تقریباً 30 ہزار افراد کو بچوں کے حقوق، تحفظ اور حفاظتی تدابیر کے حوالے سے آگاہی فراہم کی جائے گی۔ اس مہم کا دائرہ کار اسلام آباد، منڈی بہاؤالدین، جہلم، ملتان اور پشاور تک بھی بڑھایا جائے گا۔اجلاس میں وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے اطلاعات و نشریات بیرسٹر دانیال چوہدری، چیئرپرسن چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو پنجاب ایم پی اے سارہ احمد، رکن قومی اسمبلی آسیہ ناز تنولی، ارکان پنجاب اسمبلی طاہرہ مشتاق، تحسین فواد اور رفعت عباسی، فاطمہ جناح ویمن یونیورسٹی کے شعبہ عمرانیات کی سربراہ ڈاکٹر عدیلہ، ایس ایس ڈی او کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سید کوثر عباس، ڈائریکٹر کوالٹی ایشورنس مریم جواد اور 100 سرکاری و نجی سکولوں کے سربراہان نے شرکت کی۔

اجلاس کے شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ بچوں کو بدسلوکی، تشدد اور استحصال سے محفوظ رکھنے کے لئے تعلیمی اداروں، والدین، سرکاری محکموں اور سول سوسائٹی کے درمیان مؤثر رابطہ کاری ناگزیر ہے۔ اس مقصد کے لئے حفاظتی پالیسیوں پر عملدرآمد، شکایات کی بروقت نشاندہی اور متاثرہ بچوں کو متعلقہ اداروں تک رسائی فراہم کرنے کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔وفاقی پارلیمانی سیکرٹری بیرسٹر دانیال چوہدری نے بچوں کے تحفظ کے حوالے سے عوامی آگاہی اور ادارہ جاتی تعاون کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کو محفوظ ماحول فراہم کرنے کے لئے اجتماعی کوششیں ضروری ہیں۔ انہوں نے ڈیجیٹل دنیا میں بچوں کو درپیش نئے خطرات کی روک تھام اور انہیں آن لائن نقصان دہ سرگرمیوں سے محفوظ رکھنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔چیئرپرسن چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو پنجاب ایم پی اے سارہ احمد نے بچوں کو بدسلوکی اور استحصال سے بچانے، خطرات سے دوچار بچوں کی بروقت نشاندہی اور ان کے تحفظ کے لئے متعلقہ اداروں کے موثر کردار کو اہم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ سکولوں، والدین اور متعلقہ حکام کے درمیان مضبوط رابطہ کاری کے ذریعے بچوں کے تحفظ سے متعلق مسائل کی بروقت نشاندہی اور رپورٹنگ کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اساتذہ اور والدین میں حفاظتی پالیسیوں اور دستیاب معاونتی خدمات سے متعلق آگاہی بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ ہر بچے کو محفوظ ماحول میں تعلیم حاصل کرنے اور اپنی صلاحیتیں نکھارنے کے مواقع میسر آ سکیں۔

