پاکستان اور عمان کے درمیان مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون مضبوط بنانے کےلئے پرعزم ہیں،نائب وزیراعظم سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی عمان کے وزیر خارجہ کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے پاکستان اور عمان کے درمیان مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم دونوں ممالک کی کاروباری برادریوں کے درمیان قریبی روابط کا خیرمقدم اور خصوصی اقتصادی زونز اور آزاد تجارتی زونز میں زیادہ سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں

اسلام آباد۔14اکتوبر (اے پی پی):نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے پاکستان اور عمان کے درمیان مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم دونوں ممالک کی کاروباری برادریوں کے درمیان قریبی روابط کا خیرمقدم اور خصوصی اقتصادی زونز اور آزاد تجارتی زونز میں زیادہ سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے مطابق سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے تحفظ کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہیں، خطے میں تنائو کی بجائے کشیدگی میں کمی، مذاکرات اور سفارت کاری ناگزیر ہے اور آبنائے ہرمز اور باب المندب کے ذریعے جہاز رانی کی سلامتی اور آزادی کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو سلطنت عمان کے وزیر خارجہ سید بدر بن حمد بن حمود البوسعیدی کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ سلطنتِ عمان کے وزیر خارجہ سید بدر بن حمد بن حمود البوسعیدی اور ان کے ہمراہ آنے والے وفد کو پاکستان آمد پر بے حد مسرت ہو ئی ہے، ان کا یہ دورہ پاکستان اور عمان کے مشترکہ وزارتی کمیشن کے آٹھویں اجلاس کے سلسلے میں ہے جو ابھی نہایت کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمان کے وزیر خارجہ کے ساتھ اس اجلاس کی مشترکہ صدارت کرنے کا اعزاز حاصل ہوا، ہماری بات چیت دوستانہ اور تعمیری ماحول میں ہوئی جو پاکستان اور عمان کے درمیان گہری دوستی، باہمی اعتماد اور برادرانہ تعلقات کی عکاسی کرتی ہے۔نائب وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے اپنے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا ۔انہوں نے کہا کہ آج ہم پاکستان اور عمان کے مشترکہ وزارتی کمیشن کے آٹھویں اجلاس کے پروٹوکول پر دستخط کریں گے، یہ پروٹوکول باہمی دلچسپی کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط اور وسعت دینے کے ہمارے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے، ہم سفارتی، خصوصی سروس اور سرکاری پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے باہمی ویزا استثنیٰ کے معاہدے پر بھی دستخط کریں گے، یہ ایک اہم پیش رفت ہے جو سرکاری سطح پر وفود کے تبادلوں میں سہولت فراہم اور دونوں برادر ممالک کے درمیان روابط کو مزید مضبوط بنائے گی۔ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ متعدد مفاہمتی یادداشتوں اور دوطرفہ معاہدوں پر بھی دستخط کیے جائیں گے جن میں خبروں اور معلومات کے تبادلے، مواصلات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی، تاریخی دستاویزات، ریکارڈ اور آرکائیوز کے انتظام اور ذرائع ابلاغ کے شعبے میں تعاون شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اجلاس کا ایک اہم نتیجہ متعدد مشترکہ ورکنگ گروپس کے قیام اور انہیں فعال بنانے کے ذریعے ادارہ جاتی تعاون کے نظام کو مضبوط بنانا ہے، ان ورکنگ گروپس میں تجارت اور سرمایہ کاری، زراعت، تیل و گیس، محنت اور انسانی وسائل کی ترقی کے شعبے شامل ہیں، یہ طریقہ کار باقاعدہ روابط اور مشترکہ وزارتی کمیشن کے فیصلوں پر مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم دونوں ممالک کی کاروباری برادریوں کے درمیان قریبی روابط کا خیرمقدم اور خصوصی اقتصادی زونز اور آزاد تجارتی زونز میں زیادہ سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ ہم نے اتفاق کیا ہے کہ جلد از جلد پاکستان میں کاروبار سے کاروبار کی سطح پر سرمایہ کاری اور فروغِ تجارت کے لیے ایک فورم منعقد کیا جانا چاہیے اور امید ہے کہ یہ فورم مستقبل قریب میں منعقد ہوگا۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم عمان میں مقیم پاکستانی برادری کی قابلِ قدر خدمات کو بھی تسلیم کرتے ہیں جو دونوں برادر ممالک کے درمیان ایک مضبوط پل کا کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشترکہ وزارتی کمیشن کے اجلاس میں دونوں فریقوں نے افرادی قوت کی نقل و حرکت، پیشہ ورانہ تربیت اور انسانی وسائل کی ترقی کے شعبوں میں تعاون مضبوط بنانے اور پاکستانی ہنرمند پیشہ ور افراد اور کارکنوں کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا، ہم نے خلیجی خطے کی بدلتی ہوئی صورت حال پر بھی تبادلہ خیال کیا اور تحمل، کشیدگی میں کمی، مذاکرات اور سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے آبنائے ہرمز اور باب المندب کے ذریعے جہاز رانی کی سلامتی اور آزادی کو یقینی بنانے کی ضرورت کو اجاگر کیا کیونکہ یہ راستے علاقائی اور عالمی غذائی اور توانائی کے تحفظ کے لیے انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمان خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے سفارتی کوششوں میں تعمیری کردار ادا کرنے کے اپنے عزم پر قائم ہے۔ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ وفد کے ساتھ بات چیت کے دوران ہم نے سعودی عرب پر حوثی حملوں کے حالیہ واقعات پر بھی تبادلہ خیال کیا، میں نے ان حملوں کی پاکستان کی جانب سے شدید مذمت کا اظہار کیا جن کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے، کئی افراد شہید بھی ہوئے جن میں ایک پاکستانی بھی شامل تھا جبکہ پانچ پاکستانی زخمی ہوئے۔نائب وزیراعظم نے واضح کیا کہ شہریوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانا کسی صورت قابلِ قبول نہیں عمان کے وزیر خارجہ نے بھی اس مؤقف کی مکمل تائید کی کہ اس طرح کے حملے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں اور علاقائی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ انہوں نے سعودی عرب کی قیادت اور عوام کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اعادہ کیا اور مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے مطابق سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے تحفظ کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔اسحاق ڈار نے کہاکہ ہم نے فلسطین کی سنگین صورت حال پر بھی تبادلہ خیال کیا، فلسطینی عوام اور ان کے ناقابلِ تنسیخ حقوق کے لیے پاکستان کی اصولی اور غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا، ہم نے غیر قانونی بستیوں کی مسلسل توسیع اور القدس الشریف کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششوں پر تشویش کا اظہار کیا،ہم نے غزہ کے عوام تک انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی کی فوری ضرورت پر زور دیا اور متعلقہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق منصفانہ اور دیرپا حل کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا۔انہوں نے کہا کہ عمان کے وفد کے ساتھ جموں و کشمیر کا معاملہ بھی اٹھایا جو ایک دیرینہ اور حل طلب بین الاقوامی تنازعہ ہے، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق اس تنازع کے منصفانہ اور پُرامن حل کے لیے پاکستان کے مطالبے کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے افغانستان کی صورت حال اور سندھ طاس معاہدے سمیت علاقائی پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال کیا، پاکستان نے اس امر پر زور دیا کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف کسی بھی سرگرمی کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے، سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے میں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بھارت کی جانب سے یک طرفہ طور پر اس معاہدے کو معطل رکھنے کا فیصلہ بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے اور مشترکہ آبی وسائل سے محروم کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، یہ اقدام پاکستان کے 25 کروڑ عوام کے آبی، غذائی اور توانائی کے تحفظ کے لیے خطرہ ہے۔ سلطنتِ عمان کے وزیر خارجہ سید بدر بن حمد بن حمود البوسعیدی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج اسلام آباد میں منعقد ہونے والے عمان اور پاکستان کے مشترکہ وزارتی کمیشن کے آٹھویں اجلاس نے دونوں ممالک، سلطنتِ عمان اور پاکستان کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی صورت حال کا جائزہ لینے اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے طریقوں کی نشاندہی کے لیے واقعی ایک اہم موقع فراہم کیا۔انہوں نے کہا کہ نائب وزیراعظم سینیٹر محمد اسحاق ڈار کے ساتھ ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ تعلقات کی مضبوطی کا اعادہ کیا، یہ تعلقات مشترکہ تاریخ، جغرافیائی قربت، باہمی احترام اور دونوں ممالک کے عوام کے درمیان بڑھتے ہوئے اور پائیدار روابط پر مبنی ہیں، دونوں فریقوں نے اس مضبوط بنیاد کو مزید مستحکم کرنے اور ایسی شراکت داری کو آگے بڑھانے کے عزم پر زور دیا جو دونوں ممالک کی امنگوں اور ترجیحات پر پوری اترے۔