حکومت نے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) 2026-27 کے تحت بنیادی ڈھانچے کے چھ بڑے منصوبوں کے لیے 12.75 ارب روپے مختص کیے ہیں جن کی مجموعی پی سی ون لاگت 1.065 ٹریلین روپے ہے
حکومت نے بنیادی ڈھانچے کے چھ بڑے منصوبوں کے لیے 12.75 ارب روپے مختص کر دیے،رپورٹ

مزید خبریں
اسلام آباد۔14اکتوبر (اے پی پی):حکومت نے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) 2026-27 کے تحت بنیادی ڈھانچے کے چھ بڑے منصوبوں کے لیے 12.75 ارب روپے مختص کیے ہیں جن کی مجموعی پی سی ون لاگت 1.065 ٹریلین روپے ہے۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق مختص رقم میں 9.60 ارب روپے مقامی فنڈنگ اور 3.15 ارب روپے غیر ملکی معاونت شامل ہے، ان منصوبوں میں بڑی شاہراہوں اور موٹرویز کی تعمیر، سرنگوں سے متعلق بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور سڑکوں کی تعمیر کے لیے اراضی کا حصول شامل ہے۔دستاویز کے مطابق مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی کے دوران مجموعی طور پر 199.4 ملین روپے کے فنڈز جاری کیے گئے جبکہ ریکارڈ شدہ اخراجات 53.48 ملین روپے رہے، جون 2026 تک ان چھ منصوبوں پر مجموعی اخراجات 505.698 ملین روپے تھے۔سب سے زیادہ 5 ارب روپے دریائے سندھ پر ڈیموں کی تعمیر کے باعث تھاکوٹ سے رائے کوٹ کے درمیان شاہراہ قراقرم کی منتقلی کے منصوبے کے لیے مختص کیے گئے ہیں،241 کلومیٹر طویل اس منصوبے کو چین کے ایگزام بینک کی مالی معاونت سے چلنے والے منصوبے کے طور پر درج کیا گیا ہے، اس کی پی سی ون لاگت 502.6 ارب روپے ہے جس کے باعث یہ چھ منصوبوں میں سب سے زیادہ لاگت والا منصوبہ ہے، اس کے لیے سالانہ مختص رقم میں 4.5 ارب روپے مقامی فنڈنگ اور 500 ملین روپے غیر ملکی معاونت شامل ہے۔ایک اور بڑا منصوبہ لاہور-ساہیوال-بہاولنگر موٹروے ہے جس کے لیے 435.72 ارب روپے کی پی سی ون لاگت کے مقابلے میں 2 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔اس منصوبے کے تحت 295 کلومیٹر طویل موٹروے کی تعمیر کے ساتھ 18 کلومیٹر طویل رابطہ سڑک بھی تعمیر کی جائے گی جو لاہور رنگ روڈ کے راجہ جنگ انٹرچینج کو قصور روڈ سے ملائے گی۔دستاویز کے مطابق منصوبے کا نظرثانی شدہ پی سی ون منظوری کے مراحل سے گزر رہا ہے،نظرثانی شدہ خیبر پاس اکنامک کوریڈور (کے پی ای سی)منصوبے کے لیے مالی سال 2026-27 میں 2.5 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔عالمی بینک کی مالی معاونت سے جاری اس منصوبے کی پی سی ون لاگت 77.91 ارب روپے ہے جبکہ جون 2026 تک اس پر مجموعی اخراجات 214.38 ملین روپے تھے۔شاہراہ قراقرم کی منتقلی، لاہور-ساہیوال-بہاولنگر موٹروے اور خیبر پاس اکنامک کوریڈور کے تین منصوبوں کے لیے مجموعی طور پر 9.5 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جو چھ منصوبوں کے لیے مختص مجموعی سالانہ رقم کا تقریباً 74.5 فیصد بنتے ہیں،باقی 3.25 ارب روپے لواری ٹنل، چکدرہ-چترال روڈ اور شاہراہ قراقرم کی منتقلی کے لیے اراضی کے حصول سے متعلق تین منصوبوں کے لیے مختص کیے گئے ہیں،اس رقم میں سے 2 ارب روپے لواری ٹنل سے متعلق برقی اور مکینیکل کاموں اور پلوں کی تعمیر کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔اس منصوبے کی پی سی ون لاگت 33.25 ارب روپے ہے اور یہ اس وقت خریداری کے مراحل میں ہے، چھ منصوبوں میں یہ واحد منصوبہ ہے جس کے لیے دستاویز میں پہلی سہ ماہی کے دوران فنڈز کے اجرا اور استعمال کے اعدادوشمار درج کیے گئے ہیں۔ اعدادوشمار کے مطابق مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی کے دوران 199.4 ملین روپے جاری کیے گئے جبکہ ان میں سے 53.48 ملین روپے خرچ کیے گئے۔چکدرہ-چترال روڈ منصوبے (این-45) کے سیکشن تھری جس میں 48 کلومیٹر طویل کلکٹک-چترال سیکشن شامل ہے، کے لیے 10.95 ارب روپے کی پی سی ون لاگت کے مقابلے میں 500 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں،اس منصوبے کو کوریا کے اقتصادی ترقیاتی تعاون فنڈ (ای ڈی سی ایف) کی مالی معاونت سے چلنے والے منصوبے کے طور پر شناخت کیا گیا ہے۔ اس کے لیے 50 ملین روپے مقامی فنڈنگ اور 450 ملین روپے غیر ملکی معاونت کی مد میں فراہم کیے جائیں گے۔ منصوبے کی موجودہ حیثیت بھی خریداری کے مراحل میں ظاہر کی گئی ہے۔ دوسری جانب تھاکوٹ سے رائے کوٹ کے درمیان شاہراہ قراقرم کی منتقلی سے متعلق اراضی کے حصول کے لیے 750 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں،اراضی کے حصول کے اس منصوبے کی پی سی ون لاگت 4.13 ارب روپے ہے اور اسے زیر کارروائی منصوبے کے طور پر درج کیا گیا ہے۔دستاویز کے مطابق چھ منصوبوں میں سے تین خریداری کے مراحل میں ہیں جبکہ لاہور-ساہیوال-بہاولنگر موٹروے کے نظرثانی شدہ پی سی ون کی منظوری ابھی باقی ہے۔دستاویز میں مجموعی واجبات 155.683 ملین روپے بھی ریکارڈ کیے گئے ہیں جبکہ پہلی سہ ماہی کے دوران جاری کیے گئے 199.4 ملین روپے کے مقابلے میں 53.48 ملین روپے استعمال ہوئے۔یہ اعدادوشمار پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت بنیادی ڈھانچے کے ان چھ منصوبوں کے لیے فنڈز کی فراہمی اور ان پر عمل درآمد کی صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں







