وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان کی زیر صدارت پاکستان پوسٹ آفس کا اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا جس میں پاکستان پوسٹل سروسز کے بنیادی مسائل،موجودہ خسارے،مالی مشکلات اور ان کے ممکنہ حل پر غور کیا گیا
وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان کی زیر صدارت پاکستان پوسٹ آفس کا اعلیٰ سطح اجلاس، پاکستان پوسٹل سروسز کے بنیادی مسائل،موجودہ خسارے،مالی مشکلات اور ان کے ممکنہ حل پر غور

مزید خبریں
اسلام آباد۔27اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان کی زیر صدارت پاکستان پوسٹ آفس کا اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا جس میں پاکستان پوسٹل سروسز کے بنیادی مسائل،موجودہ خسارے،مالی مشکلات اور ان کے ممکنہ حل پر غور کیا گیا۔
اجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر مواصلات نے کہا کہ ڈاک کے نظام کو ڈیجیٹلائز کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، گزشتہ 10 برسوں سے ڈیجیٹلائزیشن کا التواء تشویشناک ہے۔ انہوں نے اجلاس میں استفسار کیا کہ ایگزم بینک سے ڈیجیٹلائزیشن کے لئے معاملات کہاں اور کیوں التواء کا شکار ہوئے ہیں، دس سال کی تاخیر کیوں ہوئی پہلے مرحلے میں 86 بڑے پوسٹ آفسز کو ڈیجیٹائز کیا جا سکتا تھا،افسران کی کوتاہی کا نقصان پاکستان پوسٹ کے سارے ادارے کو ہو گا،پاکستان پوسٹ کے 22 ہزار ملازمین کی بقاء کے لئے قابل عمل پلان سامنے لانا ہوگا،مقابلے کی موجودہ فضا میں پاکستان پوسٹ کو نئی جہت کے ساتھ آگے آنا ہو گا،پاکستان پوسٹ میں اصلاحات نہ ہوئیں تو ادارے کا مستقبل مخدوش ہو جائیگا،ادارے کا بہتر بزنس پلان پاکستان پوسٹ کو منافع بخش بنا سکتا ہے۔
وفاقی وزیر نے پاکستان پوسٹ کے سینئر حکام کو وزیر اعظم کے لئے مربوط پروگرام کی تیاری کی ہدایت کی۔ عبدالعلیم خان نے کہا کہ پاکستان پوسٹ ’’فری سروسز‘‘ دینے کے باعث زوال کا شکار ہوا،پاکستان پوسٹ کی ری سٹرکچرنگ کے لئے ٹھوس نکات پر عمل پیرا ہونا ہو گا، 2023ء میں 4 ہزار فالتو اور مزید سٹاف کی بھرتی سے مالی بوجھ مزید بڑھ گیا۔اجلاس کے دوران وفاقی سیکرٹری مواصلات اور ڈائریکٹر جنرل پاکستان پوسٹ نے وفاقی وزیر مواصلات کو اہم امور پر بریفنگ دی۔