انہوں نے کہا کہ بات چیت میں اقتصادی اور تجارتی تعاون بالخصوص تجارت اور سرمایہ کاری، بندرگاہوں کے رابطوں اور لاجسٹکس، توانائی، غذائی تحفظ، سیاحت، ٹیکنالوجی اور باہمی دلچسپی کے دیگر شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے پر توجہ مرکوز کی گئی، دونوں فریقوں نے تسلیم کیا کہ ان شعبوں میں موجود وسیع امکانات کو کاروباری اداروں، سرمایہ کاروں اور مجموعی معیشت کے لیے ٹھوس مواقع میں تبدیل کرنا اہم ہے۔ عمان کے وزیر خارجہ نے کہا کہ کمیشن کے اجلاس میں تعاون کے موجودہ شعبوں میں پیش رفت کا جائزہ لینے، متعلقہ ورکنگ گروپس کے مذاکرات کے نتائج پر غور کرنے اور دونوں ممالک کے درمیان رابطہ کاری کو مضبوط بنانے کے لیے عملی اقدامات پر غور کرنے کا موقع بھی ملا۔ انہوں نے کہا کہ مسلسل ادارہ جاتی روابط، نجی شعبے کے درمیان قریبی شراکت داری اور تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی اور عوامی سطح پر تبادلوں کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ علاقائی صورت حال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا اور علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مذاکرات، سفارت کاری اور تعمیری روابط کی اہمیت کو تسلیم کیا گیا، عمان اور پاکستان دونوں علاقائی چیلنجز سے نمٹنے، کشیدگی میں کمی اور امن و استحکام کے فروغ کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کو بنیادی اہمیت دیتے ہیں، ہم اس مؤقف پر متفق ہیں کہ اختلافات کے حل اور مزید کشیدگی کو روکنے کے لیے تعمیری روابط، باہمی تفہیم اور مسلسل سفارتی کوششیں انتہائی اہم ہیں، ہمارے دونوں ممالک ان اصولوں کی حمایت کے لیے مل کر کام کرنے اور ایسے طریقہ کار کی حوصلہ افزائی کے لیے پُرعزم ہیں جو محاذ آرائی کے بجائے مذاکرات کو ترجیح دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمان ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات سمیت، مکالمے کو آسان بنانے اور سفارتی کوششوں کی حمایت میں پاکستان کے تعمیری کردار کو حقیقی طور پر سراہتا ہے، ایسی کوششیں رابطوں کے مواقع پیدا کرنے، اعتماد سازی اور علاقائی چیلنجز کے پُرامن حل کو آگے بڑھانے کے لیے اہم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آٹھویں اجلاس نے دوطرفہ شراکت داری کو مزید گہرا کرنے اور باہمی فائدے کے مختلف شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے کے ہمارے مشترکہ عزم کی عکاسی کی ہے،دونوں ممالک کمیشن کے نتائج کو آگے بڑھانے اور آج پیدا ہونے والی پیش رفت کو برقرار رکھنے کے منتظر ہیں تاکہ ایک زیادہ متحرک، باہمی طور پر مفید اور مستقبل پر مرکوز تعلقات کو فروغ دیا جا سکے۔ اس موقع پر صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ ہم اس بات پر متفق ہیں کہ اس خطے میں استحکام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ عمان ہمارا ایک عزیز اور انتہائی اہم شراکت دار ہے جو ہمارے لیے خطے میں کلیدی اہمیت رکھتا ہے، عمان کا جغرافیائی محلِ وقوع اور پاکستان سے اس کی قربت یقیناً اسے خلیج تعاون کونسل تک رسائی کے لیے ہمارے لیے اہم بناتی ہے ، ہم نے چین اور وسطی ایشیا کے بارے میں بھی بات کی، یہ باہمی طور پر فائدہ مند تعاون ہے، عمان اور پاکستان ایک دوسرے کے قریب ترین ممالک میں شامل ہیں ، جہاں تک سمندروں کا تعلق ہے ہم ایک دوسرے کے بالکل سامنے واقع ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سید بدر بن حمد بن حمود البوسعیدی کی دعوت پر پاکستان آئندہ سال 2027 میں مشترکہ وزارتی کمیشن کا نواں اجلاس عمان میں منعقد کرے گا، ہماری یہ کوششیں دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ثابت ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری اداروں کے درمیان براہِ راست تعاون دوطرفہ تجارت کو فروغ دینے کی بنیاد ہے، ہمارے درمیان تجارتی حجم تسلی بخش ہے لیکن اس میں بہت زیادہ اضافہ کیا جا سکتا ہے، اس کے لیے دونوں ممالک کی کاروباری برادریوں کو ایک دوسرے کے ساتھ روابط قائم کرنے اور باہمی تعاون کے مواقع فراہم کرنا ضروری ہے۔ ایک سوال کے جواب میں عمان کے وزیر خارجہ سید بدر بن حمد بن حمود البوسعیدی نے کہاکہ امید ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان وسیع تر امور پر مذاکرات میںٰ پیش رفت مناسب وقت پر ہوگی کیونکہ یہ امور اس خطے میں جہاز رانی کی بحالی کے لیے بھی انتہائی اہم اور ناگزیر ہیں۔انہوں نے کہا کہ سلطنتِ عمان کی حیثیت سے ہم آزادانہ اور بلا رکاوٹ جہاز رانی کے لیے پُرعزم ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ اس خطے میں جہاز رانی دوبارہ بحال ہو کیونکہ عالمی معیشت اور خطے کے لیے اس کی اہمیت انتہائی زیادہ ہے، ہم ان مقاصد کے حصول کے لیے کی جانے والی ہر کوشش کی بھرپور حمایت کرتے ہیں

مزید خبریں