اقوام متحدہ میں پاکستان کا سوڈان میں جنگ کے خاتمے پر زور، تنازع کا کوئی فوجی حل نہیں

اقوام متحدہ میں پاکستان کا سوڈان میں جنگ کے خاتمے پر زور، تنازع کا کوئی فوجی حل نہیں

اقوام متحدہ۔17اکتوبر (اے پی پی):پاکستان نے سوڈان میں جاری خانہ جنگی اور بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قوانین کا احترام کریں، کیونکہ تنازع کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔اقوام متحدہ میں پاکستان کے قائم مقام مندوب عثمان جدون نے سوڈان کی صورتحال پر سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کو تقسیم کرنا یا متوازی سیاسی اور حکومتی ڈھانچے قائم کرنا امن کی جانب پیش رفت کا راستہ نہیں بن سکتے۔انہوں نے کہا کہ سوڈان پاکستان کا برادر ملک ہے اور وہاں ریاستی اداروں کا تحفظ انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔

سوڈانی عوام کی شدید مشکلات اور کردفان میں جاری لڑائی اس خونریز تنازع کے خاتمے کی فوری ضرورت کو اجاگر کرتی ہے۔پاکستانی مندوب نے کہا کہ دارفور کے علاقوں الجنینہ اور الفاشر میں ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کی جانب سے کیے گئے مظالم اور کردفان میں مسلسل لڑائی اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ تنازع ختم کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پائیدار امن کے لیے سوڈان کی قیادت میں اور سوڈانی عوام کی ملکیت پر مبنی سیاسی عمل ضروری ہے، جس پر سوڈانی عوام کو اعتماد ہو اور جس میں سوڈانی حکام بھی شامل ہوں۔

عثمان جدون نے بین الاقوامی سطح پر ثالثی کی کوششوں میں بڑھتے ہوئے تعاون کا خیرمقدم کرتے ہوئے اقوام متحدہ، افریقی یونین، بین الحکومتی اتھارٹی برائے ترقی (آئی جی اے ڈی)، عرب لیگ اور یورپی یونین پر مشتمل پانچ فریقی گروپ کے مثبت کردار کو اجاگر کیا۔سوڈان سے متعلق اقوام متحدہ کی پابندیوں کے نظام، قرارداد 1591، کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پابندیوں کی مسلسل خلاف ورزیوں پر مناسب ردعمل دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پابندیوں کا مقصد سیاسی حل کی حمایت کرنا ہونا چاہیے، نہ کہ انہیں بذات خود مقصد بنا لیا جائے۔ پابندیاں سفارت کاری کا متبادل نہیں بن سکتیں اور نہ ہی ان کے ذریعے سوڈانی ریاستی اداروں کو کمزور کیا جانا چاہیے۔

مزید خبریں