مصنوعی ذہانت کااستعمال اور ایمرجنگ ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ ہونے کیلئے مزید اقدامات کی ضرورت ہے، علی ڈار

وزیر اعلیٰ پنجاب کے مشیر برائے خصوصی ذہانت اور اقدامات علی ڈار نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت کااستعمال احتیاط اور ذمہ داری سے کرنے اور ایمرجنگ ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ ہونے کیلئے مزید اقدامات کی ضرورت ہے

لاہور۔27اکتوبر (اے پی پی):وزیر اعلیٰ پنجاب کے مشیر برائے خصوصی ذہانت اور اقدامات علی ڈار نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت کااستعمال احتیاط اور ذمہ داری سے کرنے اور ایمرجنگ ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ ہونے کیلئے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔ وہ پنجاب یونیورسٹی شعبہ ڈیجیٹل میڈیا کے زیر اہتمام یونیسکو میڈیا اینڈ انفارمیشن لٹریسی ویک کے سلسلے میں منعقدہ تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ اس موقع پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد علی، پلڈاٹ کے سربراہ احمد بلال محبوب، سینئر صحافی سہیل وڑائچ، مزمل سہروردی،چیئرپرسن شعبہ ڈیجیٹل میڈیا پروفیسر ڈاکٹر سویرا شامی، فیکلٹی ممبران اور طلبا و طالبات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اپنے خطاب میں علی ڈار نے کہا کہ مصنوعی ذہانت ہر شعبہ زندگی کو متاثر کررہی ہے جس کے لئے اسے سیکھنا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیزسے استفادہ کرنے کیلئے اقدامات کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی دور میں نئی ٹیکنالوجیز کو قبولیت ملنے میں وقت لگتا ہے، مصنوعی ذہانت آسانیوں کے ساتھ چیلنجز بھی لاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسان ہونے کے ناطے ہمیں کسی بھی میڈیا کے استعمال میں اخلاقیات کی پاسداری کرنی چاہیے۔ پروفیسرڈاکٹر محمد علی نے کہا کہ موجودہ دور میں ڈیجیٹل میڈیا کی بہت اہمیت ہے اور ہمیں ذمہ دارصحافی پیداکرنے کے لئے بھرپور کردار اداکرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے گریجویٹس ذمہ دارشہری، مہارت یافتہ، باکردار،بااخلاق اور ٹیکنالوجی سے آشنا ہونے چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو آگے لے جانے کے لئے مصنوعی ذہانت اور نئی انرجی پر کام کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔انہوں نے بہترین موضوع پر منعقدہ تقریب پر پروفیسر ڈاکٹر سویرا شامی کی تعریف کی۔

سہیل وڑائچ نے کہا کہ ٹیکنالوجی انسان کے لئے آسانی پیدا کرتی ہے،جلد سیکھ کر ترقی کی جاسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ طلبا و طالبات اور معاشرے کے درمیان گیپ کو کم کرنے کے لئے ایسی سرگرمیوں کا انعقاد خوش آئند ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کے مثبت استعمال کے لئے قوانین ضروری ہیں۔ مزمل سہروردی نے کہا کہ سوشل میڈیا پر کوئی بھی پوسٹ بغیر تصدیق کے آگے نہیں بھیجنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ غلط معلومات پر مبنی پوسٹ سے لوگوں کی زندگیوں پر گہرے اور منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔احمد بلال محبوب نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے باعث آنے والے انتخابات اور جمہوریت کو چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہاکہ ہر ٹیکنالوجی اپنے ساتھ فائدے اور نقصانات لاتی ہے۔پروفیسر ڈاکٹر سویرا شامی نے کہا کہ جدیددور میں میڈیا انفارمیشن لٹریسی کی اشد ضرورت ہے جس کے لئے اسے نصاب کا حصہ بنانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جعلی خبروں کے تدارک کے لئے سکول کی سطح پر تعلیم دینے کی ضرورت ہے، آزادی اظہار رائے میں احتیاط برتنی چاہیے۔ اس موقع پر طلبہ کے مابین پوسٹر مقابلوں کا انعقاد کیا گیا جس میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے طلباطالبات کو تعریفی اسناد اور نقد انعامات دیئے گئے۔