اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ دنیا بھر میں مسلح تنازعات خواتین اور لڑکیوں کے لیے زیادہ مہلک ہوتے جا رہے ہیں، گزشتہ سال تنازعات میں مارے جانے والے 37 ہزار سےزیادہ شہریوں میں ہر چار میں سے ایک خاتون یا لڑکی تھی، جو 2021 کے مقابلے میں دوگنا تناسب ہے۔اقوام متحدہ کی خواتین، امن اور سلامتی سے متعلق سالانہ رپورٹ کے مطابق تنازعات سے متاثرہ علاقوں میں روزانہ …
مسلح تنازعات میں خواتین اور لڑکیوں کی اموات کا تناسب 2021 کے مقابلے میں دوگنا ہو گیا، اقوام متحدہ کا انتباہ

مزید خبریں
اقوام متحدہ ۔27اکتوبر (اے پی پی):اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ دنیا بھر میں مسلح تنازعات خواتین اور لڑکیوں کے لیے زیادہ مہلک ہوتے جا رہے ہیں، گزشتہ سال تنازعات میں مارے جانے والے 37 ہزار سےزیادہ شہریوں میں ہر چار میں سے ایک خاتون یا لڑکی تھی، جو 2021 کے مقابلے میں دوگنا تناسب ہے۔اقوام متحدہ کی خواتین، امن اور سلامتی سے متعلق سالانہ رپورٹ کے مطابق تنازعات سے متاثرہ علاقوں میں روزانہ کم از کم 25 خواتین اور لڑکیاں موت کے منہ میں جار رہی ہیں، جبکہ جنسی تشدد کے واقعات میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور امن مذاکرات میں خواتین کو اب بھی خاطر خواہ نمائندگی نہیں دی جا رہی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس وقت تقریباً 75 کروڑ خواتین اور لڑکیاں فعال تنازعات والے علاقوں سے 50 کلومیٹر کے فاصلے کے اندر رہائش پذیر ہیں، جو 2024 کے مقابلے میں 4 کروڑ زیادہ اور 1990 کے بعد سب سے بڑی تعداد ہے۔اقوام متحدہ کی خواتین کے ادارے کی ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر نیارادزائی گومبونزوانڈا نے نیویارک میں رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ جنگ خواتین اور لڑکیوں کے لیے پہلے سے زیادہ مہلک ہو رہی ہے اور دنیا اسے جاری رہنے دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان خواتین کے لیے جنگ کوئی ایسی چیز نہیں جسے نظر انداز کیا جا سکے بلکہ یہ ان کے گھروں کی دہلیز تک پہنچ چکی ہے۔رپورٹ کے مطابق 2025 میں اقوام متحدہ نے تنازعات سے متعلق جنسی تشدد کے 9 ہزار 788 واقعات کی تصدیق کی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں دوگنا سے زیادہ اور 2022 کے مقابلے میں تقریباً چار گنا ہیں۔ ہیٹی میں جنسی تشدد کے رپورٹ شدہ واقعات میں 163 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تنازعات سے متاثرہ ملک میں حاملہ خاتون کے زچگی کے دوران موت کا خطرہ پُرامن ملک کی خاتون کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ ہوتا ہے۔ غزہ میں ہسپتالوں اور زچگی مراکز کی تباہی اور ضروری طبی سامان کی عدم دستیابی کے باعث زندہ بچوں کی پیدائش میں 41 فیصد کمی جبکہ اسقاطِ حمل کے واقعات میں 300 فیصد اضافہ ہوا ہے۔جنگ کے باعث خواتین کی غربت میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔
تقریباً 17 کروڑ خواتین اور لڑکیاں ایسے علاقوں میں رہتی ہیں جہاں مسلح تنازعات اور انتہائی غربت دونوں موجود ہیں، اور وہ روزانہ تین ڈالر سے بھی کم پر گزارا کرتی ہیں۔ تنازعات سے متاثرہ ممالک میں خواتین، مردوں اور لڑکوں کے مقابلے میں بلا معاوضہ نگہداشت کے کام پر پانچ گنا زیادہ وقت صرف کرتی ہیں۔رپورٹ میں آبادی والے علاقوں میں ڈرونز اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں کے بڑھتے ہوئے استعمال پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا، خصوصاً سکولوں، بازاروں اور ہسپتالوں پر حملوں کو شہریوں کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا گیا ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق خواتین کو امن کے قیام کی کوششوں میں بھی محدود مواقع حاصل ہیں۔ 2025 میں 57 امن مذاکراتی عمل کے دوران مذاکرات کاروں میں خواتین کا تناسب صرف پانچ فیصد رہا، جو اس سے پہلے سال کے مقابلے میں سات فیصد کم تھا۔ اسی عرصے میں طے پانے والے 13 جنگ بندی معاہدوں میں سے کسی ایک میں بھی تنازعات سے متعلق جنسی تشدد کی واضح ممانعت شامل نہیں تھی۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ گزشتہ سال عالمی فوجی اخراجات ریکارڈ 2.9 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئے، جبکہ بحران سے متاثرہ علاقوں میں خواتین کی تنظیموں میں سے 40 فیصد کو شدید مالی قلت کے باعث آئندہ سال عارضی یا مستقل طور پر بند ہونے کا خدشہ ہے۔
اقوام متحدہ کی خواتین کے ادارے کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر سیما باہوس نے کہا کہ کئی دہائیوں کے دوران اس وقت سب سے زیادہ خواتین اور لڑکیاں جنگوں سے متاثرہ علاقوں میں پھنس چکی ہیں، لیکن فوجی اخراجات مسلسل بڑھ رہے ہیں اور ترقیاتی امداد کم ہو رہی ہے۔ادارے نے خواتین اور لڑکیوں کے تحفظ، امن و سلامتی کے معاملات میں ان کی بامعنی شرکت، خواتین کی قیادت میں امن سازی کے اقدامات کے لیے مسلسل مالی معاونت اور جرائم پر سزا سے استثنا کے خاتمے پر زور دیا۔نیارادزائی گومبونزوانڈا نے کہا کہ جنگ انسانوں کا اپنا انتخاب ہے اور اسی طرح امن بھی انسانوں ہی کے انتخاب سے ممکن ہے۔







