وزیر داخلہ محسن نقوی سے روسی ہم منصب ولادیمیر کولاکولتسیف کی ملاقات، سکیورٹی اور انسدادِ جرائم میں دوطرفہ تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال

روس کے وزیر داخلہ ولادیمیر کولاکولتسیف نے وفاقی وزارت داخلہ کا دورہ کیا

اسلام آباد۔14اکتوبر (اے پی پی):روس کے وزیر داخلہ ولادیمیر کولاکولتسیف نے وفاقی وزارت داخلہ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے اہم ملاقات کی اور دونوں ممالک کے درمیان وفود کی سطح پر تفصیلی مذاکرات ہوئے، مذاکرات میں باہمی دلچسپی کے امور، مشترکہ مفادات کے شعبوں میں تعاون کے فروغ اور سکیورٹی معاملات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔وزارت داخلہ سے جاری بیان کے مطابق اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان منظم جرائم کی روک تھام کے لیے اشتراک کار اور معلومات کے تبادلے کے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔دونوں وزرائے داخلہ نے مجرمان کی حوالگی (ایکسٹراڈیشن) اور سزا یافتہ افراد کے تبادلے سے متعلق معاہدوں کو جلد حتمی شکل دینے سمیت ری ایڈمیشن معاہدے پر فوری عملدرآمد پر اتفاق کیا۔ اس کے علاوہ اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) اور روس کے متعلقہ اداروں کے مابین منشیات کی سمگلنگ روکنے کے لیے تعاون بڑھانے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ فریقین نے اس امر پر بھی اتفاق کیا کہ دونوں ممالک کی وزارت داخلہ کے ورکنگ گروپس جلد ایک دوسرے کے ملک کا دورہ کریں گے۔ملاقات میں پاکستان سے روس ہنر مند افرادی قوت (اسکلڈ ورک فورس) بھیجنے، سیاحوں اور تاجر برادری کے لیے ویزا کا حصول آسان بنانے، سائبر کرائم کی روک تھام اور نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد و روس کی پولیس اکیڈمی کے مابین تربیتی شراکت داری پر بھی غور کیا گیا۔وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ منظم جرائم کی روک تھام کا مجوزہ معاہدہ پاک روس باہمی تعاون کے فروغ میں اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ویزا نظام میں آسانیاں پیدا کرنے سے دونوں اقوام کے درمیان عوامی روابط اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ پاکستان سائبر کرائم کے سدباب کے لیے روس کی جدید تکنیکی مہارت اور تجربات سے استفادہ حاصل کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نےبتایا کہ اس وقت قریباً 1300 پاکستانی طلبہ روس کی مختلف جامعات میں زیر تعلیم ہیں اور پاکستان چاہتا ہے کہ مزید طلبہ اعلیٰ تعلیم کے لیے روس جائیں۔اس موقع پر روسی وزیر داخلہ ولادیمیر کولاکولتسیف نے کہا کہ دہشت گردی، منشیات کی اسمگلنگ اور غیر قانونی نقل مکانی سمیت تمام قسم کے منظم جرائم کی بیخ کنی کے لیے مشترکہ اور ٹھوس اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ روس نے مؤثر حکمت عملی اور اقدامات کی بدولت اپنے ملک میں سائبر کرائم کی شرح میں 33 فیصد نمایاں کمی حاصل کی ہے اور وہ اس میدان میں پاکستان کے ساتھ اشتراک کے خواہاں ہیں۔مذاکرات میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری، پاکستان میں تعینات روسی سفیر، اسپیشل و ایڈیشنل سیکریٹریز داخلہ، ڈی جی ایف آئی اے، کمانڈنٹ نیشنل پولیس اکیڈمی، آئی جی ایف سی، ڈی جی نیشنل فرانزک ایجنسی، ڈی جی این سی سی آئی اے، ڈی جی پاسپورٹ، چیف کمشنر اسلام آباد، آئی جی اسلام آباد پولیس اور دیگر اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