سرحد پار دہشت گردی کے تدارک کے لئے علاقائی تعاون، مؤثر سرحدی انتظام اور انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ ناگزیر ہے، مقررین
سرحد پار دہشت گردی کے تدارک کے لئے علاقائی تعاون، مؤثر سرحدی انتظام اور انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ ناگزیر ہے، مقررین

مزید خبریں
اسلام آباد۔13اکتوبر (اے پی پی):انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز اسلام آباد (آئی ایس ایس آئی) کے زیر اہتمام بین الاقوامی کانفرنس کے مقررین نے دہشت گردی اور سرحد پار سکیورٹی خطرات سے نمٹنے کے لیے علاقائی و عالمی تعاون مضبوط بنانے، سرحدی انتظام مؤثر بنانے اور انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے پر زور دیا ہے۔ منگل کو جاری پریس ریلیز کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے ’’پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف بدلتی ہوئی صورتحال: تحریک طالبان پاکستان، سرحد پار خطرات اور علاقائی سلامتی‘‘ کے موضوع پر منعقدہ کانفرنس میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے اپنے کلیدی خطاب میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی گزشتہ چار دہائیوں کے دوران دی گئی عظیم قربانیوں کو اجاگر کیا۔ کانفرنس کے پہلے ورکنگ سیشن کی صدارت ڈاکٹر اشتیاق احمد نے کی۔ افغانستان میں پاکستان کے سابق سفیر ابرار حسین نے افغانستان میں عسکریت پسندوں کی محفوظ پناہ گاہوں اور تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے درمیان بڑھتے ہوئے عملی اشتراک کی نشاندہی کرتے ہوئے کابل کے ساتھ مربوط سفارتی رابطوں پر زور دیا۔ انہوں نے اس مقصد کے لئے چین، روس اور ایران کو بھی سفارتی کوششوں میں شامل کرنے کی ضرورت اجاگر کی۔
امریکی ادارے گلف اسٹیٹ اینالیٹکس کے بانی و سربراہ جیورجیو کافئیرو نے کہا کہ خلیجی ممالک پاکستان میں استحکام کے خواہاں ہیں اور کابل کے ساتھ روابط بھی برقرار رکھے ہوئے ہیں تاہم ان کے سفارتی رابطے تاحال طالبان پر مؤثر اثرورسوخ میں تبدیل نہیں ہو سکے۔ سینئر صحافی اور تجزیہ کار نسیم زہرہ نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر حکمت عملی کے لئے بھرتیوں کے بنیادی محرکات کا تدارک، قانون کے مطابق احتساب، آئینی سیاسی گنجائش اور شہری سطح پر انسدادِ دہشت گردی کی کوششیں ضروری ہیں۔ ڈاکٹر شبانہ فیاض کی زیر صدارت دوسرے ورکنگ سیشن میں افغانستان کے لئے پاکستان کے سابق خصوصی نمائندے سفیر آصف درانی نے افغانستان کے ساتھ مسلسل مذاکرات، سرحدی انتظام کو مؤثر بنانے اور جائز تجارت کے تحفظ پر زور دیا۔
آسٹریلیا کی رائل میلبورن یونیورسٹی سے وابستہ انسانی سلامتی اور بین الاقوامی سفارتکاری کے ماہر پروفیسر جوزف سیراکیوسا نے انٹیلی جنس کی بنیاد پر انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں، قانون کے مطابق احتساب، شدت پسندی ترک کرنے کے راستے فراہم کرنے اور دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کو عالمی سطح پر تسلیم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ لندن میں ایمبیسیڈر پارٹنرشپ ایل ایل پی کے شراکت دار سفیر جیمز واٹ نے قانون کی حکمرانی، ریاستی خودمختاری اور علاقائی تعاون کو اہم قرار دیتے ہوئے ابھرتے ہوئے سکیورٹی خطرات کا ذکر کیا۔
انہوں نے سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ پاکستان کے دفاعی معاہدے کو تزویراتی رابطہ کاری میں معاون قرار دیا۔ ڈاکٹر سلمیٰ ملک کی زیر صدارت تیسرے ورکنگ سیشن میں پاکستان کے سابق سیکریٹری خارجہ سفیر اعزاز احمد چوہدری نے دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں سے نمٹنے کے لئے عالمی تعاون بڑھانے اور اقوام متحدہ کی پابندیوں پر مؤثر عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا۔ نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) کے انسٹی ٹیوٹ آف پیس اینڈ کانفلکٹ سٹڈیز کے سربراہ میجر جنرل زاہد محمود نے بتایا کہ ستمبر 2026 کے دوران پاکستان میں عسکریت پسندوں کے 225 حملے ہوئے جو سرحدی انتظام اور علاقائی تعاون کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی کارروائیوں کا ہدف دہشت گردوں کا بنیادی ڈھانچہ ہے، افغان عوام نہیں۔امریکا کے سابق اسسٹنٹ سیکرٹری آف اسٹیٹ برائے سیاسی و عسکری امور بریگیڈیئر جنرل مارک کمیٹ نے امریکا اور پاکستان کے درمیان انسدادِ دہشت گردی کے شعبے میں عملی تعاون، علاقائی رابطہ کاری اور مشترکہ سکیورٹی مفادات کو وسیع تر جغرافیائی و سیاسی اختلافات سے الگ رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ کانفرنس کے اختتامی کلمات میں آئی ایس ایس آئی کے بورڈ آف گورنرز کے چیئرمین سفیر خالد محمود نے ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کے خطرات سے نمٹنے کے لئے انسدادِ دہشت گردی کا جامع نظام تشکیل دینے پر زور دیا۔
انہوں نے علاقائی امن کے لئے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے، مربوط کارروائیوں، ریاستی خودمختاری کے احترام اور دہشت گردی کو تزویراتی مقاصد کے حصول کے لئے استعمال کرنے کی مخالفت کو بنیادی اصول قرار دیا۔کانفرنس میں پاکستان اور بیرون ملک سے اعلیٰ پالیسی سازوں، سفارتکاروں، سکیورٹی ماہرین اور ماہرینِ تعلیم نے شرکت کی۔ شرکا نے خطے میں دہشت گردی کے بدلتے ہوئے منظرنامے، افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہوں سے پاکستان اور وسیع تر خطے کو لاحق خطرات اور ان چیلنجز سے جامع طور پر نمٹنے کے لئے علاقائی و عالمی شراکت داروں کے درمیان قریبی اور مسلسل تعاون کی ضرورت پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔








