نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان اور عمان کے درمیان دوطرفہ تجارت، اقتصادی سرگرمیوں اور سرمایہ کاری کے فروغ کے وسیع مواقع موجود ہیں جن سے استفادے کے لیے مسلسل رابطے اور باقاعدہ مشاورت ضروری ہے
پاکستان اور عمان کے درمیان دوطرفہ تجارت، اقتصادی سرگرمیوں اور سرمایہ کاری کے فروغ کے وسیع مواقع موجود،مسلسل رابطے اور مشاورت ضروری ہے، نائب وزیر اعظم محمد اسحاق ڈار

مزید خبریں
اسلام آباد۔14اکتوبر (اے پی پی):نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان اور عمان کے درمیان دوطرفہ تجارت، اقتصادی سرگرمیوں اور سرمایہ کاری کے فروغ کے وسیع مواقع موجود ہیں جن سے استفادے کے لیے مسلسل رابطے اور باقاعدہ مشاورت ضروری ہے، پاکستان اور عمان کو علاقائی امن کے لیے فعال کردار ادا کرنا اور جاری تنازعات کے حل کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنی چاہئیں ، عمان کے وزیر خارجہ سید بدر بن حمد بن حمود البوسعیدی نے علاقائی سطح پر مذاکرات اور سفارت کاری کے فروغ کے لیے پاکستان کے تعمیری کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ خطے میں قیام امن کےلئے پاکستان کی کوششیں قابل تعریف ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان عمان مشترکہ وزارتی کمیشن کے 8ویں اجلاس میں افتتاحی کلمات ادا کرتے ہوئے کیا۔نائب وزیراعظم نے عمان کے وزیر خارجہ اور ان کے وفد کا پاکستان آمد پر خیرمقدم کیا اور صدر مملکت اور وزیراعظم پاکستان کی جانب سے عمان کے سلطان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور عمان کے درمیان مشترکہ وزارتی کمیشن کا اجلاس 7 سال بعد منعقد ہو رہا ہے، دونوں ممالک نے اتفاق کیا ہے کہ آئندہ اجلاسوں کے درمیان اتنا طویل وقفہ نہیں ہونا چاہیے تاکہ تجارت، اقتصادی سرگرمیوں اور سرمایہ کاری کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھایا جا سکے۔سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان محدود سطح کی ملاقات میں دوطرفہ دلچسپی کے مختلف شعبوں اور عالمی و علاقائی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا جن میں امریکا ایران جنگ، آبنائے ہرمز، باب المندب، فلسطین، غزہ اور جموں و کشمیر سمیت خطے کے دیگر اہم مسائل شامل ہیں۔انہوں نے علاقائی امن کے فروغ اور امت مسلمہ کے درمیان امن کے لیے عمان کی قیادت کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان ان کوششوں کا معترف ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ذاتی طور پر بھی عمانی قیادت کی کاوشوں کے قدر دان ہیں اور جانتے ہیں کہ اس مقصد کے لیے کتنی محنت کی گئی ہے۔نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور خلیج تعاون کونسل (جی سی سی)کے درمیان تعلقات منفرد نوعیت کے ہیں۔ دونوں ممالک اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی)، اقوام متحدہ اور دیگر کثیرالجہتی اداروں کے رکن ہیں اور مختلف امور پر قریبی رابطہ کاری اور تعاون کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور عمان کے سفارتی تعلقات کے قیام کو 55 سال ہو چکے ہیں، تاہم دونوں ممالک کے تعلقات کی جڑیں صدیوں پر محیط مشترکہ تاریخ، محبت اور باہمی احترام پر استوار ہیں۔ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان اور عمان کو علاقائی امن کے لیے فعال کردار ادا کرنا اور جاری تنازعات کے حل کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں کشیدگی کے باعث مشکلات واضح ہیں اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں توانائی کی سپلائی چین متاثر ہوئی ہے ۔نائب وزیراعظم نے کہا کہ خطے میں امن اور استحکام کی بحالی وقت کی اہم ضرورت ہے اور پاکستان اور عمان اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ سمیت مختلف عالمی معاملات میں عمان نے ہمیشہ پاکستان سے رابطہ کیا جبکہ پاکستان بھی عمانی قیادت کو صورتحال سے آگاہ رکھتا ہے۔ انہوں نے منیلا میں ہونے والی اپنی گزشتہ ملاقات کو بھی خوشگوار قرار دیا۔انہوں نے اعلان کیا کہ وہ 2027ء میں عمان کا دورہ کریں گے جہاں دونوں ممالک کے مشترکہ وزارتی کمیشن کا آئندہ اجلاس منعقد ہوگا۔اس موقع پر عمان کے وزیر خارجہ سید بدر بن حمد بن حمود البوسعیدی نے اپنے وفد کے ہمراہ اسلام آباد آمد پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور عمان کے درمیان تاریخ، ثقافت، روایات اور باہمی قربت کے مضبوط رشتے موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور عمان کے درمیان دوطرفہ روابط کا مقصد مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا اور دونوں ممالک کے عوام کے لیے زیادہ سے زیادہ فوائد کے مواقع پیدا کرنا ہے۔ عمانی وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان۔عمان مشترکہ وزارتی کمیشن کا آٹھواں اجلاس دوطرفہ تعاون کو آگے بڑھانے کا ایک اہم ذریعہ ہے، دونوں ممالک کی قیادت نے اجلاسوں کو زیادہ باقاعدگی سے منعقد کرنے کا مشترکہ عزم کیا ہے، باہمی ملاقاتوں اور رابطوں میں اضافے سے دونوں ممالک کی قیادت اور عوام کی توقعات کو پورا کرنے کے لیے زیادہ مؤثر پیش رفت ممکن ہوگی۔انہوں نے علاقائی سطح پر مذاکرات اور سفارت کاری کے فروغ کے لیے پاکستان کے تعمیری کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسے وقت میں جب کشیدگی میں اضافے کا خطرہ موجود ہو رابطوں، مکالمے اور باہمی افہام و تفہیم کو فروغ دینے کی کوششیں قابل قدر ہیں۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ مہینوں کے دوران پاکستان کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہیں جن سے بالخصوص ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے لیے گنجائش پیدا کرنے میں مدد ملی۔عمانی وزیر خارجہ نے اجلاس کی تیاریوں میں دونوں ممالک کے حکام کی محنت اور کوششوں کا اعتراف کرتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ اقتصادی تعاون پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ پاکستان اور عمان دونوں اہم اقتصادی تبدیلیوں کے عمل سے گزر رہے ہیں اور ان کے درمیان تجارت، لاجسٹکس، بندرگاہوں کے رابطوں، توانائی، غذائی تحفظ، ٹیکنالوجی اور سیاحت سمیت متعدد شعبوں میں تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ مشترکہ وزارتی کمیشن کا اجلاس دونوں ممالک کے درمیان بامعنی پیش رفت اور عملی تعاون کے فروغ کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم ثابت ہوگا







