اقوام متحدہ کا حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لیے عالمی اقدامات تیز کرنے پر زور
اقوام متحدہ کا حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لیے عالمی اقدامات تیز کرنے پر زور

مزید خبریں
اقوام متحدہ ۔17اکتوبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لیے عالمی سطح پر فوری اور مؤثر اقدامات تیز کرنے پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ قدرتی ماحول اور انواع کے تحفظ کی کوششیں طے شدہ عالمی اہداف سے بہت پیچھے ہیں۔آرمینیا کے دارالحکومت یریوان میں عالمی رہنماؤں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے ممالک پر زور دیا کہ وہ حیاتیاتی تنوع کے کنونشن کے فریقین کی 17ویں کانفرنس (کوپ 17) سے قبل عملی اقدامات، رفتار اور سیاسی عزم میں اضافہ کریں۔ کانفرنس 19 سے 30 اکتوبر تک منعقد ہوگی۔
انتونیو گوتریش نے کہا کہ 2030 کے اہداف کے حصول کے لیے مقررہ مدت کا نصف گزرنے کے قریب ہے، اس لیے یریوان اجلاس عالمی وعدوں پر پیش رفت کا جائزہ لینے اور جواب دہی یقینی بنانے کا اہم موقع ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ موسمیاتی تبدیلی، غیر مقامی حملہ آور انواع، قدرتی وسائل کے بے دریغ استعمال اور آلودگی کے باعث 10 لاکھ سے زائد انواع کو معدومیت کا خطرہ لاحق ہے۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ 2022 میں منظور کیے گئے کنمنگ مونٹریال عالمی حیاتیاتی تنوع فریم ورک میں قدرتی ماحول کے تحفظ کا واضح لائحہ عمل پیش کیا گیا تھا، تاہم اس پر پیش رفت غیر یکساں اور انتہائی سست ہے۔
انہوں نے بتایا کہ حیاتیاتی تنوع کے کنونشن کے تقریباً 90 فیصد فریق ممالک نے قومی اہداف مقرر کر لیے ہیں، جبکہ نصف سے زائد ممالک ان پر عملدرآمد کے منصوبے بھی تیار کر چکے ہیں۔ ان کے مطابق 2022 کے بعد مزید 13 لاکھ مربع کلومیٹر زمینی اور 60 لاکھ مربع کلومیٹر سمندری رقبے کو باضابطہ طور پر تحفظ کے دائرے میں شامل کیا گیا ہے۔تاہم انہوں نے کہا کہ اگر ممالک اپنے موجودہ وعدے پورے بھی کر لیں تو 2030 تک صرف 26 فیصد زمینی اور 12 فیصد سمندری رقبہ محفوظ ہو سکے گا، جو زمین اور سمندر کے 30، 30 فیصد رقبے کے تحفظ کے عالمی ہدف سے کم ہے۔
انتونیو گوتریش نے حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لیے مالی وسائل کی کمی کو بھی ایک بڑی رکاوٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اقتصادی تعاون و ترقی کی تنظیم (او ای سی ڈی) کی رپورٹ کے مطابق اس شعبے کے لیے دستیاب مالی اعانت عالمی فریم ورک کے تحت مقرر کردہ سالانہ 200 ارب ڈالر کے ہدف کے نصف سے بھی کم ہے۔انہوں نے کہا کہ حیاتیاتی تنوع کا بحران الگ تھلگ مسئلہ نہیں بلکہ اس کے موسمیاتی تبدیلی، تنازعات، غذائی عدم تحفظ اور بیماریوں سے گہرے روابط ہیں۔
انہوں نے حکومتوں، مالیاتی اداروں اور کاروباری شعبے پر زور دیا کہ وہ عالمی فریم ورک پر عملدرآمد تیز کریں، پائیدار زراعت کو فروغ دیں، سرکلر معیشت کو وسعت دیں، ماحولیاتی نگرانی کا نظام مضبوط بنائیں اور موجودہ قوانین پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائیں۔








