وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے موسمیاتی تبدیلیوں سےنمٹنے کے لیے عالمی تعاون کو فروغ دینے، عملی حل تلاش کرنے، ورچوئل گرین یونیورسٹی قائم کرنے، گرین اسٹارٹ اپس کے لیے فنڈ اور سرکاری وسائل سے تیار کردہ انفارمیشن ٹیکنالوجی تک مشترکہ رسائی فراہم کرنے کی تجاویز پیش کی ہیں
گلیشئرز کے پگھلنے اور موسمیاتی آفات کے تباہ کن اثرات پاکستان کے شمالی پہاڑی علاقوں میں رہنے والی کمزور آبادیوں کو متاثر کر رہے ہیں، ڈاکٹر مصدق ملک

مزید خبریں
اسلام آباد/آئس لینڈ۔14اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے موسمیاتی تبدیلیوں سےنمٹنے کے لیے عالمی تعاون کو فروغ دینے، عملی حل تلاش کرنے، ورچوئل گرین یونیورسٹی قائم کرنے، گرین اسٹارٹ اپس کے لیے فنڈ اور سرکاری وسائل سے تیار کردہ انفارمیشن ٹیکنالوجی تک مشترکہ رسائی فراہم کرنے کی تجاویز پیش کی ہیں۔ آئس لینڈ میں آرکٹک سرکل اسمبلی 2026 سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ گلیشئرز کے پگھلنے اور موسمیاتی آفات کے تباہ کن اثرات بالخصوص پاکستان کے شمالی پہاڑی علاقوں میں رہنے والی کمزور آبادیوں کو متاثر کر رہے ہیں۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ ماحولیاتی نقصانات پر اظہار افسوس تک محدود رہنے کے بجائے ان مسائل کے عملی حل کے لیے مشترکہ اقدامات کرے۔ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ پاکستان کے پہاڑی علاقوں میں گلیشئرز کا پگھلنا خاموشی سے نہیں ہوتا بلکہ اس کے نتیجے میں بڑے پتھر گرنے، پانی کے تیز بہاؤ اور وادیوں میں تباہی کے باعث مقامی آبادیوں کو شدید نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔انہوں نےہنزہ کے علاقے حسن آباد کی رہائشی زارا کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ مئی 2022 میں درجہ حرارت بڑھنے اور گلیشئر کے پیچھے جھیل بننے کے بعد شِسپر گلیشئر ٹوٹ گیاجس سے مقامی آبادی کا نظام زندگی متاثر ہوا۔ انہوں نے کہا کہ زارا کے شوہر کھیتوں میں کام کر رہے تھے کہ گلیشئر ٹوٹنے کا واقعہ پیش آیا۔ انہوں نے گھر پہنچ کر اپنی اہلیہ اور بچوں کو بحفاظت نکال لیا تاہم ان کا گھر، مویشی اورسکولوں و کلینکس سمیت بنیادی سہولیات تباہ ہو گئیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ایسی آفات کے باعث کئی نسلوں کی محنت سے غربت سے نکلنے والے خاندان دوبارہ مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نگر اور ہنزہ کی حسن آباد وادی کے متاثرہ علاقوں میں ایک ماہ کے اندر تقریباً ایک ہزار گھرانے تباہی سے متاثر ہوئے۔انہوں نے نیپال میں اگست کے دوران پیش آنے والی گلیشیائی آفت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں آدھے گھنٹے کے اندر پانی کی سطح میں نو میٹر یعنی 27 فٹ اضافہ ہواجس سے پل، سڑکیں، ہسپتال اور دیگربنیادی ڈھانچہ متاثر ہوا۔انہوں نے بتایا کہ اس واقعے میں 600 اموات ہوئیں جبکہ بعض اندازوں کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر چکی تھی۔ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ پاکستان اور نیپال کے متاثرہ علاقوں کے تجربات موسمیاتی تبدیلیوں کے مشترکہ چیلنج کی عکاسی اور خطے سمیت دنیا بھر میں متاثرہ آبادیوں کےساتھ یکجہتی کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان گزشتہ 15 برسوں کے دوران پانچ بڑے سیلابوں کاسامنا کر چکا ہےجن کے نتیجے میں 6 ہزار افراد جاں بحق، 19 ہزار زخمی یا معذور اور چار کروڑ افراد بے گھر ہوئے۔ انہوں نے ایک ایسے سیلاب کا بھی حوالہ دیا جس کے باعث تین کروڑ 30 لاکھ افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ موسمیاتی آفات کے اثرات جانی نقصان اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی تک محدود نہیں بلکہ ان سے بچوں اور ماؤں کی اموات، روزگار کے ذرائع کے خاتمے اور تعلیم کاسلسلہ متاثر ہونے جیسے مسائل بھی جنم لیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بے گھر ہونے والے چار کروڑ افراد میں نصف تعدادسکول جانے کی عمر کے بچوں کی تھی جبکہ تین ماہ کی نقل مکانی کے باعث 1.8 ارب تعلیمی دن ضائع ہونے کا تخمینہ ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی کاربن اخراج میں صرف ایک فیصد حصہ ڈالتا ہےتاہم موسمیاتی تبدیلیوں کےباعث اسے بڑے پیمانے پر انسانی اور معاشرتی نقصانات برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ پاکستان کے پہاڑی علاقوں کے گلیشئرز، گرین لینڈ اور دیگر قطبی خطوں کے برفانی نظام ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور عالمی کرائیوسفیئر کا حصہ ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں آگاہ کیا گیا ہے کہ 1980 کی دہائی کے بعد سے پرانی برف کا 80 فیصد حصہ پگھل چکا ہے جبکہ گرین لینڈ میں بھی سینکڑوں ارب ٹن برف ضائع ہو چکی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان اعدادوشمار میں ممکنہ عدم درستگی کے باوجود موسمیاتی تبدیلیوں کا مشترکہ چیلنج اپنی جگہ موجود ہے۔وفاقی وزیر نےپالیسی سازوں اور محققین پر زور دیا کہ وہ پہاڑی اور قطبی علاقوں میں رہنے والی آبادیوں کے تجربات کو اہمیت دیں کیونکہ ان سے ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات سمجھنے اور مؤثر اقدامات کی تیاری میں مدد مل سکتی ہے۔انہوں نے گلیشئرز کے خاتمے پرافسوس کے اظہار کے بجائے مشترکہ تحقیق اور عملی اقدامات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئےورچوئل گرین یونیورسٹی قائم کرنے کی تجویز دی جہاں محققین وسائل اور تحقیقی سہولیات کا اشتراک کرتے ہوئے پہاڑی ماحول میں ہونے والی تبدیلیوں کا مطالعہ کر سکیں اور موسمیاتی اثرات سے نمٹنے کے لیے مؤثر حکمت عملی تیار کریں۔ڈاکٹر مصدق ملک نے بتایا کہ ان کی وزارت نے موسمیاتی تبدیلیوں کے حل کے لیے اختراعی منصوبوں پر کام کرنے والےسٹارٹ اپس کی معاونت کے لیے ایک کروڑ ڈالر کا فنڈ قائم کیا ہے۔ انہوں نے نوجوان کاروباری افراد اور محققین کے لیے گرین انوویشن ایکو سسٹم تشکیل دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ وہ عملی اور پائیدار حل تیار کر سکیں۔انہوں نے تجویز دی کہ سرکاری وسائل اور ٹیکس دہندگان کے پیسے سے تیار کردہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کو مشترکہ ڈیجیٹل کلاؤڈ کے ذریعے آئس لینڈ سمیت دیگر ممالک کے نوجوان اختراع کاروں کے لیے قابل رسائی بنایا جائے تاکہ وہ موجودہ ٹیکنالوجی اور وسائل سے فائدہ اٹھاتے ہوئے موسمیاتی مسائل کے حل کے لیے نئے طریقے وضع کر سکیں۔وفاقی وزیر نے اپنی تجاویز کا خلاصہ پیش کرتے ہوئے گرین یونیورسٹی، گرین انوویشن پلیٹ فارم اور مشترکہ ڈیجیٹل کلاؤڈ پر مشتمل ایک مربوط فریم ورک کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے خطاب کے اختتام پر اسمبلی کے شرکا پر زور دیا کہ وہ اپنی گفتگو کو عملی اقدامات میں تبدیل کریں اور موسمیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے مشترکہ ذمہ داری پوری کریں







