وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت اجلاس ،بلوچستان سے آئندہ سال تک 25 ہزار نوجوانوں کو فنی تربیت فراہم کرنے کا منصوبہ منظور

وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت اجلاس ،بلوچستان سے آئندہ سال تک 25 ہزار نوجوانوں کو فنی تربیت فراہم کرنے کا منصوبہ منظور

کوئٹہ۔ 13 اکتوبر (اے پی پی):وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت بلوچستان ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی (بی ٹیوٹا)کے بورڈ کے گیارہویں اجلاس میں آئندہ سال تک صوبے کے 25 ہزار نوجوانوں کو مختلف شعبوں میں فنی تربیت فراہم کرنے کا منصوبہ منظور کرلیا گیا، جبکہ 30 ہزار نوجوانوں کو ہنر مند بنا کر بیرون ملک روزگار کے لیے بھجوانے کے پروگرام پر پیش رفت تیز کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں فنی تعلیم کے فروغ، نوجوانوں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے جاری اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے فنی تعلیم کی استعداد کار میں اضافے، اداروں کی رجسٹریشن اور نگرانی کے نظام کو موثر بنانے کے لیے انسٹی ٹیوٹ رجسٹریشن پورٹل کا افتتاح کیا۔ اس پورٹل کے ذریعے فنی تربیتی اداروں کی رجسٹریشن اور کارکردگی کی نگرانی کے نظام کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے سازگار ماحول کا فروغ ضروری ہے۔

فنی تعلیم اور ہنر مندی کا فروغ نوجوانوں کو معاشی خودمختاری کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو جدید تقاضوں اور مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق فنی تربیت فراہم کی جائے تاکہ وہ مقامی اور بین الاقوامی سطح پر روزگار حاصل کرکے اپنے خاندانوں کی معاشی حالت بہتر بنانے کے ساتھ ملکی ترقی میں بھی موثر کردار ادا کرسکیں۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ آئندہ سال تک فنی تربیت مکمل کرنے والے 25 ہزار نوجوانوں کو قومی اور عالمی معیشت کا حصہ بنانے کے لیے جامع حکمت عملی مرتب کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ تربیتی پروگراموں کو روزگار کی حقیقی ضروریات سے ہم آہنگ کرنا ضروری ہے تاکہ نوجوانوں کو محض تربیت فراہم کرنے تک محدود رکھنے کے بجائے انہیں عملی طور پر روزگار کے مواقع سے منسلک کیا جاسکے۔اجلاس میں 30 ہزار نوجوانوں کو مختلف شعبوں میں ہنر مند بنا کر بیرون ملک روزگار کے لیے بھجوانے کے پروگرام پر پیش رفت تیز کرنے پر بھی زور دیا گیا۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ نوجوانوں کی صلاحیتوں کو ہنر میں ڈھال کر انہیں ملکی اور عالمی سطح پر روزگار کے قابل بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لیے فنی تربیتی اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے، تربیت کے معیار کو یقینی بنانے اور متعلقہ اداروں کے درمیان موثر رابطہ کاری کو فروغ دیا جائے۔

اجلاس میں چیف منسٹر یوتھ اسکلز ڈویلپمنٹ پروگرام کے اہداف کے حصول میں سست روی کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ پروگرام پر عمل درآمد میں تاخیر اور مقررہ اہداف کے حصول میں غفلت برتنے پر ذمہ داروں کے خلاف کارروائی شروع کردی گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے ہدایت کی کہ فنی تربیت کے منصوبوں پر عمل درآمد تیز کیا جائے اور مقررہ اہداف کے حصول کے لیے متعلقہ اداروں کی کارکردگی کی باقاعدگی سے نگرانی کی جائے۔

وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان کے نوجوانوں میں بے پناہ صلاحیتیں موجود ہیں، جنہیں درست سمت میں بروئے کار لاکر صوبے کی معاشی ترقی اور خوشحالی کے لیے موثر کردار ادا کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ فنی تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت کے پروگراموں کو نتیجہ خیز بنایا جائے تاکہ نوجوانوں کو باعزت روزگار کے مواقع میسر آئیں، ان کی معاشی خودمختاری میں اضافہ ہو اور وہ قومی و عالمی معیشت کا فعال حصہ بن سکیں۔

مزید خبریں