رکن قومی اسمبلی آسیہ ناز تنولی نے بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے مضبوط ادارہ جاتی معاونت، عوامی آگاہی اور اجتماعی ذمہ داری کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کے لئے محفوظ ماحول کی فراہمی کے سلسلے میں قانون سازوں، تعلیمی اداروں، خاندانوں اور سول سوسائٹی کے درمیان اشتراک کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔رکن پنجاب اسمبلی طاہرہ مشتاق نے تعلیمی اداروں اور معاشرے میں بچوں کے تحفظ کو یقینی بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اساتذہ، والدین اور سکول انتظامیہ میں آگاہی پیدا کرنے کے ساتھ مؤثر حفاظتی پالیسیوں پر عملدرآمد اور شکایات درج کرانے کے واضح طریقہ کار کا قیام ضروری ہے تاکہ بچے خوف اور عدم تحفظ کے بغیر اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں۔ارکان پنجاب اسمبلی تحسین فواد اور رفعت عباسی نے بھی اجلاس میں شرکت کی اور بچوں کے تحفظ کے اقدامات کو مؤثر بنانے کے لئے قانون سازی، حکومتی اداروں اور دیگر متعلقہ شعبوں کے درمیان تعاون کی اہمیت کو اجاگر کیا۔فاطمہ جناح ویمن یونیورسٹی کے شعبہ عمرانیات کی سربراہ ڈاکٹر عدیلہ نے کہا کہ تعلیمی اداروں کی ذمہ داری صرف تعلیم فراہم کرنا نہیں بلکہ ایسا محفوظ ماحول قائم کرنا بھی ہے جہاں بچوں کے حقوق کا احترام کیا جائے اور انہیں تشدد، بدسلوکی اور استحصال سے محفوظ رکھا جا سکے۔ایس ایس ڈی او کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سید کوثر عباس نے کہا کہ بچوں کا تحفظ صرف کسی ایک ادارے کی ذمہ داری نہیں بلکہ اس کے لئے حکومت، تعلیمی اداروں، خاندانوں اور سول سوسائٹی کو مشترکہ اور مسلسل کوششیں کرنا ہوں گی۔

انہوں نے کہا کہ محض آگاہی پیدا کرنا کافی نہیں بلکہ بچوں کے تحفظ کے لئے عملی اقدامات، شکایات کے مؤثر نظام اور ادارہ جاتی جواب دہی کو یقینی بنانا بھی ضروری ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں بچوں کے تحفظ اور ان کی سلامتی سے متعلق مسائل کے حل کے لئے پوری حکومت اور پورے معاشرے کی مشترکہ حکمت عملی اپنانا ہوگی۔ ہر شہری کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کے تحفظ کے لئے اپنا کردار ادا کرے اور اس مقصد کے لئے جاری اقدامات کی حمایت کرے۔ ایس ایس ڈی او آنے والی نسلوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لئے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔ انہوں نے بتایا کہ پارلیمان کے ارکان کو بھی اس عمل میں شامل کیا جائے گا جبکہ متعلقہ صوبائی اسمبلیوں، قومی اسمبلی اور سینیٹ کی پارلیمانی کاکس برائے حقوقِ اطفال کے ذریعے بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے تعاون کو مزید مؤثر بنانے کی کوشش کی جائے گی۔ایس ایس ڈی او کی ڈائریکٹر کوالٹی ایشورنس مریم جواد نے اپنی پریزنٹیشن میں بچوں کے تحفظ سے متعلق آگاہی، ادارہ جاتی رابطہ کاری اور اجتماعی ذمہ داری کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بدسلوکی کی روک تھام اور بچوں کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لئے مربوط اقدامات کی ضرورت اجاگر کی۔اجلاس میں سکولوں کی انتظامیہ کے کردار پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔ شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ تمام تعلیمی اداروں میں بچوں کے تحفظ سے متعلق واضح پالیسیاں متعارف کرائی جائیں، اساتذہ اور والدین کو ضروری تربیت اور آگاہی فراہم کی جائے اور ایسے مؤثر طریقہ کار قائم کئے جائیں جن کے ذریعے کسی بھی خطرے یا شکایت کی بروقت نشاندہی، مناسب کارروائی اور ضرورت مند بچوں کو متعلقہ معاونتی اداروں تک رسائی فراہم کی جا سکے۔

ایس ایس ڈی او کی اس مہم کا مقصد سرکاری و نجی اداروں اور مقامی کمیونٹیز کو بچوں کے تحفظ کے مشترکہ مقصد کے لئے متحرک کرنا، حفاظتی اقدامات کو فروغ دینا اور بچوں سے متعلق شکایات کے مؤثر اور مربوط حل کے لیے ادارہ جاتی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔مہم اس عزم کی تجدید کرتی ہے کہ ہر بچے کو محفوظ، معاون اور تحفظ فراہم کرنے والا ماحول ملنا اس کا بنیادی حق ہے جبکہ بچوں کے حقوق کا تحفظ اور ان کے روشن مستقبل کو یقینی بنانا پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

 

مزید خبریں