بجلی کے شعبے میں گردشی قرضے میں کمی، حکومتی مالی معاونت 1180 ارب سے کم ہو کر 750 ارب روپے رہ گئی، اویس لغاری

وفاقی وزیر برائے توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا ہے کہ گزشتہ ڈھائی سال کے دوران بجلی کے شعبے میں گردشی قرضے میں نمایاں کمی ہوئی ہے، جبکہ بجلی کے شعبے کے لیے حکومتی مالی معاونت 1180 ارب روپے سالانہ سے کم ہو کر تقریباً 750 ارب روپے رہ گئی ہے

اسلام آباد۔27اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا ہے کہ گزشتہ ڈھائی سال کے دوران بجلی کے شعبے میں گردشی قرضے میں نمایاں کمی ہوئی ہے، جبکہ بجلی کے شعبے کے لیے حکومتی مالی معاونت 1180 ارب روپے سالانہ سے کم ہو کر تقریباً 750 ارب روپے رہ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے نقصانات میں کمی اور گردشی قرضے کی مالی اعانت کے لیے مؤثر اقدامات کیے گئے ہیں۔ منگل کو ایوان بالا میں سینیٹر عابد شیر علی کے توجہ دلاؤ نوٹس کا جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ وہ اس اہم عوامی مسئلے کی نشاندہی کرنے پر سینیٹر کے شکر گزار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے حقائق کو درست تناظر میں پیش کرنا ضروری ہے تاکہ عوام تک درست معلومات پہنچ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کے شعبے کا گردشی قرضہ 2400 ارب روپے سے کم ہو کر تقریباً 160 ارب روپے مزید کم ہوا ہے۔ گزشتہ ڈھائی سال کے دوران گردشی قرضے کی مالی اعانت کے لیے بھی ایک نیا طریقہ کار اختیار کیا گیا ہے، جس کے تحت قرضے کی ادائیگیوں کے نظام کو بہتر بنایا گیا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت گردشی قرضے کی مالی اعانت کے لیے ایک جامع منصوبے پر عمل پیرا ہے، جس کے تحت آئندہ چار سال میں قرضے کی مالی اعانت پر عائد فی یونٹ 3 روپے 23 پیسے کا بوجھ ختم کرنے اور گردشی قرضے کے خاتمے کی جانب پیش رفت متوقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے نقصانات اور بجلی کے بلوں کی عدم وصولی کے باعث قومی خزانے پر بوجھ پڑتا ہے، تاہم گزشتہ دو سے ڈھائی سال کے دوران ان نقصانات میں نمایاں کمی آئی ہے۔ ان کے مطابق بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے نقصانات میں کمی کے نتیجے میں بجلی کے شعبے کے لیے حکومتی بجٹ سے فراہم کی جانے والی مالی معاونت میں بھی کمی ہوئی ہے۔ اویس لغاری نے کہا کہ حکومت نے بجلی کے شعبے کے لیے مالی معاونت کا بوجھ کم کرنے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔ 2024 میں موجودہ حکومت کے قیام کے وقت پاور ڈویژن کو سالانہ تقریباً 1180 ارب روپے کی بجٹ معاونت فراہم کی جا رہی تھی، جو رواں سال کم ہو کر تقریباً 750 ارب روپے رہنے کی توقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کے کم استعمال کرنے والے صارفین کو فراہم کی جانے والی رعایت کے نظام میں بھی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ اس وقت 200 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو رعایتی نرخوں پر بجلی فراہم کی جاتی ہے، تاہم بعض ایسے صارفین بھی اس سہولت سے فائدہ اٹھا رہے ہیں جو مالی طور پر اس کے مستحق نہیں ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت ایسا نظام متعارف کرانے پر کام کر رہی ہے جس کے تحت بجلی پر رعایت کا تعین صرف ماہانہ یونٹس کی بنیاد پر کرنے کے بجائے صارفین کی آمدن اور مالی حیثیت کو بھی مدنظر رکھا جائے گا، تاکہ مستحق اور کم آمدن والے گھرانوں کو حقیقی ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ رعایت کا نظام اس انداز میں مرتب کیا جائے کہ مستحق صارفین کو کسی مخصوص مدت کے دوران بجلی کے استعمال میں معمولی اضافے کی وجہ سے طویل عرصے کے لیے رعایت سے محروم نہ ہونا پڑے۔ اس سلسلے میں متعلقہ اعداد و شمار اور مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ وفاقی وزیر نے امید ظاہر کی کہ مجوزہ اصلاحات سے بجلی کے شعبے میں مالی نظم و ضبط بہتر بنانے، حکومتی اخراجات کم کرنے اور کم آمدن والے صارفین کو زیادہ مؤثر ریلیف فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔

مزید خبریں