وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ کسی سرکاری ملازم کے خلاف منفی کارروائی کے لیے ٹھوس شواہد، منصفانہ انکوائری اور قانونی تقاضوں کی پابندی ضروری ہے، جبکہ ہائیکورٹ انتظامیہ کے اختیارات استعمال کرتے ہوئے کسی افسر کی تعیناتی اور محکمانہ کارروائی کے معاملات میں اس کی جگہ نہیں لے سکتی۔
انکوائری میں قصور ثابت ہوئے بغیر پولیس افسر کے خلاف محکمانہ کارروائی نہیں ہو سکتی، وفاقی آئینی عدالت

مزید خبریں
اسلام آباد۔22اکتوبر (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ کسی سرکاری ملازم کے خلاف منفی کارروائی کے لیے ٹھوس شواہد، منصفانہ انکوائری اور قانونی تقاضوں کی پابندی ضروری ہے، جبکہ ہائیکورٹ انتظامیہ کے اختیارات استعمال کرتے ہوئے کسی افسر کی تعیناتی اور محکمانہ کارروائی کے معاملات میں اس کی جگہ نہیں لے سکتی۔
جسٹس روزی خان بریچ اور جسٹس سید ارشد حسین شاہ پر مشتمل بینچ نے پولیس افسر منیر سامو کی اپیل پر فیصلہ جاری کرتے ہوئے سندھ ہائیکورٹ کے سرکٹ کورٹ لاڑکانہ کے 30 جون 2026 کے حکم کا جائزہ لیا۔ جسٹس روزی خان بریچ نے تحریری فیصلہ تحریر کیا۔وفاقی آئینی عدالت نے تحریری تفصیلی فیصلہ میں قرار دیا کہ انکوائری رپورٹ میں انسپکٹر منیر احمد سامو کا مبینہ چھاپے میں ملوث ہونا ثابت نہیں ہوا تھا۔ رپورٹ کے مطابق ان کا کردار انٹیلی جنس رپورٹس جاری کرنے والے گروپ افسر تک محدود تھا اور ان کے خلاف مزید کارروائی کی سفارش بھی نہیں کی گئی تھی۔فیصلے کے مطابق سندھ ہائیکورٹ نے 16 اپریل 2026 کو معاملے کی انکوائری کا حکم دیا تھا۔
بعد ازاں ابتدائی انکوائری پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ایس ایس پی لاڑکانہ کو منصفانہ اور جامع تحقیقات کرنے کی ہدایت کی گئی۔ ہائیکورٹ نے 19 جون 2026 کو حکم دیا تھا کہ انکوائری رپورٹ جمع ہونے تک متعلقہ افسران کو کم از کم ایک سال کے لیے فیلڈ تعیناتی نہ دی جائے۔عدالت نے قرار دیا کہ ہائیکورٹ نے بعد کی انکوائری رپورٹ میں درج اہم نتائج اور سفارشات کو مناسب طور پر مدنظر نہیں رکھا۔ کسی سرکاری ملازم کے خلاف منفی انتظامی یا محکمانہ کارروائی کے لیے انکوائری کے نتائج سے مطابقت رکھنے والی وجوہات اور قانونی طریقۂ کار ضروری ہیں۔تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ آئین کے آرٹیکل 4 کے تحت ہر شخص کو قانون کے مطابق سلوک کا حق حاصل ہے، جبکہ آرٹیکل 10-اے منصفانہ سماعت اور قانونی تقاضوں کے مطابق کارروائی کی ضمانت دیتا ہے۔
کسی افسر کے خلاف فیصلہ کرنے سے پہلے اسے اپنا مؤقف پیش کرنے اور الزامات کا جواب دینے کا مناسب موقع دیا جانا چاہیے۔وفاقی آئینی عدالت نے واضح کیا کہ سرکاری ملازمین کی تعیناتی، فرائض کی تقسیم اور محکمانہ نظم و ضبط انتظامیہ کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔ عدالتیں انتظامی اقدامات کی قانونی حیثیت کا جائزہ لے سکتی ہیں، لیکن انتظامیہ کی جگہ لے کر خود انتظامی فیصلے نہیں کر سکتیں۔عدالت کے مطابق عدالتی نظرثانی کا مقصد غیر قانونی اقدامات کو قانون کے مطابق بنانا ہے، نہ کہ انتظامیہ کے اختیارات اپنے ہاتھ میں لینا۔








