فاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ معمولی نوعیت کے جرم میں 500 روپے جرمانے کی سزا کسی امیدوار کو پولیس میں بھرتی سے مستقل طور پر محروم کرنے کی بنیاد نہیں بن سکتی خصوصاً جب امیدوار نے اپنے سابقہ مجرمانہ ریکارڈ کو نہیں چھپایا ہو۔جسٹس علی باقر نجفی نے تحریری فیصلے میں قرار دیا کہ معمولی نوعیت کے جرم کے ایسے نتائج نہیں ہونے چاہئیں جو کسی شخص …
معمولی جرم میں 500 روپے جرمانے کی سزا پولیس میں بھرتی کی راہ میں مستقل رکاوٹ نہیں بن سکتی، وفاقی آئینی عدالت

مزید خبریں
اسلام آباد۔16اکتوبر (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ معمولی نوعیت کے جرم میں 500 روپے جرمانے کی سزا کسی امیدوار کو پولیس میں بھرتی سے مستقل طور پر محروم کرنے کی بنیاد نہیں بن سکتی خصوصاً جب امیدوار نے اپنے سابقہ مجرمانہ ریکارڈ کو نہیں چھپایا ہو۔جسٹس علی باقر نجفی نے تحریری فیصلے میں قرار دیا کہ معمولی نوعیت کے جرم کے ایسے نتائج نہیں ہونے چاہئیں جو کسی شخص کی پوری زندگی کو متاثر کریں،جرم کی نوعیت، سزا اور مستقبل میں مزید جرائم کے ارتکاب کے رجحان کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان اور جسٹس علی باقر نجفی پر مشتمل دو رکنی بنچ نے خیبر پختونخوا پولیس کے صوبائی سربراہ کی جانب سے دائر اپیل مسترد کرتے ہوئے ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔ عدالت نے قرار دیا کہ اپیل میں کوئی قابلِ سماعت قانونی جواز موجود نہیں، لہٰذا اپیل کی اجازت دینے کی استدعا مسترد کی جاتی ہے۔عدالتی فیصلے کے مطابق حنیف اللہ کو 2018 میں تھانہ تالاش، ضلع دیر لوئر میں درج مقدمے میں تعزیرات پاکستان کی دفعات 285 اور 286 کے تحت اعترافی بیان کی بنیاد پر 500 روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی تھی۔ یہ دفعات آگ یا آتش گیر مواد اور دھماکہ خیز مواد کے حوالے سے غفلت پر متعلق ہیں۔فیصلے میں کہا گیا کہ مذکورہ جرم سنگین جرائم یا اخلاقی پستی پر مبنی جرائم کے زمرے میں نہیں آتا۔ معمولی جرم کی سزا کو اس حد تک نہیں بڑھایا جا سکتا کہ کسی شخص کے سرکاری ملازمت حاصل کرنے کے امکانات ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائیں۔
جسٹس علی باقر نجفی نے فیصلے میں مزید کہا کہ اعترافِ جرم کرنے والے ملزم کو اعتراف کے قانونی نتائج سے آگاہ کئے بغیر زندگی بھر کے لئے ملازمت سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 243 کے تحت اعترافی بیان کی بنیاد پر سزا دینے کے معاملے میں بھی قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔عدالت نے قرار دیا کہ آئین کے آرٹیکل 10-اے کے تحت ہر شہری کو منصفانہ ٹرائل اور قانونی طریقۂ کار کا حق حاصل ہے۔ سزا جرم کی نوعیت کے متناسب ہونی چاہئے اور اس کے نتیجے میں کسی شخص کے بنیادی شہری حقوق غیر ضروری طور پر متاثر نہیں ہونے چاہئیں۔
فیصلے میں پولیس میں بھرتی کے لیے امیدوار کے اچھے کردار کی اہمیت بھی تسلیم کی گئی تاہم عدالت نے واضح کیا کہ موجودہ معاملے میں محض معمولی جرم کے اعتراف پر 500 روپے جرمانے کی سزا کو پولیس میں بھرتی پر مستقل پابندی کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔ عدالت کے مطابق دستیاب ریکارڈ میں حنیف اللہ عادی مجرم بھی نہیں تھا۔پشاور ہائی کورٹ کے مینگورہ بنچ نے 15 مارچ 2023 کو حنیف اللہ کی درخواست منظور کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی تھی کہ اسے کانسٹیبل کی آسامی کے لئے زیرِ غور لایا جائے۔ وفاقی آئینی عدالت نے 5 مئی 2026 کے فیصلے میں خیبر پختونخوا پولیس کے صوبائی سربراہ کی اپیل مسترد کر دی۔








