زرعی پیداوار میں اضافے اور غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے سائنسی تحقیق کو کاشتکاروں کی ضروریات سے ہم آہنگ کرنے، زرعی صنعت کو مضبوط بنانے اور جدید زرعی اختراعات کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنا ناگزیر ہے۔ ان خیالات کا اظہار زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے وائس چانسلر ڈاکٹر ذوالفقار علی نے کراپ لائف پاکستان کے وفد سے ملاقات کے دوران کیا۔ ملاقات میں حیاتیاتی تحفظ کی …
زرعی یونیورسٹی فیصل آباد اور کراپ لائف پاکستان کا زرعی تحقیق،جدید ٹیکنالوجی اور غذائی تحفظ کے فروغ پر اتفاق

مزید خبریں
فیصل آباد۔ 22 اکتوبر (اے پی پی):ٖزرعی پیداوار میں اضافے اور غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے سائنسی تحقیق کو کاشتکاروں کی ضروریات سے ہم آہنگ کرنے، زرعی صنعت کو مضبوط بنانے اور جدید زرعی اختراعات کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنا ناگزیر ہے۔ ان خیالات کا اظہار زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے وائس چانسلر ڈاکٹر ذوالفقار علی نے کراپ لائف پاکستان کے وفد سے ملاقات کے دوران کیا۔ ملاقات میں حیاتیاتی تحفظ کی پالیسی اور جینیاتی طور پر تبدیل شدہ (جی ایم) اور روایتی فصلوں کی کاشت کے امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وائس چانسلر ڈاکٹر ذوالفقار علی نے کہا کہ زرعی یونیورسٹی صنعت کے ساتھ مشترکہ تحقیقی منصوبوں اور انکیوبیشن اقدامات کے لیے تیار ہے اور مکئی، چاول، کپاس، آلو، گندم اور لائیوسٹاک سمیت مختلف شعبوں میں پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے تکنیکی معاونت فراہم کر سکتی ہے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ تصدیق شدہ بیجوں کی پیداوار، پراسیسنگ کی سہولیات اور قابلِ اعتماد منڈیوں کے بغیر نئی فصلوں کو متعارف کرانے سے کاشتکاروں کو مالی نقصان پہنچ سکتا ہے اور جدید زرعی طریقوں کو اپنانے کی حوصلہ شکنی ہو سکتی ہے۔ انہوں نے زرعی ترقی کے لیے صنعت کے اشتراک سے چار نکاتی حکمت عملی پیش کی، جس میں کاشتکاروں کی تربیت اور عملی مظاہرے، مقامی حالات سے ہم آہنگ جدید ٹیکنالوجیز، جامعات اور صنعت کے درمیان تعاون اور غذائی تحفظ کو ترجیح دینا شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ چھوٹے کاشتکاروں کو مالی خطرات کا جائزہ لینے اور مقامی حالات کے مطابق جدید طریقے اپنانے کے لیے عملی تربیت فراہم کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے زرعی ٹیکنالوجیز سے متعلق غلط فہمیوں اور بے بنیاد معلومات کی روک تھام کے لیے سائنسی تحقیق کے نتائج درست انداز میں عوام تک پہنچانے میں میڈیا کے مؤثر کردار پر بھی زور دیا۔ کراپ لائف پاکستان کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر رشید احمد نے کہا کہ ان کا ادارہ ایسی معلومات اور ٹیکنالوجیز کے فروغ کے لیے کام کر رہا ہے جو زرعی پیداوار میں اضافے اور پائیدار زرعی ترقی میں معاون ثابت ہوں۔ انہوں نے مقامی تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ جینیاتی طور پر تبدیل شدہ مکئی کی ہائبرڈ اقسام نے معروف تجارتی ہائبرڈ اقسام کے مقابلے میں 10 سے 46 فیصد تک زیادہ پیداوار دی ہے جس سے کاشتکاروں کی آمدن اور ملک میں خوراک و چارے کے تحفظ کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔
کراپ لائف پاکستان کے سینئر وائس چیئرمین طلال حکیم نے کہا کہ ان کا ادارہ معیار کے سخت ضوابط اور حیاتیاتی تحفظ کے تقاضوں کی حمایت کرتا ہے تاہم ان کے مطابق ریگولیٹری فیصلے شفاف سائنسی جائزوں اور محققین، جامعات اور نجی شعبے کے متعلقہ فریقوں سے مشاورت کی بنیاد پر ہونے چاہئیں۔ ڈاکٹر عظیم اقبال خاں نے جی ایم فصلوں کے فروغ کے لیے مناسب منصوبہ بندی اور سائنسی بنیادوں پر ٹھوس اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ جامعات، تحقیقی اداروں، نجی کمپنیوں اور کاشتکاروں کو شامل کرکے مربوط حکمت عملی تشکیل دی جانی چاہیے جبکہ زرعی توسیعی خدمات کو مضبوط بنانے اور ٹیکنالوجیز کو مقامی زمینوں اور معاشی حالات سے ہم آہنگ کرنے پر خصوصی توجہ دینا ضروری ہے۔ ڈاکٹر بشریٰ سعدیہ نے کہا کہ قومی زرعی بائیوٹیکنالوجی پالیسی 2025ء پاکستان کی زراعت کو جدید، سائنسی بنیادوں پر استوار اور جدت سے ہم آہنگ بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی زرعی پیداوار بڑھانے، جدت کی حوصلہ افزائی، سرمایہ کاری کو فروغ دینے اور بائیوٹیکنالوجی کے ذمہ دارانہ اور مؤثر استعمال کو یقینی بنانے کے لیے ایک مضبوط لائحہ عمل فراہم کرتی ہے۔ کراپ لائف پاکستان کے وفد میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر رشید احمد، ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن احمد علی، سینئر وائس چیئرمین طلال حکیم اور رکن عرفان الحق شامل تھے جبکہ اس موقع پر زرعی یونیورسٹی کے چیئرمین شعبہ پلانٹ بریڈنگ اینڈ جینیٹکس ڈاکٹر عظیم اقبال خاں، ڈائریکٹر سینٹر فار ایڈوانسڈ اسٹڈیز ڈاکٹر بشریٰ سعدیہ، ڈائریکٹر ریسرچ ڈاکٹر سلطان حبیب اللہ، ڈائریکٹر فارمز ڈاکٹر محمد اسلم، ڈائریکٹر سیڈ سینٹر ڈاکٹر تحسین اظہر، ڈائریکٹر ایکسٹرنل لینکجز ڈاکٹر اقرار رانا، ڈاکٹر غلام مصطفیٰ اور دیگر بھی موجود تھے۔








