وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ جعلی خبروں، گمراہ کن معلومات، منفی پروپیگنڈے اور سوشل میڈیا کے غلط استعمال کی روک تھام کے لیے حکومت بھرپور اقدامات کر رہی ہے
جعلی خبروں اور سوشل میڈیا کے غلط استعمال کی روک تھام کے لیے اقدامات کر رہے ہیں، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری

مزید خبریں
اسلام آباد۔27اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ جعلی خبروں، گمراہ کن معلومات، منفی پروپیگنڈے اور سوشل میڈیا کے غلط استعمال کی روک تھام کے لیے حکومت بھرپور اقدامات کر رہی ہے، سائبر جرائم کے بڑھتے ہوئے چیلنجز سے نمٹنے اور قانون کے مطابق کارروائی یقینی بنانے کے لیے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی قائم کی گئی ہے۔ منگل کو ایوان بالا میں سینیٹر انوشہ رحمان کے سوال کا جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ جعلی خبریں پھیلانے کے منفی اثرات پوری دنیا میں سامنے آ رہے ہیں اور پاکستان بھی اس مسئلے سے متاثر ہے۔ حکومت ان اثرات کو کم کرنے اور سوشل میڈیا کے غیر ذمہ دارانہ استعمال کی روک تھام کے لیے کوششیں کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کو موثر ضابطوں کے تحت لانا وقت کی اہم ضرورت ہے اور دنیا کے مختلف ممالک اس حوالے سے اقدامات کر رہے ہیں۔ چین بھی اپنے ہاں سوشل میڈیا کو اپنے قوانین اور ضوابط کے مطابق چلا رہا ہے۔ پاکستان بھی اس سلسلے میں مختلف ممالک کے تجربات اور اقدامات سے استفادہ کر رہا ہے۔ ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ پاکستان میں سوشل میڈیا کے ذریعے کسی بھی شخص کے خلاف الزامات عائد کرنا، جھوٹی خبریں پھیلانا اور منفی پروپیگنڈا کرنا آسان ہو گیا ہے جس کے معاشرتی سطح پر سنگین منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ بعض عناصر اس پلیٹ فارم کو ملکی مفادات اور ریاستی اداروں کے خلاف استعمال کرتے ہیں جبکہ جعلی خبروں کے ذریعے لوگوں کو بلیک میل کرنے جیسے واقعات بھی سامنے آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کے غلط استعمال کا مسئلہ محض معاشرتی نوعیت کا نہیں بلکہ اس کے دیگر پہلو بھی ہیں جن میں ریاستی اداروں کو نشانہ بنانا، ملکی مفادات کے خلاف پروپیگنڈا کرنا اور شہریوں کو مختلف طریقوں سے ہراساں کرنا شامل ہے۔ ان چیلنجز سے موثر انداز میں نمٹنے کے لیے متعلقہ اداروں کو فعال اور موثر بنانا ضروری ہے۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ ماضی میں سائبر جرائم سے متعلق معاملات وفاقی تحقیقاتی ادارے کے سائبر کرائم ونگ کے ذریعے دیکھے جاتے تھے تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ان جرائم کی نوعیت اور تعداد میں اضافے کے باعث نئے چیلنجز سامنے آئے۔ جعلی خبریں پھیلانے، منفی پروپیگنڈا کرنے اور لوگوں کو بلیک میل کرنے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی قائم کی گئی تاکہ سائبر جرائم سے متعلق معاملات کو مؤثر انداز میں نمٹایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ نئی ایجنسی کے قیام کا مقصد سائبر جرائم اور سوشل میڈیا کے منفی استعمال سے متعلق معاملات کی روک تھام اور ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرنا ہے۔ حکومت اس امر کے لیے کوشاں ہے کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو غیر قانونی سرگرمیوں کے لیے استعمال کرنے والوں کے خلاف موثر اقدامات کیے جائیں۔ ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے سینیٹر انوشہ رحمان کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات اور تکنیکی نکات کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ سائبر جرائم اور سوشل میڈیا کے غلط استعمال سے متعلق چیلنجز سے نمٹنے کے لیے متعلقہ اداروں کی استعداد کار اور قانونی اقدامات کو موثر بنانا ضروری ہے۔








