اصلاحات کاعمل جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہیں،رواں مالی سال معاشی شرحِ نمو چار فیصد سے زیادہ رہنے کی امید ہے، سینیٹر محمد اورنگزیب

وفاقی وزیرِ برائے خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے اصلاحات کاعمل جاری رکھنے کے حوالے سے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہاہے کہ دیگر ممالک کے ساتھ شراکت داری میں امدادکی بجائے تجارت اور سرمایہ کاری کوترجیح دی جارہی ہے

اسلام آباد۔14اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیرِ برائے خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے اصلاحات کاعمل جاری رکھنے کے حوالے سے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہاہے کہ دیگر ممالک کے ساتھ شراکت داری میں امدادکی بجائے تجارت اور سرمایہ کاری کوترجیح دی جارہی ہے، رواں مالی سال کے دوران معاشی شرحِ نمو چار فیصد یا اس سے زیادہ رہنے کی امید ہے ۔انہوں نے یہ بات آئی ایم ایف اورعالمی بینک کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پربنکاک میں سٹی میکرو فورم کے اجلاس میں شرکت اور سٹینڈرڈ چارٹرڈ کے خودمختار سرمایہ کاروں کے گول میز اجلاس سے خطاب میں کہی۔وزیرخزانہ نے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو پاکستان کے معاشی منظرنامے اور اصلاحات کے حوالے سے ترجیحات بارے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہاکہ معاشی استحکام کے عمل میں مسلسل پیش رفت جاری ہے ، مسلسل تین سال سے بنیادی مالیاتی سرپلس حاصل ہورہاہے، مالیاتی خسارہ22 سال کی کم ترین سطح پرہے اور زرمبادلہ کے ذخائر مضبوط بنانے کےلئے اقدامات کئے جارہے ہیں،رواں مالی سال کے دوران معاشی شرحِ نمو چار فیصد یا اس سے زیادہ رہنے کی امید ہے۔وزیرخزانہ نے پاکستان کی بین الاقوامی کیپٹل مارکیٹس سے متعلق حکمتِ عملی بیان کرتے ہوئے پانڈا بانڈز، سکوک اور روپے میں مالیت مگر ڈالر میں ادائیگی والے بین الاقوامی بانڈ کے اجرا کے منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ مالی وسائل کے ذرائع میں تنوع، قرض لینے کی لاگت کم کرنے اور قرضوں کی ادائیگی کی مدت بڑھانے کےلئے اقدامات کئے جارہے ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت پیش رفت، ٹیکس نیٹ میں توسیع، قوانین پر موثر عملدرآمد اور مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے صوبوں کے ساتھ موثر رابطہ کاری ہورہی ہے ۔ مشرقِ وسطیٰ کے تنازعے کے اثرات پر بات کرتے ہوئے وزیرِ خزانہ نے توانائی کی فراہمی برقرار رکھنے اور موجودہ بجٹ مختص رقوم کے اندر رہتے ہوئے کمزور طبقات کو ہدفی ریلیف فراہم کرنے کے اقدامات بیان کیے۔ اجلاس میں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کی صلاحیت، آفات سے نمٹنے کی تیاری اور ترقیاتی مالی معاونت کے موثر استعمال پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔وزیرِ خزانہ نے مسلسل اصلاحات کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا اور دیگر ممالک کے ساتھ شراکت داری میں امداد سے تجارت اور سرمایہ کاری کی جانب منتقلی کی اہمیت اجاگر کی۔ سینیٹر محمد اورنگزیب نے سٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک کے خودمختار سرمایہ کاروں کے اجلاس میں سرمایہ کاروں کو پاکستان کی معاشی پیش رفت سے بھی آگاہ کیا۔ وزیرخزانہ نے کہاکہ ڈھانچہ جاتی اصلاحات کاسلسلہ جاری ہے، مالیاتی نظم و ضبط کویقینی بنایاجارہاہے، ٹیکس قوانین پر موثر عملدرآمد اور آئی ایم ایف پروگرام کے بعد سرمایہ کاری اور برآمدات پر مبنی ترقی ہماری ترجیح ہے ۔ اجلاس میں زرمبادلہ کے ذخائر کو مضبوط بنانے، مہنگائی، بیرونی شعبے کی صورتِ حال، توانائی کے تحفظ، ہدفی ریلیف اور موسمیاتی مالی معاونت پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ وزیرِ خزانہ نے اصلاحات کاعمل جاری رکھنے اور پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ کو مزید بہتر بنانے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا