پاکستان میں آذربائیجان کے سفیر عرفان دائودوف کا آئی سی سی آئی کا دورہ، دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور صنعتی تعاون کو مزید فروغ دینے کی ضرورت پر زور

پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات کو ٹھوس اقتصادی فوائد میں تبدیل کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے پاکستان میں آذربائیجان کے سفیر عرفان دائودوف نے دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور صنعتی تعاون کو مزید فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا ہے

اسلام آباد۔22اکتوبر (اے پی پی):پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات کو ٹھوس اقتصادی فوائد میں تبدیل کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے پاکستان میں آذربائیجان کے سفیر عرفان دائودوف نے دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور صنعتی تعاون کو مزید فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کے دورہ کے دوران انہوں نے کہا کہ کاروباری اداروں کے درمیان منظم روابط، کاروبار سے کاروبار (بی 2 بی) ملاقاتوں اور نجی شعبہ کے مابین تعاون کو فروغ دے کر زراعت، سیاحت، صحت اور دیگر اہم شعبوں میں موجود مواقع سے بھرپور استفادہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔سفیر نے بتایا کہ آذربائیجان میں تقریباً 4 ہزار کمپنیاں کام کر رہی ہیں جو پاکستانی کاروباری اداروں کے لیے سرمایہ کاری اور تجارتی سرگرمیوں کے وسیع امکانات کی نشاندہی کرتی ہیں۔ انہوں نے لاجسٹکس، ٹیلی کمیونیکیشن، تیل و گیس کی تلاش، تعمیرات اور دیگر شعبوں کو باہمی تعاون کے لیے اہم قرار دیا۔

انہوں نے یقین دلایا کہ آذربائیجان کا سفارت خانہ دونوں ممالک کے کاروباری حلقوں کے درمیان روابط بڑھانے اور اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا۔آئی سی سی آئی کے صدر محمد ذکریا اکبر ضیاء نے اس حوالہ سے کہا کہ مضبوط دوطرفہ تعلقات کو عملی کاروباری نتائج میں تبدیل کرنے کے لیے مسلسل کاروباری روابط اور موثر تعاون ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی سی سی آئی دونوں ممالک کے کاروباری وفود کے تبادلوں، تاجروں کے درمیان روابط کے فروغ اور مشترکہ منصوبوں کے قیام میں سہولت فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اشتراک سے سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور صنعتی ترقی کے نئے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے علاقائی تجارت اور رابطہ کاری کے فروغ کے لیے افغانستان سمیت خطے میں امن و استحکام کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ آئی سی سی آئی کے سابق صدر ظفر بختاوری نے پاکستان، آذربائیجان اور ترکیہ کو دیرینہ دوستی، یکجہتی اور باہمی تعاون کے مضبوط رشتوں میں بندھے تین برادر ممالک قرار دیا۔

انہوں نے پاکستان آذربائیجان جوائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ مربوط اقدامات، ادارہ جاتی روابط اور کاروباری برادریوں کے درمیان مسلسل رابطے دونوں ممالک کے تاجروں کو نئی منڈیوں اور سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔آئی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر محمد اشفاق حسین چٹھہ نے کہا کہ متعلقہ اداروں کے درمیان موثر رابطہ کاری اور باقاعدہ کاروباری ملاقاتوں سے قابل عمل منصوبوں کی نشاندہی، تجارتی رکاوٹوں کے حل اور طویل مدتی شراکت داریوں کے قیام میں مدد مل سکتی ہے جس سے دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کو نئی رفتار ملے گی۔آئی سی سی آئی کی ایگزیکٹو کمیٹی کی رکن صدف عاصم عباسی نے طلبہ کے تبادلوں، تعلیمی تعاون اور خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانے کے شعبوں میں اشتراک کے امکانات اجاگر کیے۔ ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن ابرار الحق نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون کی اہمیت پر زور دیا جبکہ محمد خورشید نے سیاحت کے فروغ اور دونوں ممالک کے عوام کے درمیان روابط بڑھانے کے امکانات کو نمایاں کیا۔

اجلاس میں آئی سی سی آئی کے سابق صدر محمد اعجاز عباسی، ایگزیکٹو کمیٹی کے ارکان عباس ہاشمی، محمد عارف، مظہر حسین، ملک راشد طفیل اور محمد نعمان سمیت چیمبر کے سینئر اراکین وسیم چوہدری، نعمان بھٹی اور ڈاکٹر جویریہ اظہر نے بھی شرکت کی۔ شرکا نے اس عزم کا اظہار کیا کہ کاروباری ملاقاتوں، مشترکہ منصوبوں اور مختلف شعبوں میں تعاون کے ذریعے پاکستان اور آذربائیجان کے اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم بنایا جائے گا اور دونوں ممالک کی کاروباری برادریوں کے لیے نئے مواقع پیدا کیے جائیں گے۔

 

مزید خبریں